Latest News

CNI News Bulletin (Urdu)04th May 2019

Web Desk

ماہ رمضان کے مقدس ماہ کے پیش نظر جنگ بندی کا اعلان کیا جائے / محبوبہ مفتی
نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ قابل مذمت ، شاہراہ کو بند کرنے سے معیشت ختم ہوئی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// پی ڈی پی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ماہ مبارک کے پیش نظر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے محبوبہ نے فوجی ایجنسیوں کے علاوہ وادی میں سرگرم جنگجوتنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس مبارک اور امن وسلامتی کے ماہ میں جنگ بندی کا اعلان کریں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کاجو نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس سے لوگوں میں سرکار کے تئیں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ محبوبی مفتی نے کہا کہ سرینگر جموں شاہراہ پر عام ٹریفک پر پابند سے وادی کی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سنیچر کو مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گذشتہ برس کی طرز پر کشمیر کے اندر ماہ رمضان کے دوران جنگ بندی کا اعلان کرے۔محبوبہ نے جنگجوﺅں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی ماہ رمضان کے دوران اپنے حملوں کو بند کریں۔محبوبہ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا” میری مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان کے دوران جنگجوﺅں کے ساتھ سیز فائر کا اعلان کرے، جیسا کہ گذشتہ برس کیا گیا تھا”۔انہوں نے مزید کہا”میری اپیل ہے کہ فورسز آپریشنز کو مکمل طور بند کیا جائے تاکہ لوگ کسی ڈر اور مشکل کے بغیر عبادات انجام دے سکیں”۔محبوبہ نے جنگجوﺅں سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا”ماہ رمضان عبادات کا مہینہ ہوتا ہے،میری اپیل ہے کہ آپ بھی پورے مہینے کیلئے اپنے حملے بند کریں”۔یاد رہے کہ گذشتہ برس بھی محبوبہ مفتی والی قیادت سرکار نے ایک ماہ تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس دوران فوج نے اپنی جنگجو مخالف کارروائیاں روک دی تھی ۔سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں، پلوامہ ، کولگام اور اسلام آباد میں نوجوانوںکی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کرنے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے لوگوں میں سرکار کے تئیں کافی غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ انہوںنے نوجوانوں کی فوری رہائی کامطالبہ کیا ہے ۔ ادھر محبوبہ مفتی نے سرینگر جموں شاہراہ پر ہفتے میں دو دن عام ٹریفک کی نقل و حمل پر پابندی پر بولتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے وادی کی معیشت پر کافی منفی اثرات پڑگئے ہیں ۔(سی این آئی )
 کشمیر میں عسکریت کے مکمل خاتمہ تک جنگجوﺅں مخالف آپریشن جاری رہیں گے
کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو بھارت سے الگ نہیں کر سکتا /مرکزی وزیر دفاع
سرینگر/04مئی/سی این آئی// کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا ستیا رامن نے کہا کہ عسکریت پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر میں عسکریت کے مکمل خاتمہ تک جنگجوﺅں مخالف آپریشن جاری رہیں گے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران میڈیا نمائندوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع نرملا ستیا رامن نے واضح کیا کہ عسکریت کے معاملے میں کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کشمیر میں آخری جنگجوﺅں کی ہلاکت تک جنگجوﺅں مخالف آپریشن جاری رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے لہذا اس کے خاتمہ لازمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میںامن وا مان کی صورتحال کو قائم کرنے کیلئے عسکریت کا خاتمہ لازمی ہے لیکن جب تک آخری جنگجو کو نہ مارا جائے گا تب تک کشمیر میں جنگجوﺅں مخالف آپریشن جاری رہیں گے او ر اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج جنگجوﺅں کے خلاف لڑ رہی ہے اور انہیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے ۔ اسی دوران انہوں نے ایک مرتبہ پھرکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت کا خاتمہ کرنے کیلئے کشمیر میں فوج اپنا کام کر رہی ہے اور ہمیں لگ رہا ہے کہ ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا جس کے لئے ہمیں مزید کارروائی کی ضرورت ہے ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنےادوں پر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو ایسے عناصرمل کر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کردےتے ہیں ۔جسکی وجہ سے صورتحال پھر مکدر ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برابر بھارت مخالف کاروائیوں کا مرتکب ہورہاہے اب اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہےں کیونکہ جہاں پہلے صرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مخالف کاروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتےں نہیں چاہتی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تاہم اس قسم کی صورتحال کیلئے پاکستان ذمہدار ہے اس لئے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ حالات خراب کرنے کی کوششوں کو ہوا نہ دیں بلکہ ایسی طاقتوں کو بے نقاب کرے جو دونوں ملکوں کے درمیان حالات ٹھیک ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان سے بھارت بہتر تعلقات چاہتا ہے تاہم اس کے برعکس پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے تاہم بھارت برابر اپنے پڑوسےوں کے ساتھ بہتر رشتوں کا متمنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہر چیز پر بحث لازمی ہے لیکن پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات صرف اور صرف امن کے ماحول میں ہوسکتے ہیں لہٰذا امن کو ایک موقعہ دینا ہوگا تاکہ ہمیشہ کیلئے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے ۔(سی این آئی )
پی ڈی پی اور بھاجپا اتحاد تباہی کا سبب بنا ،پی ڈی پی حقیر سیاسی مفادات کیلئے نوجوانوں کو گرفتار کروا رہے ہیں
محبوبہ مفتی انتخابی مہم ختم ہونے سے 4دن پہلے ہی میدان چھوڑ کر چلی گئی/عمر عبداللہ
سرینگر/04مئی/سی این آئی// پی ڈی پی نے گذشتہ4سال کے دوران ریاست خصوصی وادی کو تباہی، برداری ، ظلم و جبر اور سختی کے سوا کچھ نہیں دیا، جہاں ہماری سابق حکومت کے دوران ریاست سے افسپا ہٹانے کے مطالبے نے زور پکڑا تھا وہیں آج اس معاملے پر بات کرنا بھی بے مقصد ہے، جہاں ہماری سابق حکومت کے دوران درجنوں بنکر ہٹائے گئے وہیں محبوبہ مفتی کی حکومت نے ماضی سے زیادہ بنکر بنوائے اور جہاں ہماری سابق حکومت کے دوران فوجی کی موجودگی میں کمی لائی گئی وہیں قلم دوات جماعت کی حکومت میں پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر سے پارٹی اُمیدوار جسٹس حسنین مسعودی کے حق میں چناﺅی مہم کے دوران پلوامہ میں راجپورہ کے پارٹی ورکروں اور عہدیداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر سٹیٹ سکریٹری چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، شمالی زون صدر محمد اکبر لون، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سینئر لیڈران میر سیف اللہ، شمی اوبرائے، غلام محی الدین میر، غلام نبی رتن پوری اور بشارت بخاری کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔پی ڈی پی کی طرف سے بھاجپا کیساتھ عوامی منڈیٹ کے خلاف جاکر اتحاد کرنے کو موجودہ حالات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ”آج یہاں ہر روز کریک ڈاﺅن، ہر روز گرفتاریاں، ہر روز چھاپے، ہر روز انکاﺅنٹر، ہر روز کسی نہ کسی گھر میں ماتم ہوتا ہے۔ 2015تک تو ایسا بالکل بھی نہیں ، آخر کیا بدل گیا؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 2014کے انتخابات میں زور شور سے انتخابی مہم چلی اور کافی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ آج کے حالات دیکھئے ،جہاں 2014میں 30یا40فیصد ووٹ ڈالے گئے وہاں آج 5فیصد پولنگ بھی نہیں ہوئی، الیکشن مہم کا حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ 2014کے انتخابات میں پی ڈی پی نے بھاجپا خلاف ووٹ مانگے اور جنوبی کشمیر نے قلم دوات جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں دیں، لیکن لوگوں نے پی ڈی پی کو بھاجپا کیساتھ اتحاد کرنے کیلئے نہیں بلکہ بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے ووٹ دیئے تھے“۔عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی نے یہاں کے حالات کو اس قدر بدتر بنا دیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہمیں ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے انتخابی مہم ختم ہونے سے چار دن پہلے ہی کچھ اُمیدوار میدان چھوڑ کر چلے گئے جن میں محبوبہ مفتی بھی شامل ہے۔ بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ مودی پانچ سال تک عوام سے کئے گئے وعدوں کو پوا نہیں کر پائے اس لئے اُن کو پلوامہ اور بالاکوٹ پر ووٹ مانگنے کی نوبت آن پڑی۔ بھاجپا حکومت کی ناکامی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر پر پابندی سے کشمیر کی صورتحال پر کوئی خاص بدلاﺅ نہیں آئے گا۔ اس سے پہلے بھی حافظ سعید پر پابندی عائد کی گئی لیکن کچھ نہیں بدلا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہماری آنے والے لڑائی آسان نہیں، جن طاقتوں سے ہمارا مقابلہ اُن طاقتوں نے پہلے ہی اپنا منشور آپ کے سامنے رکھا ہے، وہ جموں وکشمیر کی شناخت، جموں وکشمیر کی پہچان اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن سے پریشان ہیں، وہ اس بات سے پریشان ہیں یہاں دفعہ370اور 35اے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح آئین تبدیل کرکے جموں وکشمیر ملک کیساتھ مکمل ضم کیا جائے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموںوکشمیر کا الحاق مشروط ہوا۔ ہماری ریاست نے الحاق سے پہلے بات چیت کی، معاہدے پر دستخط کئے اور اپنے لئے خصوصی پوزیشن حاصل کی۔ ہماری ریاست باقی ریاستوں کی طرح ملک میں بلا مشروط گل مل نہیں گئی۔“عمر عبداللہ نے کہا کہ ”ان طاقتوں کا مقابلہ ہمیں سڑکوں پر، عدالت میں اور پارلیمنٹ میں بھی کرنا ہے اور اس کیلئے ہمیں بہترین اُمیدوار چُننا ہوگا۔ کانگریس کے اُمیدوار پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جتنا زیادہ نقصان ریاست کی خصوصی پوزیشن کو کانگریس نے پہنچایا ہے اُتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا، کس طرح شیر کشمیر کو گرفتار کرنے کے بعد کانگریس نے خصوصی پوزیشن کو کھوکھلا کیا۔ رہی بات پی ڈی پی اُمیدوار کی تو خصوصی پوزیشن کو کھوکھلا کرنے میں جو قصر باقی رہ گئی تھی وہ محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیرا علیٰ پوری کردی۔ جی ایس ٹی کا اطلاق، فورڈ ایکٹ کا نفاذ اور سرفیسی ایکٹ جیسے قوانین کو لاگو کرکے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو زبردست نقصان پہنچایا گیا۔“ این سی نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی کے خود ساختہ لیڈران اب اتنی گندی سیاست کررہے ہیں جس کی مثالی کہیں نہیں ملتی۔ اس جماعت سے وابستہ افراد نوجوانوں کو گرفتار کرواتے اور پھر سیاسی پوائنٹ سکور کرنے کیلئے اپنے لیڈران کے اثر و رسوخ استعمال کرکے نوجوانوں کو رہا کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بدترین اور حقیر سیاست کی جس قدر مذمت کی جائے ہم ہے۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے کرگل میں پراکسی اُمیدوار کھڑا کرکے بھاجپا کی مدد میں آگئی ہے۔ کانگریس لداخ میں مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرکے بھاجپا کی جیت کیلئے کام کررہی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی لیڈران ڈاکٹر محمد شفیع، شیخ محمد رفیع، شبیر احمد کلے، سلام الدین بجاڑ، سید رفیق شاہ، نثار احمد نثار اور جاوید رحیم بٹ کے علاوہ کئی عہدیداران موجو دتھے۔ جلسے میں غلام نبی وانی نیلورہ نے نیشنل کانفرنس میں واپسی کی اور پارٹی لیڈران نے اُن کا خیر مقدم کیا۔(سی این آئی )
سری لنکا میں دھماکے کرنے والے کشمیر بھی گئے تھے/سری لنکا فوجی سربراہ
کشمیر کے علاوہ بھارت کی مختلف ریاستوں کابھی حملہ آوروں نے دورہ کیا تھا
سرینگر/04مئی/سی این آئی// سری لنکن فوج نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے دھماکے کئے تھے وہ کشمیر اور بھارت کے دیگر ریاستوں کو بھی گئے تھے ۔ فوج نے کہا ہے مذکورہ افراد کشمیر یا تو ہتھیار لینے یا پھر تربیت حاصل کرنے کےلئے گئے تھے تاہم آخر پر انہوںنے تخریب کاری کی کاررورائی سری لنکا میں انجا م دی۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سری لنکا کے فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ سری لنکا میں دھماکے کرنے والے افراد کشمیر بھی گئے تھے۔سری لنکن فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مہیش سینا نائیک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے سری لنکا میں دھماکے کئے ہیں وہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں تربیت اور ہتھیار حاصل کرنے کےلئے گئے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ ثبوتوں اور جان پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ افراد نے کشمیر ، بنگلور اور کیرلہ کا بھی دورہ کیا تھا ۔ اپریل21کوگرجا گروں اور ہوٹلوں میں ہوئے ان دھماکوں میں مجموعی طور پر253افراد ہلاک اور500زخمی ہوگئے تھے۔سری لنکا فوج کے مطابق یہ دھماکے کرنے والے بھارت میں کشمیر، کرناٹک اور کیرالہ بھی گئے تھے۔ دئے گئے ایک انٹریو میں سری لنکا فوج کے لیفٹیننٹ جنرل مہیش سینا نائیک نے کہا”ہمارے پاس جو تفصیلات ہیں ا ±ن کے مطابق وہ بھارت گئے تھے اور ا ±نہوں نے بنگالور، کشمیر اور کیرالہ کا دورہ کیا تھا۔جب ا ±ن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ا ±ن کے بھارت جانے کے مقاصد سے باخبر ہیں ؟تو ا ±نہوں نے کہا”وہ کچھ تربیت پانے گئے ہونگے یا سری لنکا سے باہر دیگر تنظیمو ں کے ساتھ رابطہ بنائے ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں سری لنکا میں موجودکم سے کم38غیر ملکی بھی شامل تھے۔(سی این آئی )
امام صاحب جھڑپ میں کمانڈر لطیف ٹائیگر سمیت تین مقامی حزب جنگجوﺅں کی ہلاکت
پلوامہ اور شوپیان میں دوسرے روز بھی ہڑتال ، بانہال سرینگر ریل خدمات بھی بدستور معطل
سرینگر/04مئی/سی این آئی// امام صاحب شوپیان میں تین حزب جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف سنیچروار کو دوسرے روز بھی شوپیان اور پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔ادھر دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بھی بدستور معطل ہونے کے علاوہ سرینگر بانہال ریل سروس بھی دوسرے روز بھی پٹری پر نہ لوٹ آئی ۔ سی این آئی نمائندے کے مطابق جمعہ کی اعلیٰ صبحاڑکھار اامام صاحب شوپیان نامی گاﺅں میں فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں برہان وانی گروپ کے آخری جنگجو و حزب کمانڈر لطیف ٹائیگر سمیت تین مقامی جنگجوﺅںجاں بحق ہو گئے ۔ تینوں مقامی جنگجوﺅں کی شناخت لطیف احمد ڈار عرف لطیف ٹائیگر ساکنہ ڈوگری پورہ پلوامہ، مولوی طاریق عرف مولوی وکاس ساکنہ مولو چھترا گام اورشارق نینگرو ساکنہ چھوٹی گام شوپیان کے بطور ہوئی ۔تینوں مقامی جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں سنیچروار کو مسلسل دوسرے روز بھی ہڑتا ل جاری رہی۔ نمائندے کے مطابق مکمل ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ تعلیمی اداروںمیں بھی تدریسی عمل متاثر رہا۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جس کے نتیجے میں یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھاجبکہ پُر تشدد مظاہروں کے پیش نظر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر قصبے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ادھر جاں بحق جنگجو ﺅں کے آبائی علاقوں میں رقعت آمیز مناظر کے بیچ تعزیتی مجالس منعقد ہوئی اور وہاں لوگوں کا اژدھام رہا ۔ا س موقعہ پر ایک جلوس بھی برآمد ہوا جس میں شامل شرکاءنے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے اور یہ جلوس پ ±رامن طور منتشر ہوا۔اسی دوران دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئی جو مسلسل دوسرے روز بھی بند رہی ۔ موبائیل انٹر نیٹ کی معطلی کے باعث صارفین کو کافی پریشانیوں ہوئی جبکہ کارو باری اور زیر تعلیم طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات جلد از جلد بحال کی جائے ۔ادھر بانہال سے سرینگر تک چلنے والی ریل خدمات بھی دوسرے روز بھی پٹری پر نہ لوٹ سکی۔مسلسل دوسرے روز بھی ریل خدمات کی معطلی کے باعث جنوبی کشمیر کے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ ا۔(سی این آئی )
مودی نے ملک کی اقتصادی حالت تباہ کر دی،وزیر اعظم نے کشمیر اور سرجیکل سٹرائک کو سیاسی مہرے بنائے
کیا ملک میں ”برج ، ہسپتال ، ریلوے اور ہوائی جہاز نہیں تھے جن کو مودی اپنے خاطے میںڈال رہا ہے / راہل گاندھی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوںنے کشمیر کے حالات اور فوج کی کاروائیوں خاص کر سرجیکل سٹرائک کو ہائی جیک کیا ہے اور ان ملک کی سلامتی سے جڑے معاملات کو انتخابی ریلیوں میں ”کیش “کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کی سرکار میں امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کا بول بالا تھا لیکن مودی نے ملک کو پچاس برس پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کیا مودی سرکار سے پہلے دیش ترقی نہیں کررہا تھا کیا یہاں ہسپتال، برج ، ریل سودھیائیں اور ہوائی اڑے نہیں تھے کہ مودی ان ترقی کی چیزوں کو اپنے خاطے میں ڈال رہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق راہل گاندھی نے کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن ہار رہی ہے اور مودی کے چہرے پر نصف انتخابات ختم ہونے کے بعد اب یہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کشمیر مدعے کو سیاسی چیک کی طرح ہر انتخابی جلسے میں کیش کررہے ہیں جبکہ مودی سرجیکل سٹرائک اپنے سر باندھ رہے ہیں جبکہ یہ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے جس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کشمیر کے حالات اب اس قدر سنگین ہیں کہ وہ اب جنت نہیں موت کی گھاٹی لگ رہی ہے تاہم کانگریس کی سرکار میں کشمیر کے حالات اس قدر بہتر تھے کہ افسپاءہٹانے پر غور خوض چل رہا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے اور ہمیں اس کو اسی نظریہ سے دیکھنا چاہئے نہ کہ کشمیر کے خلاف زہر الگنا چاہئے جس سے وہ ہم سے دور چلا جائے ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے پانچ سال میں ملک کی معیشت کو برباد کیا ، بدعنوانی کو پناہ دی اور کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کو نظر انداز کیا ہے۔ ملک کے عوام نے انہیں اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانے کا ذہن بنا لیا ہے۔راہل گاندھی نے کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن ہار رہی ہے اور مودی کے چہرے پر نصف انتخابات ختم ہونے کے بعد اب یہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے عوام کو اذیت دی ہے، سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے اور عالمی سطح پر ملک کی شبیہ کو خراب کیا ہے، لہذا ملک کے عوام انہیں سبق سکھانے جا رہے ہیں۔ ان کی حکومت چند دنوں کی مہمان رہ گئی ہے۔انہوںنے کہا کہ مرکز میں نئی سرکار آنے کے بعد ملک میں شانتی قائم ہوگی اور فرقہ پرستی کا دور ختم ہوجائے گا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مودی اور آر ایس ایس کے کام کرنے کا طریقہ، نیتی آیوگ، الیکشن کمیشن، ریزرو بینک اور سپریم کورٹ جیسے آئینی اداروں پر دباو ¿ بنا کر کام کرنے کا ہے۔ الیکشن کمیشن بھی ان کے کام کرنے کے اسی طریقے سے متاثر نظر آ رہا ہے اور اس وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں وہ کافی کمزور نظر آ رہا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ جب نریندر مودی کو احساس ہوتا ہے کہ وہ الیکشن ہار رہے ہیں تو اس کی واضح جھلک ان کے چہرے پر نظر آنےلگتی ہے اور پھر وہ پورے نظام کو برباد کرنےسے ہچکتے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات انہوں نے گزشتہ انتخابات میں مودی کو ملی شکست کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔ سامنے شکست دیکھ کر وہ کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی کوشش کر کے ووٹروں متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گجرات میں ہار رہے تھے تو وہاں ’سی پلین‘جیسا نیا کام کرکے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم پر فوج کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ مودی فوج کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں۔ فوج کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم تینوں فوجوں کو اپنی پراپرٹی سمجھتے ہیں اور فوج کی توہین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے اپنا کام کیا ہے اور وہ کسی شخص کی نہیں بلکہ ملک کی ہے، وزیر اعظم کو اس کی سیاست نہیں کرنی چاہئے اور فوج کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کا روزگار چھینا ہے، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نافذ کرکے ملک کے کاروباریوں کو برباد کیا ہے۔ ان کی کمزور اقتصادی پالیسی کی وجہ سے متوسط طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔جبکہ مختلف بہانوں سے لوگوں کو ہراساں و پریشان کرنے کی کارروائیاں بھی جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کی سرکار میں امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کا بول بالا تھا لیکن مودی نے ملک کو پچاس برس پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کیا مودی سرکار سے پہلے دیش ترقی نہیں کررہا تھا کیا یہاں ہسپتال، برج ، ریل سودھیائیں اور ہوائی اڑے نہیں تھے کہ مودی ان ترقی کی چیزوں کو اپنے خاطے میں ڈال رہے ہیں ۔ (سی این آئی )
وادی میں موسم میں بہتری سے اہلیان کشمیر نے راحت کی سانس لی
14،15اور18مئی کو پھر شدید بارشیں ہوسکتی ہے /محکمہ موسمیات
سرینگر/04مئی/سی این آئی// وادی میں سنیچروار کی صبح سے ہی موسم میں بہتری ہونے پر اہلیان وادی نے راحت کی سانس لی باالخصوص زمینداروں ،مالکان باغ اور کسانوں میں خوشی کی لہر دور گئی ہے ۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگلے چنددنوں تک وادی میں موسم خوشگوار رہنے کاامکان ہے جبکہ 14،15اور 18مئی کوایک بار پھر شدیدبارشیں ہوسکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سوموار کو کئی روز بعد دھوپ کھلی اور موسم بہتر رہا جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ موسم میں بہتری پر اہلیان وادی نے راحت کی سانس لی جبکہ زمینداروں ، مالکان باغات اور کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیوں کہ لگاتار موسم ابر آلود رہنے اور بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے نتیجے میں تمام فصل کو خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اوراس وقت فصل کےلئے دھوپ نہایت ہی ضروری ہے۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے نے پیش گوئی کی ہے کہ وادی میں اگلے چند دنوںتک موسم خوشگوار رہے گا اوردرجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ تاہم 14،15اور 18مئی کو ایک بار پر شدید بارشیں ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ وادی میں گذشتہ ایک ماہ سے وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانہ درجے کی بارشوں کا سلسلہ گذشتہ روز تک برابر جاری تھا جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے خلاف کسانوں اور مالکان باغات کو کافی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جبکہ موسم میں بہتری کےلئے وادی کے کئی علاقوں میں خصوصی دعاﺅں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا ۔ خاص کر وسطی ضلع گاندربل میںلوگوں نے مخدوم صاحب کے آستان عالیہ پر حاضری دیکر موسم کی بہتری کےلئے خصوصی دعائیہ مجالس کا بھی انعقاد کیا تھا ۔ (سی این آئی )
سابق جنگجوﺅں کی پاکستانی بیویوں کی سرینگر میں پریس کانفرنس
 بچوں کے ہمراہ پاکستان جانے کیلئے دستاویزات فراہم کرنے کا کیا مطالبہ
سرینگر/04مئی/سی این آئی//  کشمیر کے سابق جنگجوﺅں کی پاکستانی بیویوں نے ایک مرتبہ پھرریاستی سرکار سے اپیل کی ہے کہ انہیں بچوں کے ہمراہ پاکستان جانے کیلئے دستاویزات فراہم کئے جائیں تاکہ وہاں جاکر وہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقی ہو سکے ۔ سی این آئی کے مطابق سنیچروار کو سرینگر کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کشمیر کے سابق جنگجوﺅں کی پاکستانی بیویوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں پاکستان جانے کیلئے دستاویزات فراہم کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ باز آبادکاری کی پالیسی کے تحت وہ اپنے بچوںکے ہمراہ کشمیر وارد ہوئے لیکن اب انہیں یہاں سے پاکستان واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کر سکے ۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بار بھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ ا ±نہیں سفری دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ وہ پاکستان جاکر اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مل سکیں۔خواتین نے مرکزی وزریر خارجہ سشما سوراج سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ مداخلت کرکے ا ±ن کا مسئلہ حل کرے۔واضح رہے کہ وہ سینکڑوں خواتین سفری دستاویزات سے محروم ہیں جنہوں نے پاکستان میں کشمیر کے سابق جنگجوﺅں سے شادیاں رچائی تھیں اور جو مذکورہ جنگجوﺅں کی باز آبادکاری پروگرام کے تحت یہاں اپنے شوہروں کے ہمراہ آئی ہوئی ہیں۔مذکورہ پاکستانی خواتین نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک اور سشما سوراج سے مداخلت کی اپیل کی۔ان خواتین نے متعدد بار مظاہرے بھی کئے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ا ±نہیں سیاست کا شکار نہ بنایا جائے۔(سی این آئی )
بھارتی میڈیا منفی پروپگنڈا اور غلط رپورٹنگ سے ورلڈ ریکنگ میں نیچے آیا
پاکستان ،بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں میڈیا غیر جانبدارانہ نہیں ہے ۔ سروے
بھارت کا نیشنل میڈیا سرکار کی طرف جھکا ہوا ہے اور اصل رپورٹنگ نہیں کی جارہی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// بھارتی میڈیا دنیا میں منفی پروپگنڈا کرنے اور غلط رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے”ورلڈ میڈیا رینکنگ میں کافی نیچے چلا گیا ہے جبکہ ”ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس “میںبھی کافی نیچے ہے اور بھارتی میڈیا 189ویں رینکنگ پر پہنچ گیا ہے جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش ، بھوٹان نیپال اور سری لنکا میں بھی میڈیا غیر جانبداری سے کام نہیں کررہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارتی میڈیا دنیا میں منفی پروپگنڈا کرنے اور غلط رپورٹنگ کی پاداش میں ورلڈ میڈیا رینکنگ میں کافی نیچے چلا گیا ہے ۔ بھارت ’ورلڈ پریس فریڈیم انڈیکس‘ میں مزید نیچے آ گیا ہے، جہاں 2018ءمیں سات صحافی قتل ہوئے؛ اور انتخابات کے قریب آتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے حامیوں کی جانب سے صحافیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ اور اب قومی سطح کے میڈیا ہاو ¿سز بھی حکومت کے ترجمان بن کر رہ گئے ہیں۔ ایک بین الاوامی ادارے کی جانب سے کی گئی سروسے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں جو مواد دکھایا اور شائع کیا جارہا ہے اس میں سے 90فیصدی منفی پروپگنڈاپر منبی رپورٹنگ ہوتی ہے ۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا غیرجانبداری سے کام نہیں لے رہاہے بلکہ سرکاری اداروں کی جانب سے جو اطلاعات فراہم کی جارہی ہے ان ہی اطلاعت پر مبنی رپورٹنگ ہورہی ہے اور ذرائع ابلاغ کے ادارے حقوقت کوکھل کر بیان نہیں کررہے ہیں ۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کا نیشنل میڈیا حکومت کی طرف جھکا ہوا ہے جبکہ اصل صحافت کچھ اور ہے جس کی طرف نیشنل میڈیا دھیان نہیں دے پارہا ہے ۔ یا لالچ یا پھر خوف کی وجہ سے اصل حقائق کو چھپا یا جارہا ہے ۔سروے میں پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بھی صحافت آزاد نہیں ہے پاکستانی میڈیا کو بھی اصل حقائق منظر عام پر لانے کی کھل کر اجازت نہیں ہے بلکہ ایجنسیوں کے دباﺅ میں کام کیا جارہا ہے ۔ تاہم بھارتی میڈیا سے کافی جدا ہے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ پر یقین رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال اور دیگر چھوٹے ممالک میںبھی صحافت آزاد نہیں ہے بلکہ ان ممالک میں بھی میڈیا حکومتوں کے تابع کام کررہی ہے ۔ (سی این آئی )
سوشل میڈیا کو حالات خراب کرنے کےلئے استعمال کرنے والوں پر کڑی نظر
فیس بک نے نفرت پھیلانے پر متعدد شخصیات پر پابندی لگا دی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// سوشل میڈیا کی سب سے مشہور ویب سائٹ، فیس بک نے ’نیشن آف اسلام‘ کے لیڈر لوئیس فراخان، دائیں بازو کے مبینہ سازشی نظریات پھیلانے والے الیکس جونز اور کئی اور شخصیات پر ‘ہیٹ سپیچ’ کی بنیاد پر پابندی لگا دی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق فیس بک نے کہا کہ ان افراد نے مبینہ طور پر ”سوشل میڈیا ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد پھیلانے کی کوشش کی ہے“۔فیس بک کے ایک ترجمان نے کہا کہ “افراد اور ادارے جو نفرت پھیلاتے ہیں اور دوسرے گروہوں کو ان کے تشخص کی بنیاد پر معاشرے سے خارج کرنے کے مطالبات کرتے ہیں ان کی فیس بک پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ چاہے ان کے کوئی بھی نظریات ہوں۔”ایسے افراد پر ’انسٹاگرام‘ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔فیس بک نے ان افراد کی جانب سے کی گئی کسی خاص پوسٹ کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ایلکس جونز اپنی سازشی تھیوریاں پھیلانے کے لیے مشہور ہیں جیسے نو ستمبر 2011 کے واقعات کے پیچھے حکومت کا ہاتھ تھا یا 2012 میں امریکی ریاست کنیکٹی کٹ میں سینڈی ہوک میں فائرنگ کے واقعات میں ہونے والی قتل و غارت کے بارے میں کہا تھا کہ یہ سب جھوٹا واقعہ ہے۔ایلکس جونز نے فیس بک کی جانب سے ان پر لگائی گئی پابندی کے جواب میں کہا گیا کہ انہیں بدنام کیا گیا ہے۔ایک اور انتہائی بائیں بازو کے راہنما پاو ¿ل جوزف پر نسل پرستی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے فیس بک کے قوانین نہیں توڑے ہیں اور ان سے اتفاق کرنے والے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر دباو ¿ ڈالیں کہ وہ ان کے لئے کوئی ایکشن لیں۔قوم پرست بلیک امریکیوں کے گروپ ’نیشن آف اسلام‘ کے راہنما فاراخان پر یہودیوں کے خلاف نسل پرستانہ نفرت پھیلانے اور بلیک امریکی علیحدگی پسندی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے فیس بک کے الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔فیس بک کی جانب سے انتہائی دائیں بازو کے دیگر راہنما جن پر پابندی لگائی گئی ہے میں پاو ¿ل نیہلن، لارا لومر اور مائلو یانوپولوس شامل ہیں۔(سی این آئی )
عالیہ اور نتظامیہ کی پابندی کے باوجود شہر سرینگر سمیت شمال و جنوب میں روسی سفیدوں کی بھر مار
 اسکولوں اور کالجوںمیں زیر تعلیم طلبہ اور عام لوگوں کو مشکلات ،متعلقہ محکمہ خاموش تماشائی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// عدالت عالیہ اور نتظامیہ کی پابندی کے باوجود بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میںخاص کر اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ ساتھ جھیل ڈ ل کے ارد گرد روسی ساخت کے سفیدوں کے درخت کثرت سے پائے جارہے ہیں جس جس کے نتیجے میں ان درختوں سے گر نے والی روئی سے لوگ مختلف بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں ۔ادھر عوامی حلقوں نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی پابندی کی وجہ سے درختوں کی ہر جگہ بھر مار پائی جاتی ہے اور متعلقہ حکام کی انکھوں پر پٹی بندھی ہو ئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں روسی ساخت کے درختوں کے اُگانے اور اس کی خریدوفروخت پرمکمل پابندی اگر چہ حکومت نے عائد کر رکھی ہے لیکن متعلقہ محکمہ اس حکمنامے کو عملی جامہ پہنانے پر ناکام ہو چکا ہے کیونکہ وادی کے اطراف و اکناف میں روسی سفیدے کے درخت برابر موجود ہے اس دوران جھیل ڈل کے ارد گرد ہزاروں کنال پھر پھیلی سڑک اور اراضی پر سفیدے کے درخت کثرت سے موجود ہے جس کی وجہ سے جھیل ڈل کے پانی پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ اس ضمن میں وادی کے شمال و جنوب سے سی این آئی نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ روسی سفیدے کے درختوں کی ہر جگہ بھر مار ہے ۔نمائندوں کے مطابق پبلک مقامات کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور کالجوں کے آس پاس سفید روسی درختان بڑی تعداد میں موجود ہے جس کی وجہ سے ان روسی سفیدے درختوں سے گر نے والے روئی کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ عام لوگ نزلہ ،کھانسی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔نمائندوں کے مطابق اگرچہ انتظامیہ اور ضلعی سطحوں پر ان روسی روسی سفیدے کے درختوں کے اُگانے پر پابندی عائد کردی لیکن زمینی سطح پر اس حکمنامے کو عملی جامہ پہنانے میں حکومتی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اور متعلقہ محکمہ جات کی آنکھوں پر جیسے پڑی بندھی ہوئی ہو ۔ نمائندوں کے مطابق عوامی حلقوں میں اس بات کو لیکر سخت غم و غصہ کی لہر پائی جاری ہے کہ انتظامیہ پابندی کے باوجود بھی ان روسی سفیدے کے درختوں پر روک لگانے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پبلک مقامات سے دور انتظامیہ اسکولوں اور کالجوں کے ارد گرد ان درختوں کو ہٹانے میں کوئی مثبت اقدامات عمل میں نہیں لاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی پڑھائی پر بُر ا اثر پڑ رہا ہے اور اکثر بچے اسکو ل جانے کے بجائے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔نمائندوں کے مطابق عوامی حلقوں نے ایک بار پھر ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان درختوں کی مکمل روک لگانے کے لئے مثبت اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔ (سی این آئی )
غزہ میں پر امن احتجاجی مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی جارحیت
فائرنگ سے 2 نوجوان سمیت چار افراد جاں بحق ، 51 زخمی
سرینگر/04مئی/سی این آئی// اسرائیلی فوج کی جارحیت میں 4 فلسطینی نوجوان از جاں اور خواتین و بچوں سمیت 51 فلسطینی زخمی ہوگئے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ پٹی پر اپنے گھروں کو واپسی مہم کے 57 ویں مارچ کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 نوجوان 31 سالہ رمزی اور 19 سالہ رائد خلیل ابوذر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں مزید دو فلسطینی نوجوان 33 عبداللہ ابراہیم ابو ملوح، اور 29 سالہ اعلا البوبالی از جاں ہوگئے۔غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور شیلنگ سے 51 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک فاطمہ حجازی ہیں جن کے سر پر گولی ماری گئی ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں جب کہ خاتون صحافی سفینہ کا ہاتھ زخمی ہوا دیگر زخمیوں میں 10 بچے، 2 خواتین اور 3 پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے سے اسرائیلی حدود میں تقربا 50 راکٹ داغے گئے، جس کے رد عمل میں اسرائیلی فضائیہ نے کارروائی کی جب کہ غزہ کی سرحد پر ’گریٹر مارچ‘ کے دوران مظاہرین نے اسرائیلی افواج پر پتھراو کیا جس سے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔واضح رہے کہ نہتے فلسطینی شہری گزشتہ برس مارچ سے یوم الارض کے موقع پر اپنے گھروں کو واپسی کی مہم کے تحت ہر جمعے کو پر امن احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں 57 مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی جارحیت میں 300 سے زائد فلسطینی شہید اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔(سی این آئی )
چین میں مسلمانوں کی جاسوسی کے لیے موبائل ایپ کا استعمال
خصوصی ایپ سے مسلمانوں سے متعلق تحقیقات اور انہیں حراست میں لینے کا کام کیا جاتا ہے
سرینگر/04مئی/سی این آئی// انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک عالمی گروپ ہیومن رائٹس واچ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ کے شمال مغربی علاقے میں چینی حکام مسلمانوں کی جاسوسی کے لیے ایک موبائل ایپ استعمال کر رہے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک عالمی گروپ ہیومن رائٹس واچ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ کے شمال مغربی علاقے میں چینی حکام مسلمانوں کی جاسوسی کے لیے ایک موبائل ایپ استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس خصوصی ایپ سے مسلمانوں کے متعلق تحقیقات اور انہیں پکڑنے کا کام لیا جاتا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ موبائل ایپ عام لوگوں کے بارے میں وسیع تر معلومات اکھٹی کرتا ہے۔ جس میں ان کے خون کا گروپ، قد و قامت، یہاں تک کہ مذہبی ماحول اور سیاسی خیالات کے بارے میں بھی ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔ایپ لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے جس کے لیے ان کے فون، موٹر سائیکل یا کار اور شناختی کارڈ پر نظر رکھی جاتی ہے اور کسی بھی قسم کے مشکوک رویے کو نوٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے کیا زیر نگرانی شخص اپنے پڑوسیوں سے تعلقات رکھتا ہے یا نہیں یا وہ ضرورت سے زیادہ بجلی کا استعمال کر رہا ہے، یا اس کا میل جول کس طرح کے افراد سے ہے۔ وغیرہ۔ہیومن رائٹس واچ سے منسلک چین میں تعینات تحقیق کار مایا وانگ کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں پولیس ‘لوگوں کے قانونی حقوق کے بارے میں غیر قانونی طریقے سے معلومات اکٹھی کر کے، اسے ان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔”چین کے صوبے سنکیانگ میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد یغور اور دوسری مقامی نسلی اقلیتیں ا?باد ہیں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔چین کو حالیہ عرصے میں لگ بھگ دس لاکھ مسلمانوں کو خصوصی حراستی سینٹرز میں رکھنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خصوصی حراستی مراکز میں اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباو ¿ ڈالا جاتا ہے۔ چین ان الزام سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا کہ وہ اصلاحی مراکز ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017 میں پاکستانی تاجروں سے شادیاں کرنے والی 40 ویغور مسلمان خواتین غائب ہو گئی تھیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ انہیں حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے۔ حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کو آزادی حاصل کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کی سوچ و فکر اور رہن سہن چینی معاشرے سے مناسبت رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک پاکستانی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ حراستی مرکز میں اس کی بیوی کو “سور کا گوشت کھانا پڑا، شراب پینی پڑی اور یہ سب کچھ اسے اب بھی کرنا پڑتا ہے۔”ایک اور شوہر نے بتایا کہ “اس کی بیوی کو رقص کرنے اور مختصر لباس پہننے پر مجبور کیا گیا۔”ایک اور شوہر نے کہا کہ “اس کی بیوی کو حکام نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہا کہ اس کے خیالات انتہاپسندانہ نہیں ہیں اور یہ کہ اسے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد ہی حراستی مرکز سے جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔اس نے بتایا کہ اس کی بیوی نے نماز اور قرآن پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور اس کی بجائے اب وہ چین کے بارے میں کتابیں پڑھتی ہے۔(سی این آئی )
CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply