Latest News

بنگلہ دیش سے اننت ناگ کی ایم بی بی ایس طالبہ کی نعش واپس پہنچائی گئی علاقے میں صف ماتم کی لہر ، سینکڑوں کی موجودگی میں طالبہ آبائی علاقے پُر نم آنکھوں کیساتھ سپر د خاک

WebDesk

بنگلہ دیش سے اننت ناگ کی ایم بی بی ایس طالبہ کی نعش واپس پہنچائی گئی

علاقے میں صف ماتم کی لہر ، سینکڑوں کی موجودگی میں طالبہ آبائی علاقے پُر نم آنکھوں کیساتھ سپر د خاک

 

بنگلہ دیش میں ایم بی بی ایس کررہی جنوبی ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والی طالبہ کی ہوسٹل میں پُر اسرار موت کے بعد ان کی نعش سوموار کو آبائی علاقے میں پہنچائی گئی ۔ نعش جو نہی آبائی علاقے میں پہنچ گئی تو وہاں کہرام مچ گیا جبکہ خواتین سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھی گئی ۔ اسی دوران سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں طالبہ کو سپرد خاک کیا گیا ۔سی این آئی کے مطابق جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیلگام علاقے سے تعلق رکھنے والی قرة العین دختر علی محمد نامی طالبہ طاہر النساءمیڈیکل کالیج، غازی پور بنگلہ دیش میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کررہی تھی جہاں وہ پُر اسرار طور پر اپنے ہوسٹل کمرے میں مردہ پائی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ لڑکی اپنے ہوسٹل میں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی اور لڑکی کو اگرچہ اپنی ساتھی طالبات نے ہسپتال پہنچایا تاہم وہ مرچکی تھی۔ مذکورہ ایم بی بی ایس طالبہ کے لواحقین نے اس کی نعش کو حاصل کرنے کےلئے وزارت خارجہ سے اپیل کی تھی کہ نعش کو آبائی علاقے میں واپس پہنچانے کیلئے بنگلہ دیش حکام سے رابطہ کیا جائے ۔ والدین اور سیاسی لیڈران کی اپیل کے بعد مرکزی وزیر خارجہ سشما سوار ج نے بنگلہ دیش میں قائم بھارتی پائی کمیشن سے رابطہ کیا اور انہوں نے نعش کو واپس بھارت لیجانے کیلئے تمام تر انتظامات کو حمتی شکل دی ۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی شام طالبہ کی نعش بنگلہ دیش سے بھارت پہنچائی گئی جس کے بعد سوموار کی صبح ہوائی جہاز کے ذریعے نعش کو دہلی سے سرینگر پہنچایا گیا ۔ اسی دوران جونہی طالبہ کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گیا جبکہ اس کے والدین پر قیامت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں نعش پہنچائی گئی تو وہاں خواتین سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھی گئی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ طالبہ کی نعش کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا

CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply