Latest News

CNI News Bulletin (Urdu) 10th of May 2019

Web Desk

 امشی پورہ شوپیان میں مختصر خونین معرکہ آرائی ، حرکت المجاہدین کا اعلیٰ کمانڈر جاں بحق
سوپور میں احتجاجی ہڑتال اور پُر تشدد مظاہروں کے بیچ جاں بحق جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک
مہلوک جنگجو فورسز کو کوئی کارروائیوں اور گرینیڈ حملوں میں انتہائی مطلو ب تھا / پولیس
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  جنوبی ضلع شوپیان کے امشی پورہ فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین اعلیٰ الصبح مختصر خونین معرکہ آرائی میں حرکت المجاہدین سے وابستہ اعلیٰ کمانڈر جاں بحق ہو گیا ہے ۔ جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی سوپور میں مکمل ہڑتال ہوئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے سوپور اور شوپیان میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی ۔ اسی دوران جونہی شوپیان جھڑپ میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گئی تو وہاںتمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہی ۔ ادھر پولیس نے مختصر جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امشی پورہ رام نگری شوپیان میں جنگجوﺅں کی نقل و حمل کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی شوپیان نے جمعہ کی اعلیٰ صبح سحری سے قبل علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی فورسز نے علاقے میں تلاشی کارورائی شروع کی تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع کے مطابق جونہی مختصر جھڑپ کے بعد گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے ایک نعش بر آمد ہوئی جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ و گولی باردور بھی ضبط کیا گیا ۔ پولیس ترجمان نے علاقے میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق جنگجو فورسز کو کئی کیسوں میںا نتہائی مطلوب تھا ۔ پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز نے مشترکہ طورامشی پورہ رام نگری شوپیا ن کے علاقے کو محاصرے میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کی ۔ بیان کے مطابق جونہی علاقے میں تلاشی شروع ہوئی تو جنگجوﺅں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔پولیس کے مطابق سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک جنگجو، جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی ہے، جاں بحق ہوگیا۔بیان کے مطابق اشفاق احمد کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ ابتدائی طور پر مذکورہ جنگجو حرکت المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا۔ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے۔جاں بحق جنگجوعلاقے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کا تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی پیش پیش رہ چکا ہے۔ جاں بحق جنگجو پہلے گرفتار ہو چکا تھا اور اس کے بعدوہ ضمانت پر رہا ہوا پھر اس نے سال 2018میں دوبارہ جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق عسکریت میں دوبارہ واپسی کے بعد اس نے سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم رول نبھاتا رہا۔پولیس نے کہا کہ جائے جھڑپ پر سیکورٹی فورسز نے اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا ۔ اسی دوران جونہی شوپیان میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گی تو سوپور میں تمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوگیا۔اسی دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جونہی جاں بحق جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خا ک کیا گیا ۔ ( سی این آئی )
پاکستان دہشت گردی کےخلاف کارروائی کرکے مذاکرات کیلئے پرامن ماحول تیار کریں
حالات کچھ بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہی ہے تاہم امن کی باتےں خاموش ماحول میں ہی ہوسکتی ہیں/سشما سوراج
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  پاکستان پر بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دےنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے واضح کردےا کہ پاکستان کی ایسی کوشش کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائےگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب ان کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کاروائی کرنا ہوگی تاکہ پاک بھارت مذاکرات کیلئے پرامن ماحول فراہم ہوسکے ۔کرنٹ نیوز آف انڈےا مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنےادوں پر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو ایسے عناصرمل کر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کردےتے ہیں ۔جسکی وجہ سے صورتحال پھر مکدر ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتےں ایسی ہیں جو بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب آنے نہیں دینگے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان ہوا دے رہا ہے اور بھارت میں دہشت گردی کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے ۔مزید بتاتے ہوئے کہا کہ حالات چاہے کچھ بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہی ہے لیکن خاموش ماحول میں امن کی باتےں ہوسکتی ہیں جبکہ تشدد کے ماحول میں امن کی باتےں نہیں ہوسکتی ہیں ۔انہوں نے صاف کردےا کہ بھارت کی موجودہ حکومت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھارت سے کئی وعدے کئے مگر حقیقت میں وہ آج بھی دہشت گردی کو بھارت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برابر بھارت مخالف کاروائیوں کا مرتکب ہورہاہے اب اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہےں کیونکہ جہاں پہلے صرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مخالف کاروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتےں نہیں چاہتی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تاہم اس قسم کی صورتحال کیلئے پاکستان ذمہدار ہے اس لئے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ حالات خراب کرنے کی کوششوں کو ہوا نہ دیں بلکہ ایسی طاقتوں کو بے نقاب کرے جو دونوں ملکوں کے درمیان حالات ٹھیک ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سے بھارت بہتر تعلقات چاہتا ہے تاہم اس کے برعکس پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے تاہم بھارت برابر اپنے پڑوسےوں کے ساتھ بہتر رشتوں کا متمنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہر چیز پر بحث لازمی ہے لیکن پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات صرف اور صرف امن کے ماحول میں ہوسکتے ہیں لہٰذا امن کو ایک موقعہ دینا ہوگا تاکہ ہمیشہ کیلئے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے ۔( سی این آئی )
سرینگر جموں شاہراہ پر مسلسل دوسر ے روز بھی ٹریفک کی نقل و حمل معطل
شاہراہ پر دونوں جانب مال بردار و مسافر گاڑیاںدرماندہ، شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  سرینگر جموں شاہراہ پرگذشتہ روز رام بن کے قریب بھاری پسیاں گرآنے کے نتیجے میں کم سے کم آدھ کلو میٹر پتھروں اور مٹی کے تودوں کے تلے آئی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ کو ٹریفک کے نقل و حمل کےلئے مسلسل دوسرے روز بھی بند رکھاگیا ہے ۔ اس دوران شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام شدومد سے جاری ہے تاہم شاہراہ پر ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہیں جن میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں بھی شامل ہیں کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پرگذشتہ روز رام بن کے قریب بھاری پسیاں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کےلئے بند کردیا گیا جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ پر ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہوکے رہ گئیں ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس شاہراہ کو گذشتہ روز رامبن ضلع کے ڈگڈول علاقے میں بھاری پسی گر آنے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ٹریفک حکام کے مطابق بھاری پسی ہٹانے کا کام ابھی جاری تھا اس لئے شاہراہ مسلسل بند ہے۔حکام نے کہا کہ جب تک شاہراہ سے پسی کو پوری طرح نہیں ہٹایا جائے گا اوراس پر سفر کو محفوظ قرار نہیں جائے گا، تب تک بانہال یا ا ±دھمپور سے کسی بھی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر کئی مقامات پر کم و بیش تین ہزار گاڑیاں درماندہ پڑی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جموں کی طرف سے سرینگر آنے والی سینکڑوں مال بردار گاڑیاں بھی درماندہ ہے جن میں مختلف خوردنوش کی اشیاءجن میں بھیڑ بکریاں ، مرغ انڈے ،سبزیاں میوہ و دیگر اشیاءشامل ان مال بردار ٹرکوں میں موجود ہے اور اگر شاہراہ کو جلد ہی نہیںکھولا گیا تو یہ سب مال خراب ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل زیادہ تر بند ہی رہتی ہے کیوں کہ شاہراہ پر اکثروبیشتر پسیاں اور بھاری بھرکم چٹانیں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ ناقابل آمددورفت ہوجاتی ہے ۔( سی این آئی )
سرینگر کی تواریخی جامعہ مسجد میں نماز کے بعد نوہٹہ میں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں
ٹیر گیس شلنگ اور اندھادھند پلٹ گولیاں چلنے کے نتیجے میں 6سے زائد افراد زخمی ہوکر داخل ہسپتال
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  سرینگر کی تواریخی جامع مسجد شریف میں بعد از نماز جمعہ فورسز اور مظاہرین کے مابین ہوئی شدید جھڑپوں میں کم سے کم 6افراد خمی ہوئے ہیں ۔ جبکہ نوہٹہ، گوجوارہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں افراتفری اور کشیدگی کا ماحول پھیل گیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیاکے مطابق شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تواریخی جامع مسجد سرینگر میں آج نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئی جس کی وجہ سے علاقے میں سخت کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول پھیل گیا ۔ فورسز و مظاہرین کے مابین ہوئی جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم 6افراد ٹیر گیس شلوں اور پلٹ سے زخمی ہوگئے ہیں جن کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال علاج و معالجہ کےلئے پہنچایا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں جمعہ کو ا ±س وقت چھ افراد زخمی ہوگئے جب یہاں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق نماز جمعہ کے فوراً بعد مظاہرین نے نوہٹہ میں قائم تاریخی جامع مسجد کے باہر فورسز کو سنگباری کا نشانہ بنایا۔پولیس اور فورسز نے جوابی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائرنگ کی۔جس کے نتیجے کئی افراد کو چوٹیں آئی ہے ۔ مظاہرین و فورسز کے مابین ہوئی جھڑپوں کی وجہ سے نوہٹہ، گوجوارہ، راجوری کدل ، بہوری کدل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول قائم رہا اور دکانداروںنے اپنی دکانیں فوری طور پر بند کردی جگہ کئی ریڈہ بانوں نے اپنے ریڈ ے وہیں چھوڑ کر جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی۔ سی این آئی کے مطابق احتجاجی مظاہرین میں شامل افراد اسلام وآزادی کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے جبکہ احتجاجی مظاہرین این آئی اے کی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے تھے جبکہ مظاہرین نے تمام قیدیوں کو فوری طور پررہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔( سی این آئی )
محکمہ موسمیات نے طویل مدتی کلینڈر جاری کرتے ہوئے 10سے 15مئی تک بارشوں کی پیشن گوئی کی
مغربی ہواﺅں کے ریاست میں داخلہ سے اگلے چند دنوں تک موسم ابتر رہے گا، اہلیان وادی کو تیز ہواﺅں کا بھی سامنا رہے گا
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   محکمہ موسمیات نے طویل کیلنڈر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہلیاں وادی کو اگلے کئی روز تک ناسازگار موسمی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میٹرالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی پیشن گوئی کے مطابق 10مئی سے 15مئی تک وادی کے بالائی و میدانی علاقوں میں شدید و درمیانہ درجے کی بارشوں کا امکان ہے جبکہ گرج چمکنے کے ساتھ ساتھ تیز واﺅں بھی ہوسکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ موسمیات نے وادی کے بالائی و میدانی علاقوں میں بھاری سے درمیانہ درجے کی بارشوں کی پیشن گوئی کرتے ہوئے طویل مدتی کیلنڈر جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر ، جھار کھنڈ، ہماچل پردیش و دیگر ریاستوں میں مغربی ہواﺅں کے داخلہ کی وجہ سے لوگوںکو سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں 10مئی سے 15مئی تک شدید و درمیانہ درجے کی بارشیں ہوسکتی ہے جبکہ گرج چمکنے کے علاوہ تیز واﺅںکا بھی سامنا کرنے پڑے گا اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھاری اولہ باری کا بھی امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات نے جمعہ کو جموں کشمیر کے اندر اگلے پانچ دنوں تک بارش کی پیشگوئی کی۔ایک بیان میں محکمہ موسمیات نے کہا کہ کشمیر خطے کے اندر اگلے پانچ روز کے دوران بارشوں کا امکان ہے جبکہ جموں اور لداخ صوبوں میں بھی کہیں کہیں بارشیں ہوسکتی ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ برس ماہ نومبر میں قبل از وقت ہوئی بھاری برفباری کے بعد موسم لگاتار ابتر ہے اور ماہ اپریل میں کم سے کم 20دنوں تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ رواں ماہ کے دس دنوں میں بھی کم سے کم 5دن موسم ابتر رہا اور اب اگلے پانچ روز تک موسم پھر خراب رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے ۔ ( سی این آئی )
سری نگر مظفرآبادبس سروس ایک بار پھر ملتوی
مسافروں کی تشویش اور ماےوسی میںا ضافہ، آر پار ٹریول سینٹروں کی رونقیں ماند پڑ گئیں
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  نئی دہلی نے آئندہ ہفتے تےرہ مئی کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآبادبس سروس ایک بار پھر ملتوی کر دی آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں کی تشویش اور ماےوسی میں دن بدن اضافہ آر پار ٹریول سینٹروں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔سی این آئی کو ملی تفصیلات 25فروری2019ءکے بعد بھارتی حکام نے مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے سرینگر مظفرآباد بس سروس کو ایکیس اپریل تک معطل رکھا بائیس اپریل کے روز بھارتی حکام نے سری نگر مظفرآباد بس سروس جزوی طور پر بحال کی جس کے بعد کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے دو شہری وادی کشمیر آئے اٹھائیس اپریل کے روز کی بس سروس کے زریعے بھارتی حکام نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کشمیر میں پھنسے ہوئے تین مسافروں کو وآپس مظفرآباد بھیجا بائیس اور اٹھائیس اپریل کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآباد بس کے زریعے آر پار کے کسی بھی نئے مسافر کو سفر کرنے کی بھارتی حکام نے اجازت نہیں دی اٹھائیس اپریل کے روز پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے بھارتی کشمیر جانے والے تین مسافروں کو کنٹرول لائن سے بھارتی حکام نے وآپس کر دیا تھا آئندہ ہفتے پیر تیرہ مئی کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآباد بس سروس کو اچانک بھارتی حکام نے بغیر وجہ بتائے معطل کر دیا ہے جمعہ کے روز سرینگر پاسپورٹ آفس نے ایک ای میل کے زریعے مظفرآباد حکام کو آئندہ ہفتے تیرہ مئی کی بس سروس معطلی کے بارہ مےں باقائدہ آگاہ کےا۔( سی این آئی )
سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغن کرنے کےلئے محکمہ ٹورازم کے افسران کے ملکی و غیر ملکی دوروں پر کروڑوں خرچ
وادی کشمیر میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ، ہوٹل ، شکارے والے اور ہاوس بوٹ مالکان پریشان
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  کشمیر کی طرف سیاحوں کو راغب کرنے کےلئے محکمہ ٹوراز م کے افسران اگرچہ ملکی و غیر ملکی دورے کررہے ہیں تاہم ان دوروں پر زرکثیر خرچ کرنے کے بعد بھی وادی کشمیر میں سیاحت بلکل ٹھپ ہے جس کی وجہ سے ہوٹل و رستوران مالکان، شکارے والے ، ہاوس بوٹ والے ، ہینڈی کرافٹس سے جڑے تاجر اور دیگر متعلقہ افراد پریشان ہے ۔کئی افراد نے بینکوں سے قرضہ لیکر ہوٹل اور دکانات کرائے پر لیئے ہیں اور سیاحوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ وہ بینکوں کے قرضہ کو اداکرسکیں لیکن رواں برس کا پانچواں ماہ شروع ہونے کے بعد بھی یہاں سیاحوں کی تعداد کافی کم دکھائی دے رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کے افسران آئے روز ملی و غیر ملکی دوروں پر اسلئے کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں تاکہ وہ کشمیرٹورازم کو زندہ رکھ سکیں اور زیادہ سے زیادہ ٹورسٹوںکو کشمیر آنے پر آمادہ کریں تاہم ان دوروں پر کروڑوں روپے صرف ہونے کے باوجود بھی زمینی سطح پر کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے کشمیر سیاحت سے جڑے افراد بے حد پریشان ہے جن میں ہوٹل و رستوران والے، ہاوس بوٹ وشکارے والے، دستکار، ٹرارنسپورٹر اور دیگر متعلقہ افراد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اورانکے اہلخانہ فاقہ کشی کی کگار پر پہنچ گئے ہیں ۔ سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سیاحت سے جڑے افراد نے کہا ہے کہ محکمہ سیاحت اگر کشمیر کے حالات کے حوالے سے اشتہاری مہم چلاتے اور کشمیر آنے کی خواہش رکھنے والے افراد تک یہ پیغام پہنچ جاتا ہے کہ یہاںکے حالات بہتر ہے تو شائد تباہ حال ٹورزم کو بچایا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملکی و بیرون ملک دوروں پر زر کثیر خرچ کرنے کے بجائے اور اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں کو اشتہار ی مہم پر روپے خرچ کئے جاتے تو جو نیشنل میڈیا کشمیر کے حوالے سے منفی پروپگنڈا کررہا ہے اس پر کا اثر زائل ہوجاتا اور لوگ کشمیر کی طرف پھر رُخ کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔انہوںنے کہا کہ سیاحتی سیزن کاانتظار گزشتہ آٹھ ماہ سے تھا اورجب موسم اور حالات بہتر ہوئے تو بھی سیاح یہاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر ٹورزم سے وابستہ افراد نے بینکوں سے قرضہ لیکر ہوٹل کرائے پر لئے ہیں ۔مال اوردکانیں لے لی ہے تاہم سیاحوں کا کشمیر کی طرف منفی رجحان سے انہیں بھاری نقصانات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سرکار بھی کشمیر سیاحت کو بچانے کےلئے کوئی ٹھوس اقداما ت نہیں اُٹھارہی ہے ۔( سی این آئی )
محکمہ بجلی کی جانب سے ماہ مبارک میں بھی غفلت شعاری۔
ضلع کپوارہ میں بجلی کا ہا ہا کر ، ڈپٹی کمشنر کپوارہ سے مداخلت کی اپیل
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   سرحدی ضلع کپوارہ میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ خاص کر سحری اور افطار کے اوقات میں ضلع کے اکثر علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مقامی لوگوںنے اس حوالے سے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیڈول مرتب کرنے والے نے ماہ رمضان کے مطابق شیڈول مرتب نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے ماہ مبارک میں بھی لوگ بجلی سے محروم ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ضلع کپوارہ میں محکمہ بجلی نے ایک ایسا شیڈول بنایا ہے جس سے یہ لگ رہا ہے کہ شیڈول بنانے والے نے ماہ رمضان کا کوئی خیال ہی نہیں رکھا ہے کیونکہ بجلی اسی وقت چلی جاتی ہے جس وقت بجلی کی کافی ضرورت ہوتی ہے خاص کر افطار اور سحری کے وقت بجلی نہیں ہوتی ہے۔ لوگوں میں اس حوالے سے کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ عام طور پورے ضلع کپوارہ میں اس مشکلات سے دوچار ہے جن میں سے خاص کر درگمولہ ، مقام شاہ ولی ، اندرہامہ ، آوورہ ، میر مقام ، آلاچیزب ، ترہگام ، لولاب کے سوگام سیور ، دیور لولاب ، ورنو آفن ، لال پورہ ، کرالپورہ ، آلوسہ ، پنزگام ، شمناگ ، گگلوسہ ، خاص طور قابل ذکر ہیں۔لوگ کافی پریشانوں کا سامنا کررہے ہیں۔ حکومت سے بار بار التجا کرتے ہوئے لوگ اب تنگ آچکے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ اس طرف کوی خاص توجہ نہیں دیتی کیونکہ انکی کوٹھوں میں سپےشل سروس چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہے انہیں عوام کا دکھ درد دکھائی نہیں دیتا ہے۔ عوام اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہے کہ وہ ماہ مبارک کے مہنے کے خاطر جلد از جلد اقدام ا ±ٹھائے تاکہ عوام کو تھوڈی سی راحت نصیب ہو۔( سی این آئی )
میر گنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام کے روٹوں پر مسافر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر
لوگوںنے محکمہ ٹریفک کے اے آر ٹی او کی غفلت شعاری کا نتیجہ دیا قرار، روٹوں پر سومو سروس چالو کرنے کا مطالبہ
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   میرگنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام روٹوں پر مسافر گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے اے آر ٹی او بڈگام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس جانب کوئی خاص اقدام نہیں اُٹھارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوںکو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ روٹوں پر سومور سروس چالو کی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا مل جائے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق میر گنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام روٹوں پر مسافر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان روٹوں پر چلنے والی گاڑیاں کئی کئی گھنٹوں کے بعد نمودار ہوتی ہے اور مسافر خاص کر طالب علم گھنٹوں سٹاپوں پر انتظار کرتے دکھائی دے رہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا وقت ضائع ہوجاتا ہے اور وہ اکثر سکول و کالج دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ لوگوںنے کہا کہ اے آر ٹی او بڈگام کی بے حسی اور اس طرف عدم توجہی کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے کہا کہ میر گنڈ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام کے روٹوں پر مسافر گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ لوگوںنے کہا کہ لوگ صبح اپنے اپنے کاموں کی طرف اگرچہ وقت پر نکلتے ہیں لیکن مسافر گاڑیوں وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے وہ ہر جگہ دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ ملازمین دفتر دیر سے پہنچ جاتے ہیں کام گار اپنے کامو ں پر دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ طلبہ سکول و کالج دھیر سے پہنچ جاے ہیں اور مریض ہسپتال دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ اور واپسی پر بھی گھر دھیر سے پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ پریشان ہوجاتے ہیں جبکہ ایک اوقات میں لوگ بغیر کام ہی واپس گھروں کو لوٹتے ہیںکیوں کہ گاڑیاں وقت پر نہ ملنے سے ان کا کام نہیں ہوپاتا ہے ۔ لوگوںنے اس صورتحال کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ سومو ایسوسی ایشن سے اپیل کی ہے کہ وہ ان روٹوں پر سومو سروس چالو کریں تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔ ( سی این آئی )
رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت ماہ میں بھی راشن گھاٹ خالی
غیر میعاری مصالہ جات فروخت کرنے والے پٹروں پر سرگرم
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ میں بھی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیا ہے ،راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں امورصارفین وعوامی تقسیم کاری محکمہ کے افسران کی جانب سے گوداموںمیں سٹاک پوزیشن کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود راشن گھاٹوں کے خالی ہونے پر عوامی حلقوںنے غم وغصے کااظہار کیا ہے جبکہ سبزی ، مرغ فروشوں نے قیمتوںمیں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے ، قصاب بھی اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں سرکار کی جانب سے چیکنگ اسکارڈوں کو متحرک کرنے کے بارے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے اور عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کا حکومت خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق کشمیر وادی کے لوگ پہلے ہی کم مصائب و مشکلات میں مبتلا نہ تھے کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور مقدس مہینہ میں بھی منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں کشمیر کے اطراف واکناف میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سبزی فروش ٹماٹر 60سے 70روپیہ فی کلو ، مٹر 50روپیہ ، مولی 30روپیہ ، گاجر پھول گوپی 30روپیہ کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں جبکہ آلو پیاز کے دام ہر دن بدلتے رہتے ہیں جبکہ میوہ جات کی قیمتیں بھی روز بروز بدلتی رہتی ہیں قیمتوںمیں کمی ہونے کے بجائے ہر ایک اشیاءکی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ وادی کشمیر میں راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو غذائی اجناس حاصل کرنے میں دقتوں کا سامناکرنا پڑ رہا ہے امور صارفین وعوامی تقسیم کاری ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ڈائریکٹر امور صارفین کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس بات کا یقین دلایا کہ کشمیر وادی میں غذائی اجناس کی کوئی قلت نہیں ہے رسوئی گیس ، کیروسین اوئل ، چاول ، آٹا ، وافر مقدار میں موجود ہے اور لوگوںکو راشن کارڈوں پر فراہم کرنے کیلئے پہلے ہی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم عوامی حلقوں کے مطابق وادی کے اطراف واکناف میں راشن گھاٹ خالی پڑے ہوئے ہیں جبکہ دو ماہ سے صارفین کو چینی فراہم نہیں کی جار ہی ہے کیروسین اوئل کا کہیں نام ونشان نہیں ہے ، کئی راشن گھاٹوں پر صرف اے پی ایل ذمرے کے تحت آنے والے صارفین کو راشن کارڈوں پر پانچ کلو گرام آٹا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ بی پی ایل اور غریبی کی سطح سے نیچے بسر کرنے والے کنبوں کو آٹے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگر چہ متعلقہ وزیر نے غذائی اجناس کی سٹاک پوزیشن کو اطمینان بخش قرار دیا تو وادی کے راشن گھاٹ کیوں خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو چاول ، آٹا ، چینی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی شہر سرینگر اور دیہی علاقوں کے لوگوں کو غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور محکمہ کی جانب سے لوگوں کی اس مجبوری کو دور کرنے کیلئے کارگراقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں اور نہ ہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو لگام دینے کی کاروائیاں عمل میں لائی جار ہی ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا با برکت مہینہ کے ساتھ ہی غیر معیاری اور زائد المیعاد مثالہ جات فروخت کرنے والے بھی وادی کے اطراف واکناف میں سلسلہ شروع ہواہیں اور لوگوں کو یہ میٹھا زہر سستے داموں فروخت کرکے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کاروائیاں بھی عروج پر پہنچ گئی ہیںاور مثالہ جات فروخت کرنے والے عید الالضحیٰ ، عید الفطر کابے صبری کے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور دیہی علاقوں سے شہر سرینگر کی طرف آنے والے سیدھے سادھے لوگ سستے داموں پٹریوں پر فروخت کئے جانے والے مثالہ جات بلا جھجک خرید کر اپنی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں زائد المیعاد اور غیر معیاری مثالہ جات فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں نہ لانے سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلے عام کھیل رہے ہیں۔( سی این آئی )
 امشی پورہ شوپیان میں مختصر خونین معرکہ آرائی ، حرکت المجاہدین کا اعلیٰ کمانڈر جاں بحق
سوپور میں احتجاجی ہڑتال اور پُر تشدد مظاہروں کے بیچ جاں بحق جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک
مہلوک جنگجو فورسز کو کوئی کارروائیوں اور گرینیڈ حملوں میں انتہائی مطلو ب تھا / پولیس
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  جنوبی ضلع شوپیان کے امشی پورہ فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین اعلیٰ الصبح مختصر خونین معرکہ آرائی میں حرکت المجاہدین سے وابستہ اعلیٰ کمانڈر جاں بحق ہو گیا ہے ۔ جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی سوپور میں مکمل ہڑتال ہوئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے سوپور اور شوپیان میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی ۔ اسی دوران جونہی شوپیان جھڑپ میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گئی تو وہاںتمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہی ۔ ادھر پولیس نے مختصر جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امشی پورہ رام نگری شوپیان میں جنگجوﺅں کی نقل و حمل کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی شوپیان نے جمعہ کی اعلیٰ صبح سحری سے قبل علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی فورسز نے علاقے میں تلاشی کارورائی شروع کی تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع کے مطابق جونہی مختصر جھڑپ کے بعد گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے ایک نعش بر آمد ہوئی جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ و گولی باردور بھی ضبط کیا گیا ۔ پولیس ترجمان نے علاقے میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق جنگجو فورسز کو کئی کیسوں میںا نتہائی مطلوب تھا ۔ پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز نے مشترکہ طورامشی پورہ رام نگری شوپیا ن کے علاقے کو محاصرے میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کی ۔ بیان کے مطابق جونہی علاقے میں تلاشی شروع ہوئی تو جنگجوﺅں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔پولیس کے مطابق سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک جنگجو، جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی ہے، جاں بحق ہوگیا۔بیان کے مطابق اشفاق احمد کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ ابتدائی طور پر مذکورہ جنگجو حرکت المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا۔ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے۔جاں بحق جنگجوعلاقے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کا تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی پیش پیش رہ چکا ہے۔ جاں بحق جنگجو پہلے گرفتار ہو چکا تھا اور اس کے بعدوہ ضمانت پر رہا ہوا پھر اس نے سال 2018میں دوبارہ جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق عسکریت میں دوبارہ واپسی کے بعد اس نے سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم رول نبھاتا رہا۔پولیس نے کہا کہ جائے جھڑپ پر سیکورٹی فورسز نے اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا ۔ اسی دوران جونہی شوپیان میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گی تو سوپور میں تمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوگیا۔اسی دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جونہی جاں بحق جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خا ک کیا گیا ۔ ( سی این آئی )
پاکستان دہشت گردی کےخلاف کارروائی کرکے مذاکرات کیلئے پرامن ماحول تیار کریں
حالات کچھ بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہی ہے تاہم امن کی باتےں خاموش ماحول میں ہی ہوسکتی ہیں/سشما سوراج
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  پاکستان پر بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دےنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے واضح کردےا کہ پاکستان کی ایسی کوشش کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائےگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب ان کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کاروائی کرنا ہوگی تاکہ پاک بھارت مذاکرات کیلئے پرامن ماحول فراہم ہوسکے ۔کرنٹ نیوز آف انڈےا مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنےادوں پر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو ایسے عناصرمل کر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کردےتے ہیں ۔جسکی وجہ سے صورتحال پھر مکدر ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتےں ایسی ہیں جو بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب آنے نہیں دینگے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان ہوا دے رہا ہے اور بھارت میں دہشت گردی کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے ۔مزید بتاتے ہوئے کہا کہ حالات چاہے کچھ بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہی ہے لیکن خاموش ماحول میں امن کی باتےں ہوسکتی ہیں جبکہ تشدد کے ماحول میں امن کی باتےں نہیں ہوسکتی ہیں ۔انہوں نے صاف کردےا کہ بھارت کی موجودہ حکومت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھارت سے کئی وعدے کئے مگر حقیقت میں وہ آج بھی دہشت گردی کو بھارت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برابر بھارت مخالف کاروائیوں کا مرتکب ہورہاہے اب اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہےں کیونکہ جہاں پہلے صرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مخالف کاروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتےں نہیں چاہتی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تاہم اس قسم کی صورتحال کیلئے پاکستان ذمہدار ہے اس لئے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ حالات خراب کرنے کی کوششوں کو ہوا نہ دیں بلکہ ایسی طاقتوں کو بے نقاب کرے جو دونوں ملکوں کے درمیان حالات ٹھیک ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سے بھارت بہتر تعلقات چاہتا ہے تاہم اس کے برعکس پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے تاہم بھارت برابر اپنے پڑوسےوں کے ساتھ بہتر رشتوں کا متمنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہر چیز پر بحث لازمی ہے لیکن پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات صرف اور صرف امن کے ماحول میں ہوسکتے ہیں لہٰذا امن کو ایک موقعہ دینا ہوگا تاکہ ہمیشہ کیلئے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے ۔( سی این آئی )
سرینگر جموں شاہراہ پر مسلسل دوسر ے روز بھی ٹریفک کی نقل و حمل معطل
شاہراہ پر دونوں جانب مال بردار و مسافر گاڑیاںدرماندہ، شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  سرینگر جموں شاہراہ پرگذشتہ روز رام بن کے قریب بھاری پسیاں گرآنے کے نتیجے میں کم سے کم آدھ کلو میٹر پتھروں اور مٹی کے تودوں کے تلے آئی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ کو ٹریفک کے نقل و حمل کےلئے مسلسل دوسرے روز بھی بند رکھاگیا ہے ۔ اس دوران شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام شدومد سے جاری ہے تاہم شاہراہ پر ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہیں جن میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں بھی شامل ہیں کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پرگذشتہ روز رام بن کے قریب بھاری پسیاں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کےلئے بند کردیا گیا جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ پر ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہوکے رہ گئیں ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس شاہراہ کو گذشتہ روز رامبن ضلع کے ڈگڈول علاقے میں بھاری پسی گر آنے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ٹریفک حکام کے مطابق بھاری پسی ہٹانے کا کام ابھی جاری تھا اس لئے شاہراہ مسلسل بند ہے۔حکام نے کہا کہ جب تک شاہراہ سے پسی کو پوری طرح نہیں ہٹایا جائے گا اوراس پر سفر کو محفوظ قرار نہیں جائے گا، تب تک بانہال یا ا ±دھمپور سے کسی بھی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر کئی مقامات پر کم و بیش تین ہزار گاڑیاں درماندہ پڑی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جموں کی طرف سے سرینگر آنے والی سینکڑوں مال بردار گاڑیاں بھی درماندہ ہے جن میں مختلف خوردنوش کی اشیاءجن میں بھیڑ بکریاں ، مرغ انڈے ،سبزیاں میوہ و دیگر اشیاءشامل ان مال بردار ٹرکوں میں موجود ہے اور اگر شاہراہ کو جلد ہی نہیںکھولا گیا تو یہ سب مال خراب ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل زیادہ تر بند ہی رہتی ہے کیوں کہ شاہراہ پر اکثروبیشتر پسیاں اور بھاری بھرکم چٹانیں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ ناقابل آمددورفت ہوجاتی ہے ۔( سی این آئی )
سرینگر کی تواریخی جامعہ مسجد میں نماز کے بعد نوہٹہ میں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں
ٹیر گیس شلنگ اور اندھادھند پلٹ گولیاں چلنے کے نتیجے میں 6سے زائد افراد زخمی ہوکر داخل ہسپتال
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  سرینگر کی تواریخی جامع مسجد شریف میں بعد از نماز جمعہ فورسز اور مظاہرین کے مابین ہوئی شدید جھڑپوں میں کم سے کم 6افراد خمی ہوئے ہیں ۔ جبکہ نوہٹہ، گوجوارہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں افراتفری اور کشیدگی کا ماحول پھیل گیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیاکے مطابق شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تواریخی جامع مسجد سرینگر میں آج نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئی جس کی وجہ سے علاقے میں سخت کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول پھیل گیا ۔ فورسز و مظاہرین کے مابین ہوئی جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم 6افراد ٹیر گیس شلوں اور پلٹ سے زخمی ہوگئے ہیں جن کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال علاج و معالجہ کےلئے پہنچایا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں جمعہ کو ا ±س وقت چھ افراد زخمی ہوگئے جب یہاں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق نماز جمعہ کے فوراً بعد مظاہرین نے نوہٹہ میں قائم تاریخی جامع مسجد کے باہر فورسز کو سنگباری کا نشانہ بنایا۔پولیس اور فورسز نے جوابی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائرنگ کی۔جس کے نتیجے کئی افراد کو چوٹیں آئی ہے ۔ مظاہرین و فورسز کے مابین ہوئی جھڑپوں کی وجہ سے نوہٹہ، گوجوارہ، راجوری کدل ، بہوری کدل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول قائم رہا اور دکانداروںنے اپنی دکانیں فوری طور پر بند کردی جگہ کئی ریڈہ بانوں نے اپنے ریڈ ے وہیں چھوڑ کر جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی۔ سی این آئی کے مطابق احتجاجی مظاہرین میں شامل افراد اسلام وآزادی کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے جبکہ احتجاجی مظاہرین این آئی اے کی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے تھے جبکہ مظاہرین نے تمام قیدیوں کو فوری طور پررہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔( سی این آئی )
محکمہ موسمیات نے طویل مدتی کلینڈر جاری کرتے ہوئے 10سے 15مئی تک بارشوں کی پیشن گوئی کی
مغربی ہواﺅں کے ریاست میں داخلہ سے اگلے چند دنوں تک موسم ابتر رہے گا، اہلیان وادی کو تیز ہواﺅں کا بھی سامنا رہے گا
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   محکمہ موسمیات نے طویل کیلنڈر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہلیاں وادی کو اگلے کئی روز تک ناسازگار موسمی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میٹرالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی پیشن گوئی کے مطابق 10مئی سے 15مئی تک وادی کے بالائی و میدانی علاقوں میں شدید و درمیانہ درجے کی بارشوں کا امکان ہے جبکہ گرج چمکنے کے ساتھ ساتھ تیز واﺅں بھی ہوسکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ موسمیات نے وادی کے بالائی و میدانی علاقوں میں بھاری سے درمیانہ درجے کی بارشوں کی پیشن گوئی کرتے ہوئے طویل مدتی کیلنڈر جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر ، جھار کھنڈ، ہماچل پردیش و دیگر ریاستوں میں مغربی ہواﺅں کے داخلہ کی وجہ سے لوگوںکو سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں 10مئی سے 15مئی تک شدید و درمیانہ درجے کی بارشیں ہوسکتی ہے جبکہ گرج چمکنے کے علاوہ تیز واﺅںکا بھی سامنا کرنے پڑے گا اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھاری اولہ باری کا بھی امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات نے جمعہ کو جموں کشمیر کے اندر اگلے پانچ دنوں تک بارش کی پیشگوئی کی۔ایک بیان میں محکمہ موسمیات نے کہا کہ کشمیر خطے کے اندر اگلے پانچ روز کے دوران بارشوں کا امکان ہے جبکہ جموں اور لداخ صوبوں میں بھی کہیں کہیں بارشیں ہوسکتی ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ برس ماہ نومبر میں قبل از وقت ہوئی بھاری برفباری کے بعد موسم لگاتار ابتر ہے اور ماہ اپریل میں کم سے کم 20دنوں تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ رواں ماہ کے دس دنوں میں بھی کم سے کم 5دن موسم ابتر رہا اور اب اگلے پانچ روز تک موسم پھر خراب رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے ۔ ( سی این آئی )
سری نگر مظفرآبادبس سروس ایک بار پھر ملتوی
مسافروں کی تشویش اور ماےوسی میںا ضافہ، آر پار ٹریول سینٹروں کی رونقیں ماند پڑ گئیں
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  نئی دہلی نے آئندہ ہفتے تےرہ مئی کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآبادبس سروس ایک بار پھر ملتوی کر دی آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں کی تشویش اور ماےوسی میں دن بدن اضافہ آر پار ٹریول سینٹروں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔سی این آئی کو ملی تفصیلات 25فروری2019ءکے بعد بھارتی حکام نے مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے سرینگر مظفرآباد بس سروس کو ایکیس اپریل تک معطل رکھا بائیس اپریل کے روز بھارتی حکام نے سری نگر مظفرآباد بس سروس جزوی طور پر بحال کی جس کے بعد کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے دو شہری وادی کشمیر آئے اٹھائیس اپریل کے روز کی بس سروس کے زریعے بھارتی حکام نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کشمیر میں پھنسے ہوئے تین مسافروں کو وآپس مظفرآباد بھیجا بائیس اور اٹھائیس اپریل کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآباد بس کے زریعے آر پار کے کسی بھی نئے مسافر کو سفر کرنے کی بھارتی حکام نے اجازت نہیں دی اٹھائیس اپریل کے روز پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے بھارتی کشمیر جانے والے تین مسافروں کو کنٹرول لائن سے بھارتی حکام نے وآپس کر دیا تھا آئندہ ہفتے پیر تیرہ مئی کے روز چلنے والی سری نگر مظفرآباد بس سروس کو اچانک بھارتی حکام نے بغیر وجہ بتائے معطل کر دیا ہے جمعہ کے روز سرینگر پاسپورٹ آفس نے ایک ای میل کے زریعے مظفرآباد حکام کو آئندہ ہفتے تیرہ مئی کی بس سروس معطلی کے بارہ مےں باقائدہ آگاہ کےا۔( سی این آئی )
سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغن کرنے کےلئے محکمہ ٹورازم کے افسران کے ملکی و غیر ملکی دوروں پر کروڑوں خرچ
وادی کشمیر میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ، ہوٹل ، شکارے والے اور ہاوس بوٹ مالکان پریشان
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  کشمیر کی طرف سیاحوں کو راغب کرنے کےلئے محکمہ ٹوراز م کے افسران اگرچہ ملکی و غیر ملکی دورے کررہے ہیں تاہم ان دوروں پر زرکثیر خرچ کرنے کے بعد بھی وادی کشمیر میں سیاحت بلکل ٹھپ ہے جس کی وجہ سے ہوٹل و رستوران مالکان، شکارے والے ، ہاوس بوٹ والے ، ہینڈی کرافٹس سے جڑے تاجر اور دیگر متعلقہ افراد پریشان ہے ۔کئی افراد نے بینکوں سے قرضہ لیکر ہوٹل اور دکانات کرائے پر لیئے ہیں اور سیاحوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ وہ بینکوں کے قرضہ کو اداکرسکیں لیکن رواں برس کا پانچواں ماہ شروع ہونے کے بعد بھی یہاں سیاحوں کی تعداد کافی کم دکھائی دے رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کے افسران آئے روز ملی و غیر ملکی دوروں پر اسلئے کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں تاکہ وہ کشمیرٹورازم کو زندہ رکھ سکیں اور زیادہ سے زیادہ ٹورسٹوںکو کشمیر آنے پر آمادہ کریں تاہم ان دوروں پر کروڑوں روپے صرف ہونے کے باوجود بھی زمینی سطح پر کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے کشمیر سیاحت سے جڑے افراد بے حد پریشان ہے جن میں ہوٹل و رستوران والے، ہاوس بوٹ وشکارے والے، دستکار، ٹرارنسپورٹر اور دیگر متعلقہ افراد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اورانکے اہلخانہ فاقہ کشی کی کگار پر پہنچ گئے ہیں ۔ سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سیاحت سے جڑے افراد نے کہا ہے کہ محکمہ سیاحت اگر کشمیر کے حالات کے حوالے سے اشتہاری مہم چلاتے اور کشمیر آنے کی خواہش رکھنے والے افراد تک یہ پیغام پہنچ جاتا ہے کہ یہاںکے حالات بہتر ہے تو شائد تباہ حال ٹورزم کو بچایا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملکی و بیرون ملک دوروں پر زر کثیر خرچ کرنے کے بجائے اور اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں کو اشتہار ی مہم پر روپے خرچ کئے جاتے تو جو نیشنل میڈیا کشمیر کے حوالے سے منفی پروپگنڈا کررہا ہے اس پر کا اثر زائل ہوجاتا اور لوگ کشمیر کی طرف پھر رُخ کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔انہوںنے کہا کہ سیاحتی سیزن کاانتظار گزشتہ آٹھ ماہ سے تھا اورجب موسم اور حالات بہتر ہوئے تو بھی سیاح یہاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر ٹورزم سے وابستہ افراد نے بینکوں سے قرضہ لیکر ہوٹل کرائے پر لئے ہیں ۔مال اوردکانیں لے لی ہے تاہم سیاحوں کا کشمیر کی طرف منفی رجحان سے انہیں بھاری نقصانات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سرکار بھی کشمیر سیاحت کو بچانے کےلئے کوئی ٹھوس اقداما ت نہیں اُٹھارہی ہے ۔( سی این آئی )
محکمہ بجلی کی جانب سے ماہ مبارک میں بھی غفلت شعاری۔
ضلع کپوارہ میں بجلی کا ہا ہا کر ، ڈپٹی کمشنر کپوارہ سے مداخلت کی اپیل
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   سرحدی ضلع کپوارہ میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ خاص کر سحری اور افطار کے اوقات میں ضلع کے اکثر علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مقامی لوگوںنے اس حوالے سے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیڈول مرتب کرنے والے نے ماہ رمضان کے مطابق شیڈول مرتب نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے ماہ مبارک میں بھی لوگ بجلی سے محروم ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ضلع کپوارہ میں محکمہ بجلی نے ایک ایسا شیڈول بنایا ہے جس سے یہ لگ رہا ہے کہ شیڈول بنانے والے نے ماہ رمضان کا کوئی خیال ہی نہیں رکھا ہے کیونکہ بجلی اسی وقت چلی جاتی ہے جس وقت بجلی کی کافی ضرورت ہوتی ہے خاص کر افطار اور سحری کے وقت بجلی نہیں ہوتی ہے۔ لوگوں میں اس حوالے سے کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ عام طور پورے ضلع کپوارہ میں اس مشکلات سے دوچار ہے جن میں سے خاص کر درگمولہ ، مقام شاہ ولی ، اندرہامہ ، آوورہ ، میر مقام ، آلاچیزب ، ترہگام ، لولاب کے سوگام سیور ، دیور لولاب ، ورنو آفن ، لال پورہ ، کرالپورہ ، آلوسہ ، پنزگام ، شمناگ ، گگلوسہ ، خاص طور قابل ذکر ہیں۔لوگ کافی پریشانوں کا سامنا کررہے ہیں۔ حکومت سے بار بار التجا کرتے ہوئے لوگ اب تنگ آچکے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ اس طرف کوی خاص توجہ نہیں دیتی کیونکہ انکی کوٹھوں میں سپےشل سروس چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہے انہیں عوام کا دکھ درد دکھائی نہیں دیتا ہے۔ عوام اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہے کہ وہ ماہ مبارک کے مہنے کے خاطر جلد از جلد اقدام ا ±ٹھائے تاکہ عوام کو تھوڈی سی راحت نصیب ہو۔( سی این آئی )
میر گنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام کے روٹوں پر مسافر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر
لوگوںنے محکمہ ٹریفک کے اے آر ٹی او کی غفلت شعاری کا نتیجہ دیا قرار، روٹوں پر سومو سروس چالو کرنے کا مطالبہ
سرینگر /10مئی/سی این آئی//   میرگنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام روٹوں پر مسافر گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے اے آر ٹی او بڈگام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس جانب کوئی خاص اقدام نہیں اُٹھارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوںکو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ روٹوں پر سومور سروس چالو کی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا مل جائے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق میر گنڈ ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام روٹوں پر مسافر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان روٹوں پر چلنے والی گاڑیاں کئی کئی گھنٹوں کے بعد نمودار ہوتی ہے اور مسافر خاص کر طالب علم گھنٹوں سٹاپوں پر انتظار کرتے دکھائی دے رہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا وقت ضائع ہوجاتا ہے اور وہ اکثر سکول و کالج دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ لوگوںنے کہا کہ اے آر ٹی او بڈگام کی بے حسی اور اس طرف عدم توجہی کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے کہا کہ میر گنڈ، خمانی چوک ، سپدن بڈگام کے روٹوں پر مسافر گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ لوگوںنے کہا کہ لوگ صبح اپنے اپنے کاموں کی طرف اگرچہ وقت پر نکلتے ہیں لیکن مسافر گاڑیوں وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے وہ ہر جگہ دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ ملازمین دفتر دیر سے پہنچ جاتے ہیں کام گار اپنے کامو ں پر دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ طلبہ سکول و کالج دھیر سے پہنچ جاے ہیں اور مریض ہسپتال دیر سے پہنچ جاتے ہیں ۔ اور واپسی پر بھی گھر دھیر سے پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ پریشان ہوجاتے ہیں جبکہ ایک اوقات میں لوگ بغیر کام ہی واپس گھروں کو لوٹتے ہیںکیوں کہ گاڑیاں وقت پر نہ ملنے سے ان کا کام نہیں ہوپاتا ہے ۔ لوگوںنے اس صورتحال کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ سومو ایسوسی ایشن سے اپیل کی ہے کہ وہ ان روٹوں پر سومو سروس چالو کریں تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔ ( سی این آئی )
رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت ماہ میں بھی راشن گھاٹ خالی
غیر میعاری مصالہ جات فروخت کرنے والے پٹروں پر سرگرم
سرینگر /10مئی/سی این آئی//  رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ میں بھی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیا ہے ،راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں امورصارفین وعوامی تقسیم کاری محکمہ کے افسران کی جانب سے گوداموںمیں سٹاک پوزیشن کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود راشن گھاٹوں کے خالی ہونے پر عوامی حلقوںنے غم وغصے کااظہار کیا ہے جبکہ سبزی ، مرغ فروشوں نے قیمتوںمیں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے ، قصاب بھی اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں سرکار کی جانب سے چیکنگ اسکارڈوں کو متحرک کرنے کے بارے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے اور عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کا حکومت خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق کشمیر وادی کے لوگ پہلے ہی کم مصائب و مشکلات میں مبتلا نہ تھے کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور مقدس مہینہ میں بھی منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں کشمیر کے اطراف واکناف میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سبزی فروش ٹماٹر 60سے 70روپیہ فی کلو ، مٹر 50روپیہ ، مولی 30روپیہ ، گاجر پھول گوپی 30روپیہ کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں جبکہ آلو پیاز کے دام ہر دن بدلتے رہتے ہیں جبکہ میوہ جات کی قیمتیں بھی روز بروز بدلتی رہتی ہیں قیمتوںمیں کمی ہونے کے بجائے ہر ایک اشیاءکی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ وادی کشمیر میں راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو غذائی اجناس حاصل کرنے میں دقتوں کا سامناکرنا پڑ رہا ہے امور صارفین وعوامی تقسیم کاری ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ڈائریکٹر امور صارفین کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس بات کا یقین دلایا کہ کشمیر وادی میں غذائی اجناس کی کوئی قلت نہیں ہے رسوئی گیس ، کیروسین اوئل ، چاول ، آٹا ، وافر مقدار میں موجود ہے اور لوگوںکو راشن کارڈوں پر فراہم کرنے کیلئے پہلے ہی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم عوامی حلقوں کے مطابق وادی کے اطراف واکناف میں راشن گھاٹ خالی پڑے ہوئے ہیں جبکہ دو ماہ سے صارفین کو چینی فراہم نہیں کی جار ہی ہے کیروسین اوئل کا کہیں نام ونشان نہیں ہے ، کئی راشن گھاٹوں پر صرف اے پی ایل ذمرے کے تحت آنے والے صارفین کو راشن کارڈوں پر پانچ کلو گرام آٹا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ بی پی ایل اور غریبی کی سطح سے نیچے بسر کرنے والے کنبوں کو آٹے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگر چہ متعلقہ وزیر نے غذائی اجناس کی سٹاک پوزیشن کو اطمینان بخش قرار دیا تو وادی کے راشن گھاٹ کیوں خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو چاول ، آٹا ، چینی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی شہر سرینگر اور دیہی علاقوں کے لوگوں کو غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور محکمہ کی جانب سے لوگوں کی اس مجبوری کو دور کرنے کیلئے کارگراقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں اور نہ ہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو لگام دینے کی کاروائیاں عمل میں لائی جار ہی ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا با برکت مہینہ کے ساتھ ہی غیر معیاری اور زائد المیعاد مثالہ جات فروخت کرنے والے بھی وادی کے اطراف واکناف میں سلسلہ شروع ہواہیں اور لوگوں کو یہ میٹھا زہر سستے داموں فروخت کرکے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کاروائیاں بھی عروج پر پہنچ گئی ہیںاور مثالہ جات فروخت کرنے والے عید الالضحیٰ ، عید الفطر کابے صبری کے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور دیہی علاقوں سے شہر سرینگر کی طرف آنے والے سیدھے سادھے لوگ سستے داموں پٹریوں پر فروخت کئے جانے والے مثالہ جات بلا جھجک خرید کر اپنی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں زائد المیعاد اور غیر معیاری مثالہ جات فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں نہ لانے سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلے عام کھیل رہے ہیں۔( سی این آئی )
CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply