Latest News

کانگریس کے لیڈر مودی کو اقتدار سے ہٹانے کےلئے پاکستان سے مدد مانگتے ہیں عمران خان کے بیان کے پیچھے کانگریس کی کوئی چال ہوسکتی ہے /نرملا سیتا رمن

WebDesk

کانگریس کے لیڈر مودی کو اقتدار سے ہٹانے کےلئے پاکستان سے مدد مانگتے ہیں

عمران خان کے بیان کے پیچھے کانگریس کی کوئی چال ہوسکتی ہے /نرملا سیتا رمن

 

وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے بیان کے پیچھے کانگریس کی کوئی چال ہوسکتی ہے ۔ جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں نریندر مودی کی سرکار پھر بنے گی تو مسئلہ کشمیر پر مذاکراتی عمل بحال ہوگا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مسئلہ کشمیر پر کوئی بات چیت شروع ہوسکتی ہے ۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کو لے کر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا بیان کانگریس کی چال ہو سکتی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دئیے انٹرویو میں سیتا رمن نے کہا” مجھے نہیں پتہ کہ ایسا بیان کیوں دیا گیا۔ یہ پارٹی نہیں بلکہ میرا نجی طور پر ماننا ہے کہ ہر بار ایسے بیان دئیے جاتے ہیں۔ کانگریس کے کئی معروف لیڈر وہاں( پاکستان) جا کر نریندر مودی کو ہٹانے میں مدد مانگتے رہتے ہیں۔ انہوں نے وہاں جا کر کہا تھا کہ نریندر مودی کو ہٹانے میں ہماری مدد کرو۔ مجھے شک ہے کہ کہیں یہ( عمران خان کا بیان) بھی کانگریس کے منصوبہ کا حصہ تو نہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کا کیا مطلب نکالا جائے“۔بتا دیں کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مسئلہ کشمیر پر کوئی راستہ نکل سکتا ہے اور اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہو پانا مشکل ہو گا۔ لیکن بی جے پی کی حکومت بننے پر کشمیر معاملہ پر کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔عمران خان کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا ” مودی کو ووٹ کرنا پاکستان کو ووٹ کرنے جیسا ہے۔ پاکستان نے رسمی طور پر مودی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے“۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی

CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply