Latest News

CNI News Bulletin (Urdu)5th ofMay

Web Desk

سخت حفاظتی انتظامات اور ہائی الرٹ کے بیچ اننت ناگ پارلیمانی نشست کیلئے آخری مرحلے میں ووٹنگ آج
پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں 697,148 رائے دہندگان اپنے ووٹ کا استعمال کرینگے ، تین دائروں والی سیکورٹی انتظامات
سرینگر/05مئی/سی این آئی// سخت حفاظتی انتظامات اور ہائی الرٹ کے بیچریاست جموںوکشمیر میں5مراحل پر محیط پارلیمانی انتخابات آج یعنی 6مئی کو مکمل ہوں گے۔ جس میں اننت ناگ پارلیمانی نشست کیلئے تیسرے اورا ٓخری مرحلے کے تحت ضلع شوپیان اور پلوامہ میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس سلسلے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور پُر امن و آزادانہ ووٹنگ کےلئے پولیس و فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ووٹنگ مراکز اور ان کے گرد نواح کے علاقوں میں پولیس کے علاوہ بی ایس ایف اور سی آر پی ایف و ایس ایس بی کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ ان سبھی علاقوں میں گشت تیز کردی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اننت ناگ پارلیمانی حلقہ کیلئے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر تین مراحل میں ووٹ ڈالیں جا رہے ہیں جن میں سے پہلے مرحلے کے تحت اننت ناگ جبکہ دوسرے مرحلے میں ضلع کولگام میں ووٹنگ ہوئی ۔ ہفتہ کی شام اننت ناگ اور لداخ پارلیمانی نشستوں کیلئے چناوی مہم اختتام پذیر ہوئی ۔پلوامہ اور شوپیاں میں قائم کئے گئے پولنگ مراکز میں 90فیصد کو انتہائی حساس زمرے میں رکھا گیا جبکہ دیگر10فیصد پولنگ بوتھوں کو حساس زمرے میںرکھا گیا ۔ سی این آئی کے مطابق ریاست جموں کشمیر میں جاری عام انتخابات 2019کے سلسلے میں جہاں بارہمولہ اور سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالیںگے وہیں تین مراحل میں میں اننت ناگ پارلیمانی نشست کیلئے ہونے والی ووٹنگ کے تیسرے مرحلے میں ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انتخابات کی تیاریوں کو حمتی شکل دی گئی ۔آج یعنی سوموار کو اننت ناگ پارلیمانی نشست کے تیسرے مرحلے کے تحت ضلع پلوامہ اور شوپیان میں آج یعنی سوموار کو دونوں اضلاع میں ووٹنگ ہو گئی ۔اننت ناگ پارلیمانی حلقہ کیلئے اگرچہ ضلع اننت ناگ کے ساتھ ساتھ کولگام ، پلوامہ اور شوپیان میں بھی ووٹ ڈالئے جانے ہیں تاہم سیکورٹی وجوہات کی بنا پر الیکشن کمیشن نے اس حلقہ انتخاب میں تین مرحلے کے تحت الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا جس میں سب سے پہلے ضلع اننت ناگ میں ووٹنگ ہوئی جبکہ دوسرے مراحلے میں ضلع کولگام میں ووٹنگ ہوئی اورا ب آخر ی پر شوپیان اور پلوامہ میں ووٹنگ ہونی ہے ۔ سوموار کو ضلع پلوامہ اور شوپیان میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ان سبھی انتخابی حلقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ ووٹنگ کےلئے سارے ضروری انتظامات کئے گئے ہیں اور ووٹنگ عملے کو ضروری سامان کے ساتھ اتوار کی صبح اپنے اپنے پولنگ مراکز کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس دوران ضلع میں پُر امن انتخابات کےلئے سیکورٹی کے موثر انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ سبھی پولنگ مراکز کو مکمل طور سیکورٹی فورسز کی تحویل میں دیا گیا ہے۔ امن دشمن عناصر اور جنگجووں کی طرف سے ووٹنگ عمل میں رخنہ ڈالنے کی کسی بھی کاروائی کو ناکام بنانے کےلئے پورے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور سبھی انتخابی حلقوں میں پولیس و فورسز کی بھاری تعداد تعینات کردی گئی ہے جبکہ پولنگ مراکز و ان کے گردنواح میں ریاستی پولیس کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف، سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے سینکڑوں اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ووٹروں کو پُر امن اور بلا کسی خلل کے اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کےلئے بھی معقول انتظامات کئے گئے ہیں۔جنگجووں کی طرف سے کسی بھی قسم کی تشدد کی کاروائیوں کو ناکام بنانے کےلئے فوج کو بھی تیار رہنے کو کہا گیا ہے جبکہ سبھی اسمبلی سیٹوں کے پولنگ مراکز کو بھی سخت ترین سیکورٹی کی تحویل میں دیا گیا ہے اور پولنگ مراکز کے ارد گرد پولیس و فورسز اہلکاروں کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اننت ناگ پارلیمانی حلقہ کیلئے کانگریس کے صدر غلام احمد میر ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ، نیشنل کانفرنس کے جسٹس حسنین مسعودی کے علاوہ 18امید وار امیدوار بھی میدان میں ہے۔آخری مرحلے میں لداخ پارلیمانی حلقہ اور اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے پلوامہ۔ شوپیاں اضلاع میں لگ بھگ 697,148 رائے دہندگان اپنے ووٹ کا استعمال کریںگے۔اِن میں 357,879مرد ،335,799خواتین ، 3,456سروس ووٹر ( 3401مرد اور 55خواتین) کے علاوہ 4خواجہ سرا شامل ہیں۔اِن حلقہ انتخاب میں احسن طریقے پر اِنتخابی عمل یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن آف اِنڈیا نے اِن علاقوں میں 1254پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔لداخ پارلیمانی حلقے میں دو اضلاع لیہہ اور کرگل شامل ہیں۔ کرگل ضلع کے دو اسمبلی حلقے کرگل اور زانسکار جبکہ لیہہ ضلع کے نوبرااور لیہہ اسمبلی حلقو ں پر مشتمل ہے۔لداخ حلقہ انتخاب میں 174,618ووٹر ہیں ان میں سے 86,752مرد ،85,064خواتین ،2799سروس ووٹر ( 2755مرد اور 44خواتین ) کے علاوہ تین خواجہ سرا شامل ہیں۔ای سی ا?ئی نے پورے حلقے میں 559پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔کرگل ضلع کے 87,781رائے دہندگان میں 44,057مرد ،42,405خواتین ،1,318سروس ووٹر ( 1,315مرداور تین خواتین ) کے علاوہ ایک خواجہ سرا ووٹرہے۔اسی طر ح لیہہ ضلع کے 86,827 رائے دہندگان میں 42,695مرد ،42,659خواتین،1481سروس ووٹر ( 1440مرد اور 41خواتین) کے علاوہ دو خواجہ سرا ووٹر ہیں۔الیکشن حکام نے ضلع بھر میں انتخابات احسن طریقے منعقد کرنے کے لئے 294پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔ ای سی آئی نے لیہہ ( گائیک) اور نوبرا ( واشی) حلقوں میں دو پولنگ مراکز قائم کئے ہیں جہاں صرف 7رائے دہندگان موجود ہیں جبکہ لیہہ ( شینام)جہاں سب سے زیادہ 1301رائے دہندگان موجود ہیں میں بھی پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔اَنلیفو( چانگ تھانگ ) جو لیہہ ضلع کا سب سے زیادہ 15,000فٹ اونچائی پر واقع پولنگ مرکز قائم کیا گیا ہے۔یہ مرکز ایل اے سی سے صرف 50میٹر کی دوری پر قائم کیا گیا ہے۔(سی این آئی )
زینہ پورہ شوپیان میں 24حساس پولنگ اسٹیشنوں پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عملے کی تعیناتی
سیکورٹی سیکورٹی انتظامات کے بیچ پلوامہ اور شوپیان میںپولنگ عملے پر سنگبازی ، فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں
سرینگر/05مئی/سی این آئی// اننت ناگ پارلیمانی نشست کیلئے آخری مرحلے میں سوموار کو ہونے والی ضلع پلوامہ اور شوپیان میں ووٹنگ کے بیچ انتظامیہ نے شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں 24حساس پولنگ اسٹیشنوں کیلئے ہوائی خدمات کے ذریعے عملے کی تعیناتی عمل میں لائی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ انتہائی سخت سیکورٹی کے بیچ دونوں اضلاع میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ سی این آئی کو نمائندے نے شوپیان سے اطلاع دی ہے کہ پارلیمانی نشست اننت ناگ کیلئے سوموار کو ہونے والی ووٹنگ کے بیچ انتظامیہ نے پولنگ عملے کو فضائی خدمات کے ذریعے پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا دیا ہے ۔ نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کو ضلع پولیس لائینز شوپیان سے سب ضلع زینہ پورہ میں 24حساس پولنگ اسٹیشنوں کیلئے عملے کو فضائی خدمات کے ذریعے پولنگ بوتھوں تک پہنچا دیا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 24پولنگ اسٹیشنوں کیلئے ای وی ایمز کے ساتھ پولنگ عملے کو ضلع پولیس لائیز شوپیان سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مقررہ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا دیا گیا ۔ خیال رہے کہ زینہ پورہ علاقہ انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اور سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کے بیچ بھی پولنگ عملے کیلئے انتظامیہ کو فضائی خدمات حاصل کرنے پڑی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو برقر ار رکھنے کیلئے اس طرح کے اقدمات اٹھائیں گئے ہیں ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب کئی مقامات پر نوجوانوں نے پولنگ عملے کو لے جا رہی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر سنگبازی کی جس دوران فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے نوجوانوں کا تعاقب کیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے جواب میں فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کرنا پڑا ۔ خیال رہے کہ اننت ناگ پارلیمانی نشست کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تین مراحل کے تحت ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس دوران آخری مرحلے کے تحت سوموار کو ضلع پلوامہ اور شوپیان کیلئے ووٹنگ ہونے جا رہی ہے ۔ (سی این آئی )
فروری میں سیکورٹی واپس لی گئی اور مئی میں گل محمد پر ہوا حملہ
بی جے پی لیڈر کی موت پر وزیر اعظم اور گورنر ستیہ پال ملک کااظہار افسوس
سرینگر/05مئی/سی این آئی// ککر نا گ اننت ناگ میں گذشتہ روز مارے گئے بی جے پی لیڈر کی ہلاکت پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے سخت برہمی کااظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس طرح کی ہلاکتیں ملک میں ناقابل قبول ہے اور قصواروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ادھر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے گل محمد کی ہلاکت پر سخت افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی لیڈران کی ہلاکتوں میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوںنے تمام سیاسی لیڈران کی سیکورٹی سخت کرنے کی بھی صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق گذشتہ روز سنیچر وار کو ککر ناگ اننت ناگ میں نامعلوم بندوق برداروںنے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب صدر ضلع گل محمد میر کو گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا جو بعد میں ہسپتال لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ بی جے پی لیڈر کی ہلاکت پر آج وزیر اعظم نریندر مودی نے سخت دکھ اور افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی کارروائیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ قابل مذمت ہے ۔ انہوںمتاثرہ کنبے کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں گل محمد نے بی جے پی کےلئے بہت کام کیا جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادھر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے گل محمد کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی ہلاکتوں میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس دوران ستیہ پال ملک سیاسی لیڈران کی سکورٹی مزید سخت کرنے کا بھی حکم جاری کیا ہے ۔ انہوںنے گذشتہ پانچ ماہ میں ہوئی سیاسی ہلاکتوں کی جانب کا بھی حکم جاری کیا ہے ۔ گورنر ستیہ پال ملک نے گل محمد کے اہلخانہ کے ساتھ اپنی ہمدردی اور یکجہتی کااظہار کیا ہے ۔ یاد رہے کہ گل محمد المروف اٹل بھارتیہ جنتا پارٹی کا دیرینہ رکن ہے جس نے وادی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مضبوط کرنے میں اہم رول اداکیا ہے جبکہ گل محمد کی ذاتی سیکورٹی بھی تھی جس کو رواں برس کے ماہ فروری میں واپس لیا گیا تھا ۔ (سی این آئی )
راجوری اور کرشنا گھاٹی سیکٹر میںآر پار گولہ باری ، فوجی پورٹر زخمی ، کئی دھانچوں کو نقصان
کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول پر زیر زمین بچھائی گئی باردوری سرنگ دھماکے میں دو فوجی اہلکار زخمی
سرینگر/05مئی/سی این آئی// راجوری اورکرشنا گھاٹی سیکٹر میں آر پار گولہ باری کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوئے ۔ جبکہ آر پار شدید گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی علاقے دہل اُٹھے اور لوگ اپنے گھروں میں سہم کے رہ گئے ۔ ادھر بھارت نے پاکستانی فوج پر الزام لگایا ہے کہ پاک فوج نے اتوار کے روز بلا اشتعال بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بناکر جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے جواب میں بھارتی فوج نے بھی اپنے بندوقوں کے دہانے کھولے ۔ ادھر کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ پھٹ جانے سے دو فوجی اہلکار زخمی ہو گئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق راجوری اور کرشنا گھاٹی سیکٹروں میں آج اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر شدی گولہ باری ہوئی ہندوپاک افواج کے مابین دوطرفہ گولہ باری کی وجہ سے ایک عام شہری محمد مہروف ولد مخن محمد ساکنہ چلس کیری سیکٹر راجوری زخمی ہوا ہے جو کو فوری طور پر علاج و معالجہ کےلئے ہسپتال پہنچایا گیا ۔ اس دوران آر پار گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں لوگ سہم کے رہ گئے جبکہ بھارتی فوج نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فوجی چوکیوںکو نشانہ بناکر بلا اشتعال فائرنگ شروع کی جس کی وجہ سے ایک شہری خمی ہوا ہے تاہم بھارتی فوج نے بھی پاکستان فوج کے خلاف بھر پور جواب دیا ۔واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان افواج کے مابین کشیدگی بڑھتی ہی جارہی ہے اور کچھ دنوں تک خاموشی کے بعد پھر گذشتہ دنوں سے آرپار گولہ باری جاری ہے ۔ ادھر کپواڑہ سے نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کپواڑہ کے کتھن والا سیکٹر میں اس وقت زور دار دھماکہ ہوا جب زیر زمین بچھائی گئی ایک باردوری سرنگ کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہو گئے ، پولیس ذرائع کے مطابق فوج کی ایک گشتی پارٹی معمول کے مطابق گشت پر جا رہی تھی جس دوران باردوری سرنگ کا دھماکہ ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں زخمو ں فوجی اہلکاروں کو فضائی خدمات کے ذریعے سرینگر کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج و معالجہ جاری ہے ۔ (سی این آئی )
مودی سرکار سے پہلے کانگریس حکومت میں بھی سرجیکل سٹرائک ہوئی تھیں
لفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا کا دعویٰ ، من موہن سنگھ کے دور میں کئی بار ایسا ہوا
سرینگر/05مئی/سی این آئی// سابقہ فوجی سربراہ ڈی ایس ہڈا نے کہا ہے کہ کانگریس حکومت میں بھی سرجیکل سٹراکیں ہوئی ہیں خاص کر من موہن سنگھ کے دورحکومت میں بھی بھارتی سینا نے پاکستان کے خلاف کئی مرتبہ سرجیکل سٹرائک کی تھیں۔ انہوںنے کہا کہ انتخابی جلسوں میں فوج کے نام کا استعمال کرنا غلط ہیں اور اسطرح سے فوج کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارتی سابقہ فوجی سربراہ لفٹننٹ ڈی ایس ہڈا نے مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران فوج کے نام کو ووٹ حاصل کرنے کےلئے استعمال کررہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ صرف مودی سرکار میں ہی سرجیکل سٹرائک نہیں ہوئی ہے بلکہ کانگریس کے دورمیں بھی سرجیکل سٹرائکیں ہوئیں خاص کر من موہن سنگھ کے دورمیں کئی بار ایسی کارروائیاں کی گئی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈی ایس ہڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی فوج مودی حکومت کے آنے سے قبل بھی سرجیکل اسٹرائیک کرتی رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی فوج کا نام انتخابی تشہیرمیں استعمال کیا جانا اچھی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سال 2016 میں اڑی حملے کے بعد پاکستان میں ہوئی سرجیکل اسٹرائیک میں ہڈا نے کافی اہم کردارادا کیا تھا۔گزشتہ سال فروری میں انہوں نے یہ دعوی کرکے تہلکہ مچا دیا تھا کہ اڑی حملے کے بعد ہوئی سرجیکل اسٹرائیک کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ ڈی ایس ہڈا اس سال کانگریس کی اس ٹاسک فورس میں شامل ہوگئے تھے، جو ملک کی سیکورٹی پروڑن ڈاکیومنٹ تیارکررہی تھی۔ڈی ایس ہڈا سے جب کانگریس کے اس دعوے کے بارے میں پوچھا گیا کہ یوپی اے حکومت کے دوراقتدارمیں بھی کیا 6 سرجیکل اسٹرائیک ہوئی تھیں تو انہوں نے کہا ‘فوج نے ایسا پہلے بھی کیا ہے، لیکن مجھے اس کی تاریخ اوریہ کن علاقوں میں ہوئی اس کے بارے میں ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہے’۔واضح رہے کہ ان دنوں ملک میں سرجیکل اسٹرائیک کولے کرمسلسل بیان بازی چل رہی ہے۔ گزشتہ دنوں کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران 6 سرجیکل اسٹرائیک کی گئی تھیں۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی انتخابی فائدے کےلئے ملٹری آپریشن کی بات کررہی ہے جو کہ شرمناک ہے۔فوج کےسابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس سرجیکل اسٹرائیک کے موضوع پرجھوٹ بول رہی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کے مطابق ان کی مدت کارمیں کبھی بھی کوئی سرجیکل اسٹرائیک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا ‘کانگریس کوجھوٹ بولنے کی عادت ہے، کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ میری مدت کارمیں کس سرجیکل اسٹرائیک کی آپ بات کررہے ہیں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ نے کوئی نئی کہانی بنا دی ہے’۔وزیراعظم نریندرمودی نے جمعہ کو ایک ریلی میں کہا ‘اے سی کمروں میں بیٹھ کرکاغذ پرسرجیکل اسٹرائیک کانگریس ہی کرسکتی ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ اہم نے تین بارسرجیکل اسٹرائیک کی، کل کہا کہ ہم نے 6 بارکی۔ اب کچھ دن میں کہہ دیں گے کہ ہم نے ہرروز اسٹرائیک کی۔ الیکشن ختم ہوتے ہوتے یہ تعداد 600 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ لیڈرویڈیو گیم کھیلتے ہیں اورشاید سرجیکل اسٹرائیک کوگیم مان کرآنند لیتے ہیں’۔(سی این آئی )
سالانہ امرناتھ یاتر ا 2019، جموں میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ
بین الاقوامی سرحد پر سیکورٹی ہائی الرٹ ، سرینگر جموں شاہراہ پر بھی اضافی دستوں کی تعیناتی کو ہری جھنڈی
سرینگر/05مئی/سی این آئی// سالانہ امرناتھ یاتر ا کے سلسلے میں حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔اور فوج و فورسز کو کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی حالات میں رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ 46دنوں پر محیط پر سالانہ امرناتھ یاترا یم جولائی سے شروع ہو گی اور 15اگست کو اختتام پذیر ہو رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر جموں میں سیکورٹی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ فوج ، سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ میٹنگ جس کی صدارت ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں سانبہ کھٹوعہ رینج نے کی ۔ میٹنگ میں امرناتھ یاترا کیلئے سیکورٹی انتظامات پر بحث ہوئی جب میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ امرناتھ یاترا کی خوش اسلوبی کیلئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا متحرک کیا جائے ۔ میٹنگ کے دوران اس بات پر زوریا کہ بین االاقوامی سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کو چوکس کیا جائے اورا س کے ساتھ ساتھ لکھن پورہ سے سرینگر تک شاہراہ پر سیکورٹی کے اضافے دستے تعینات کئے جائیں تاکہ کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ رونما نہ ہو سکے ۔ میٹنگ میں ایس ایس پیز کو ہدایت دی گئی کہ وہ روزنہ بنیادوں پر ٹریننگ پروگراموں کو سلسلہ شروع کریں تاکہ پولیس اہلکاروں کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رکھا جائے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ میں کچھ افسران نے اس بات پر زور دیا کہ فورسز اہلکاروں کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں کو بھی استعمال میں لایا جائے جبکہ انہیں جدید سامان سے لیس کیا جا سکے تاکہ جنگجوﺅںکے کسی بھی منصوبہ کو ناکام بنایا جاسکے ۔ (سی این آئی )
سرینگر جموں شاہراہ پر رامسو کے نزدیک المناک حادثہ
غیر ملکی سیاح از جاں ، تین شدید زخمی ، علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل
سرینگر/05مئی/سی این آئی// سرینگر جموں شاہراہ پر اتوار کی صبح سڑک کے ایک المناک حادثے میں غیر ملکی سیاح از جاں ہو گیا جبکہ تین مزید شدید زخمی ہو گئے جن کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پر اتوار کی صبح سڑک کا ایک المنا ک حادثہ پیش آیا جس دوران غیر ملکی سیاح کی موت واقع ہوئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح سرینگر سے جمو ں کی طرف آ رہی ایک سیاحوں سے بھری گاڑی جونہی رامسو کے نزدیک پہنچ گئی تو اچانک ایک پتھر گر آیا جو گاڑی سے ٹکرا گیا ۔ جس کے نتیجے میں گاڑی سوار چار سیاح شدید طور زخمی ہو گئے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اگرچہ تمام سیاحوں کو علاج و معالجہ کیلئے نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک سیاح 43سالہ سنیل ساکنہ اشوک نگر مہارشٹرا زخمی کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹا۔جبکہ تین دیگر زخمیو ں کو علاج و معالجہ کیلئے رامسو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج و معالجہ جاری ہے ۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رامسو کے مقام پر بھاری پتھر گر آنے کے نتیجے میں سڑک کا حادثہ پیش آیا جس دوران ایک سیاح کی موت واقع ہوئی جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے ۔ جو اسپتال میں زیر علاج ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ (سی این آئی )
پلوامہ میں ایک اور نوجوان عسکری صفوں سے
گھر واپس لوٹ آیا / پولیس کا دعویٰ
سرینگر/05مئی/سی این آئی// جموں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ضلع پلوامہ سے ایک اور نوجوان نے عسکریت کو خیر آباد کہہ کر گھر واپسی کی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر پولیس نے اپنی ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ © ©”جنوبی ضلع پلوامہ کے ایک اور نوجوان نے عسکریت کا راستہ ترک کر گھر واپسی کی ہے“ ۔انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہم ان کی واپسی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور آئندہ کیلئے انہیں نیک خواہشات پیش کرتے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت چھوڑ کر گھر واپس آنے والا نوجوان عسکری تنظیم جیش محمد سے وابستہ تھا ۔ اور انہوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کو مین اسٹریم میں شمولیت کی ہے ۔ خیال ہے کہ کئی دن قبل بھی ایک نوجوان نے عسکریت کا راستہ چھوڑ کر گھر واپسی کی تھی ۔ (سی این آئی )
ماہ رمضان سے قبل اتوار اور خوشگوار موسم کے پیش نظر
سیاحتی مقامات پر مقامی لوگوںکی بھاری بھیڑ اُمڈ آئی ، قدرتی مناظر سے لطف اندوز
سرینگر/05مئی/سی این آئی// ماہ رمضان سے قبل اتور کو موسم خوشگوار ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں نے سیاحتی مقامات کی طرف رخ کیا جس کی وجہ سے مغل باغات اور دیگر سیاحتی مقامات پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اس دوران سیاحتی مقامات کے آس پاس والے علاقوں میں ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کوشدید دشواریوں کا بھی سامناکرناپڑا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق 7مئی 2019سے ماہ صیام سے قبل اتوار کو موسم بہتر رہنے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے سیاحتی مقامات کی طرف رُخ کیا ہے ۔ موسم خوشگوار ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں نے صیام سے پہلے سیر تفریح کو ہی ترجیح دی جس کے نتیجے میں مغل باغات کے علاوہ سیاحتی مقامات پر لوگوں کا اژھام اُمڑ آیا جہاں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں مل رہی ہے ۔ شہر سرینگر کے مغل باغات ، نشاط ، شالیمار اور ہارون کے ساتھ ساتھ نہرو پار ک ، زبرون پار، باٹنی کل گارڈن کے علاوہ دیگر جگہوں پر کافی رش دکھائی دیا جبکہ ان سیاحتی مقامات پر لوگوں کی کافی تعداد موجود ہونے سے آس پاس کے علاقوں میں ٹریفک جام اس قدر ہوا کہ جو گاڑی جس راستے جاتی تھی واپس مڑنے کےلئے جگہ ہی نہیں ملتی تھی اور انہیں دوسرے راستے کو اختیار کرنا پڑتا تھا ۔ ادھر بادام واری میں بھی آج لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھنے کو ملی جہاں بادام واری کی طرف جانے والے تمام راستوں پر اس قدر ٹریفک جام تھا کہ جو افراد رعناواری چوک سے بادام واری جانا چاہتے تھے ان کو محض ایک کلومیٹر طے کرنے میں تین گھنٹوں سے زائد وقت لگا ۔ جبکہ درگاہ حضرت راستے پر بھی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی جن کو حضرتبل راستے سے ہی بادام واری پہنچتا مطلوب تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ گلمرگ، پہلگام ، ویری ناگ اور ککرناگ سے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہے کہ ان سیاحتی مقامات پر بھی مقامی سیلانیوں کی کافی بھیڑ تھی۔ سی این آئی کے مطابق ماہ رمضان سے قبل لوگ سیاحتی مقامات سیر کرنے کےلئے جاتے ہیں اور یہ رجحان گذشتہ کئی برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ۔ کیوں کہ ماہ مبارک میں لوگ روزہ رکھتے ہیں اور سیاحتی مقامات کو سیر کےلئے جانہیں سکتے ۔ واضح رہے کہ 07مئی 2019سے ماہ رمضان کا آغاز ہورہا ہے اور بھارت، پاکستان ، بنگلہ دیش اور منقسم ریاست میں ماہ مبارک کے ایام کا سلسلہ شروع ہورہا ہے ۔ (سی این آئی )
جامعہ اردو علی گڑھ میں80واں یوم تاسیس منایا گیا
کشمیر سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ کو بہتر ین مضمون نگارکے اعزاز سے نوازا گیا
سرینگر/05مئی/سی این آئی//  جامعہ اردو علی گڑھ کے 80واں یوم تاسیس کے موقعہ پر منعقد ہوئی ایک تقریب میں ادب، سماج اور شخصیت پر ایک خطبہ کا اہتمام کیا گیااور مقالہ نگاران و شرکاءمیں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ، جس میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالبہ کو بہترین مضمون نگاری کیلئے اعزاز سے نوازا گیا۔سی این آئی کے مطابق جامعہ اردو علی گڑھ کے 80واں یوم تاسیس کے موقعہ پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس سلسلے میں جامعہ اردو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ جامعہ اردو علی گڑھ صرف طلبا میں فروغ علم کا فریضہ ہی انجام نہیں دے رہا ہے بلکہ ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو نکھارنے کا بھی کان کرتاہے انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ نے ادب،سماج اور شخصیت کے موضوع پر ایک خطبے کا اہتمام کیا تھا جس میں ریسرچ پیپر پیش کیے گئے جس کے مقالہ نگاران اور شرکاءمیں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔سابق ڈین پروفیسر شیخ مستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ زبان و ادب کی مسلسل خدمت کر رہاہے، انہوں نے کہا کہ ادب نوجوانوں کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پروفیسر طارق چھتاری نے کہا اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ایک تہذیب ہے اردو سمیت سبھی زبانوں کے ادب سماج کی صورت حال کا آئینہ ہوتے ہیں. انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ادب میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں تاکہ ان کی شخصیت نکھر کر سامنے آئے۔تقریب کے دوران مضمون نگاروں ، مقالہ نگاران و شرکاءمیں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے ، جس میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ بلقس مقبول بھی شامل ہے جنہیں نوجوان مضمون نگار کیلئے اعزاز سے نواز گیا۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی بلقیس مقبول شعبہ اردو Aligarh Muslim University میں زیر تعلیم ہے اور موصوفہ نے اس سے قبل بھی کئی اہم مضوعات پر اردو میں مضامین تحریر کئے ہیں جس کیلئے ان کی کافی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔اس موقعہ پر حیدرآباد کی آر جے حرا آفتاب نے کہا کہ سماج کے مختلف طبقات کی متعدد مسائل ہوتے ہیں ادب ان مسائل کو نہ صرف اٹھاتا ہے بلکہ ان کا حل بھی تلاش کرتاہے۔انہوں نے کہا کہ ادب کے ذریعہ ہی سماج میں خواتین کی حالت تبدیل ہوئی ہے۔اے ایم یو اردو اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر شاداب نے کہا کہ اردو اساتذہ کو وقتا فوقتا ٹریننگ کے لیے بھیجنا چاہیے۔ (سی این آئی )
ماہ رمضان کی آمد آمد ،’اورفنس اِن نیڈکی سرگرمیاں جموں پہنچ گئی
ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں میں دوہزار بیواو ¿ں میں راشن کٹ تقسیم کئے
سرینگر/05مئی/سی این آئی// ماہ رمضان نزدیک آتے ہی غریب اور مستحق افراد کی معاونت جاری رکھتے ہوئے ’اورفنس اِن نیڈ‘ نے جموں کے ضلع پونچھ کے کئی علاقوں میں دوہزار بیواو ¿ں میں راشن کٹ تقسیم کئے ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل سرینگر میں بھی ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں تین ہزار یتیموں اور بیواو ¿ں کو راشن کٹ تقسیم کئے ۔ سی این آئی کے مطابق ماہ رمضا ن نزدیک آتے ہی ’اورفنس اِن نیڈ‘ نے جموں کشمیر میں سرگرمیاں تیز کر تے ہوئے ’اورفنس اِن نیڈ‘ کے بانی وچیئرمین شیخ انیس محمد موسیٰ کی سربراہی میں جموں کے پونچھ ضلع کے مختلف علاقوں میں دوہزار بیواو ¿ں کو راشن کٹ تقسیم کئے ۔ سرینگر کے بعد اورفنس ان نیڈ نے جموں کا رخ کیا اور انہوں نے ضلع پونچھ سے پروگرام کی شروعات کی اتوار کے روز ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ورفنس اِن نیڈ‘ کے بانی وچیئرمین شیخ انیس محمد موسیٰ کی موجودگی میں دوہزار ضرورت مند بیواو ¿ں کو راشن کٹ تقسیم کیا گیا۔ راشن کٹ حاصل کرنے والوں میں وہ خواتین شامل تھیں جو خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کررہی ہیں۔ اس موقعہ پر شیخ انیس محمد موسیٰ بانی وچیئرمین ’اورفنس اِن نیڈ‘ نے کہا کہ میں غریب ، بے سہارہ افراد کی حالات زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدو جہدکررہا ہوں یہ آسان کام نہیں ہے اسے انجام دینے کے لیے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن آج مجھے ’اورفنس اِن نیڈ‘ جموں وکشمیر کے ٹیم پر بہت فخر ہے یہ دیکھ کر کہ وہ یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کی خدمت کے لیے جانفشانی سے کام میں مصروف ہیں جنہیں ہمارے حمایت کی سخت ضرورت ہے۔شیخ انیس محمد موسیٰ نے موجود تمام بیواو ¿ں اور دیگر لوگوں سے خطاب کیا اور اس بات پر زور دیاکہ آپ حضرات اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں انھیں تعلیم یافتہ بنائیں جس سے ان کی زندگی اعلیٰ معیار کی ہو اور اس کا مستقبل تابناک ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم دور دراز علاقوں اور (LoC)لائن آف کنٹرول کے پاس رہنے والے بے سہا رہ، غریب بیواو ¿ں اور یتیم بچوں کے درمیان ہزاروں راشن کٹ تقسیم کرینگے۔ (سی این آئی )
مٹن اننت ناگ میں جنگل سمگلنگ کی کوشش ناکام
جنگلاتی لکڑی اور لوڈ کیئرئر ضبط، سمگلر گرفتار ، کیس درج
سرینگر/05مئی/سی این آئی// مٹن اننت ناگ میں جنگلاتی لکڑی کی سمگلنگ کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک لوڈ کیئرئر اور لکڑی کو ضبط کرکیا گیا ہے ۔ جبکہ قصوواروں کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے مٹن ہٹمورہ میں فارسٹ رینج فارسٹ پروٹکشن فورس سائلا ، فارسٹ رینج مٹن کے اہلکاروں نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناءپر تین جنگل سمگروں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپارٹنمنٹ نمبر 2ایل میں سمگلروں کو ایک لوڈ کئریر زیر نمبر JK03A-3425کو ضبط کرلیا جس میں 52مکعب فٹ عمارتی لکڑی کو بھی اپنی تحویل میں لیا گیا جبکہ اس کارروائی میں تین سمگلروں بلال خان ساکنہ سئر چیک ، مومن خان ، ساکنہ گوردرمن اور ریاض خان ساکنہ رکھی براہ شامل ہے جبکہ لوڈ کیرئر کا ڈرائیور فردوس وگے کو بھی حراست میں لیا گیا ہے ۔ ناکہ پارٹی جس کی قیادت اسسٹنٹ ڈائریکٹر فارسٹ پروٹکشن فورس لدر شبیر احمدملک رینج آفسر مٹن سہیل کے علاوہ دیگر افسران بھی شامل تھے نے مذکورہ سمگلروں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ محکمہ کی اس کارروائی پر مقامی لوگوں نے سراہناکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے جنگل سمگلنگ پر قابل پایا جاسکتا ہے ۔ (سی این آئی )
تواریخی قبرستان ”ملہ کھاہ“ میں مردوں کی جگہ زندہ لوگوں نے ڈھیرہ جمایا
خود غرض عناصر کی خود غرضی اور وقف بورڈ و ضلع انتظامیہ کی غفلت شعاری کا شاخسانہ
سرینگر/05مئی/سی این آئی// تواریخی قبرستان ملہ کھا میں مدفون مردوں کی قبروں پر ناجائز قبضہ کرکے تعمیرات کھڑا کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے ملہ کھا جو ہزاروں کنال اراضی پر پھیلا تھا سکڑ کے رہ گیا ہے اور اب مردوں کےلئے بھی وہاں جگہ کم پڑنے لگی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا وادی کشمیر میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی ولی کامل امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ نے اُس وقت کے حکمرانوں سے اراضی کا ایک بڑا حصہ خرید کر اہل اسلام کے نام وقف کرکے اس کو عید گاہ اور قبرستان کےلئے وقف کیا ۔ اور قریب سات سو برس گزرنے کے بعد بھی کشمیری مسلمان اس اراضی کو اپنے دینی فرائض کےلئے استعمال کرتے آرہے ہیں تاہم گذشتہ 40برسوں سے کچھ خود غرض عناصر نے اس تواریخی قبرستان جس کو عرف عام میں ملہ کھاہ کے نام سے جانا جاتا ہے پر ناجائز قبضہ کررہے ہیں ۔ جبکہ انتظامیہ اور وقف بورڈ کی اس جانب غفلت شعاری اور عدم دلچسپی سے ایسے افراد کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں جو ملہ کھاہ پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ۔ ملہ کھاہ کے بیچوں بیچ قبروں پر قبضہ کرکے مکانات تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور آج بھی قبرستان کی اراضی پر قبضہ کرکے اس پر تعمیرات کھڑی کی جارہی ہے ۔ نوہٹہ ، بحاﺅ لدین صاحب کی جانب سے قبرستان پر ایک پورا محلہ آباد ہے ۔ جبکہ اسلامیہ کالج حول کی طرف بھی ملہ کھاہ کی زمین کو ہڑپ لیا گیا ہے ۔ جبکہ رعناواری کی طرف پھیلی ملہ کھاہ کی اراضی پر بھی رہائشی مکانات و دکانات تعمیرا کئے جاچکے ہیں۔ قبرستان پر قبضہ کئے جانے کے نتیجے میں قبرستان جو کہ ہزاروں کنال اراضی پر پھیلا تھا اب سکڑتا جارہا ہے اور کناروں کے ساتھ ساتھ اب قبرستان کے بیچوں بیچ بھی رہائشی مکانوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے جس جگہ ایک مکان تعمیرا ہوتا ہے کچھ برسوں بعد وہاں ایک محلہ آباد ہوتا ہے جس کے نتیجے میں قبرستان میں مدفون اموات کےلئے اب ملہ کھاہ کی اراضی تنگ ہوتی جارہی ہے ۔ اس صورتحال پر اگرچہ صوبائی انتظامیہ اقدامات کرکے ملہ کھاہ کی اراضی پر کئے گئے قبضے کو چھڑاتے تاہم انتظامیہ اس جانب کوئی توجہ دینے کی موڈ میں نہیں ہے ۔ اسی طرح اہل اسلام کی جائداد کی دیکھ ریکھ کرنے والا ادارہ وقف بورڈ کے منتظمین آپسی خلفشار اور رسہ کشی میں ہی اُلجھ گئے ہیں اور اہل اسلام سے منسلک جائیداد کی حفاظت کی طرف مذکورہ ادارہ کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے جس وجہ بنتا ہے قبرستان پر قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور دلیری کا۔(سی این آئی )
رمضان المبارک کی آمد ، د وادی کے شمال وجنوب میں لوگ بنےادی سہولےات سے محروم
پانی کی عدم دستےابی ،بجلی کی کٹوتی،کھانڈ کی عدم دستےابی ،مٹی کے تےل کی کٹوتی سے عوام پریشان،متعلقہ محکمے خاموش تماشائی
سرینگر/05مئی/سی این آئی// رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی چند محکموں جن میں محکمہ آب ،محکمہ برقی رو،محکمہ امور صارفین نے اپنی چال پر چلنا پھر شروع کردےا ہے ۔اکثر و بےشتر علاقوں میں بجلی کی عدم دستےابی پر لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے متبرک مقدس مہینے میں بھی محکمہ آب ،محکمہ برقی رو اور محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری فراہم کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وادی میں عوام میں غصے کی لہر پائی جارہی ہے ۔سی این آئی کے مطابق وادی کے اکثر و بےشتر علاقوں میں برقی رو منقطع ہونے پر عوامی حلقوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ رمضان سے پہلے ہی بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی بھی دقیقہ فرد گزاشت نہیں کیا جائے گا جبکہ رےاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اعلان کیا کہ برقی رو فراہم کرنے کیلئے محکمہ بجلی کو خصوصی ہداےات دی گئی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق دن میں کئی بھی برقی رو دستےاب نہیں ہوتی ہے اور محکمہ امور صارفین نے مٹی کے تےل اور کھانڈ میں بہت کٹوتی کردی ہے جس کی وجہ سے پوری وادی اس محکمہ سے مایوس اور اظہار غم وغصہ کر رہی ہے کیونکہ اس محکمہ کو اس متبرک مہینے میں کھانڈ اور مٹی کے تےل میں اضافہ کرنا چاہئے جس کیلئے عوامی حلقوں نے رےاستی وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے۔بےشتر علاقوں میں خراب ہوئے ٹرانسفارمروں کو دوبارہ اپنی جگہوں پر نصب کرنے کیلئے محکمہ برقی رو کے اہلکار لت ولعل لا مظاہرہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ یا تو محکمہ برقی رو کے لائن مینوں کے جیب گرم کرے یا پھر بجلی کی عدم دستےابی پر سڑکوں پر آکر احتجاجی مطاہرہ کرےں۔عوامی حلقوں کے مطابق اگر آنے والے رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے میں بھی وادی کے لوگوں کو برقی رو ،پینے کا صاف پانی اور محکمہ امور صارفین سے ملنے والی کھانڈ اور مٹی کا تےل کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھا گئے تو وادی کے صارفین سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہونگے۔اس کی تمام تر ذمہ داری رےاستی حکومت پر عائد ہوگی۔ساتھ ساتھ عوامی حلقوں نے حےرانگی کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے وادی کے اطراف واکناف میں ہائی ٹےنشن لائنوں اور بوسیدہ بجلی کے کھمبوں کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی کاروائی ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے کئی علاقوں میںانسانی جانےں ضائع ہونے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں۔بدقسمتی سے محکمہ برقی رو نے زمینی سطح پر کوئی سدھار ابھی تک نہیں لایا ہے ۔دور دراز علاقوں میں جس طرح ڈندوں اور درختوں سے ہائی ٹےنشن لائنےں بچھائی گئی ہےں اور باریک ترسیلی لائنیں بچھا کر لوگوں کی زندگےوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔گذشتہ تےن برسوں کے دوران محکمہ برقی رو کے کئی اہلکاروں سمےت تےن درجن سے زائد افراد کرنٹ لگنے کے باعث جھلس کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بےٹھے ہیں ۔(سی این آئی )
CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply