Latest News

CNI News Bullletin 30th of April

Web Desk

کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ، کوئی کشمیر کو بھارت سے نہیں چھین سکتا
پاکستان بہتر تعلقات کیلئے سنجیدہ ہے تو بھارت مخالف سرگرمیوں پر روک لگائیں /راجناتھ سنگھ
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے واضح کر دیا کہ کوئی بھی اس کو ہم سے چھین نہیں سکتا۔ا نہوںنے کہا کہ پاکستان اگر بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اس کو چاہئے کہ پہلے بھارت مخالف سرگرمیوں پر روک لگائیں اور پاکستان میں موجود بھارت کے مطلوبہ افراد کو بھارت کے حوالے کرے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ایک معروف انگریزی روزنامہ کیساتھ بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر بھارت کا ایک اہم جزو ہے جس کو ہم سے کوئی الگ نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں سی آر پی ایف اور فورسز جنگجوﺅں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے جس کیلئے ان کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ انہوںنے بھارت کی جانب سے پاکستان کی مذاکراتی پیش کش کو ٹھکرانے کے فیصلے کو صحیح قراردیتے ہوئے کہا کہ ملی ٹنسی اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ا نہوںنے کہا کہ پاکستان اگر بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اس کو چاہئے کہ پہلے بھارت مخالف سرگرمیوں پر روک لگائیں اور پاکستان میں موجود بھارت کے مطلوبہ افراد کو بھارت کے حوالے کرے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں بننے والی نئی سرکار کو ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تاہم ہم اس کو مزید وقت دیں گے تب تک وہ بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچوں کو ختم کریں اور کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں کی حمایت کرنا بند کریں۔انہوں نے کہا کہ کچھ کشمیری نوجوان کو اکسا یا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ تشدد کا راستہ اختیار کر بیٹھے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارورائیوں کا برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو بھی امن مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف کارروئی ہوگی ۔(سی این آئی )
محکمہ موسمیات کی عین پیشگوئی کے مطابق وادی میں بارشوں کا تازہ سلسلہ شروع
جمعہ کے روز تک وادی میں موسم میں بہتری کا کوئی امکان نہیں/ محکمہ موسمیات
وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریاﺅں میں پانی کی سطح میں اضافہ
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  وادی میں ایک مرتبہ پھر منگوار کی صبح سے ہی بارشوں کا سلسلہ جاری ہوا جو دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں تک ہلکی اور درمیانہ درجے کی بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے ۔ اس دوران آج سرینگر میں دن کا درجہ حرارت 10.0ڈگری سیلس ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ وادی میں اپریل کے مہینے میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں پانی کی سطح میں کافی حد تک اضافہ ہوچکا ہے جبکہ گذشتہ سرماءمیں ہوئی شدید برفباری کی وجہ سے گرمیوں میں پانی کی سطح میں اور اضافہ ہوسکتا ہے جو آگے چل کر سیلابی صورتحال پیدا کرسکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں ایک مرتبہ پھر منگلوار کی صبح سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اور دن بھر ہلکی اور درمیانہ درجے کی بارشیں وقفے وقفے سے جاری رہی جس کے سبب درجہ حرارت میں کافی کمی واقع ہوئی اور لوگوں کو پھر سردی نے جکڑ لیا۔ شہر سرینگر میں جاری بارشوں کے نتیجے میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 10اشاریہ صفر ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگلے چند دنوں تک وادی میں موسم کی صورتحال ابتر ہی بنی رہے گی۔ بدھ یکم مئی کو بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں ہلکی اور درمیانہ درجے کی بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ جمعرات کو بھی مطلع ابرآلود رہنے اور بارشوںکی پیشن گوئی کی ہے اس کے علاوہ جمعہ کے روز بھی وادی کے بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں شدیدسے درمیانہ درجے کی بارش کا امکان ہے ۔ اور سنیچروار کے روز موسم قدرے بہتر ہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ ماہ اپریل میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریائیوں میں پانی کی سطح پر اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جبکہ آگے چل کر جوں جوں موسم گرم ہوجائے گا پانی کی سطح پر اور زیادہ اضافہ ہوجائے گاکیوں کہ گذشتہ موسم سرماءمیں بھاری برفباری ہوئی تھی اور برف کا پانی پگلنے کی وجہ سے وسطی کشمیر میں پانی کی سطح میںحد درجہ اضافہ ہوسکتا ہے جو سیلابی صورتحال اختیار کرسکتا ہے ۔ (سی این آئی )
پارلیمانی انتخابات نزدیک آتے ہی پلوامہ میں نوجوانوں کیخلاف کریک ڈاﺅن تیز
شبانہ چھاپوں میں 23نوجوان گرفتار ، نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  پارلیمانی انتخابات نزدیک آتے ہی جنوبی ضلع پلوامہ میں نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری رکھتے ہوئے پولیس و فورسز نے دوران شب مختلف چھاپوں کے دوران 23افراد کی گرفتاری عمل میں لائی۔شبانوں چھاپوں کے دوران نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے جبکہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔سی این آئی کو پلوامہ سے نما ئندے نے اطلاع دی ہے کہ پارلیمانی انتخابات نزدیک آتے ہی سنگبازی میں ملوث نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن تیز کرتے ہوئے پلوامہ میں پولیس و فورسز نے سوموار اور منگل کی درمیان رات کو مورن پلوامہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں چھاپہ مار کارورائیاں عمل میں لائی جس دوران 23 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دورا ن شب پولیس و فورسز کی بھاری نفری علاقے میں نمودار ہوئی جنہوں نے کئی گھروں میں گھس کر ہاں سے 23 نوجوانو کی گرفتار ی عمل میں لائے اور انہیں اپنے ساتھ لیا۔ مقامی لوگوں نے اگرچہ مزاحمت بھی کی تھی تاہم پولیس و فورسز نوجوانوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس کے ایک سنیئر افسر نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار شدگان سے سنگباری کے مختلف کیسوں کو لیکر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی اس طرح کی کارورائیوں میں ملوث پایا جائے گا اان کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ ادھر نوجوانوں کی گوفتاریوں کو لیکر علاقہ میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے اور مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔(سی این آئی )
مرکزمیں بننے والی نئی حکومت کیساتھ پیش رفت کی اُمید،مودی اور محبوبہ نے ریاست کے پُرامن ماحول کو تہس نہس کردیا ©
نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو KCCقرضوں کا علاج اور PSAکا خاتمہ بھی ہوگا/ عمر عبداللہ
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  ہماری کوشش یہی ہے کہ 23مئی کے بعد ہندوستان میں ایک نئی حکومت آئے اورہم اُس حکومت کیساتھ نئے سرے سے بات کر پائیں تاکہ جماعت اسلامی پر پابندی ہٹانے، سیاسی بات چیت کی نئی پہل کرنے اور دیگر معاملات میں پیش رفت ہوسکے کی بات کرتے ہوئیے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو KCCقرضوں کا علاج اور PSAکا خاتمہ بھی ہوگا۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے جنوبی کشمیر کیلئے نیشنل کانفرنس کے نامزد اُمیدوار جسٹس حسنین مسعودی کے حق میں جاری چناﺅی مہم کے دورا ن شوپیان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سٹیٹ سکریٹری ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان اور شمالی زون صدر محمد اکبر لون کے علاوہ کئی لیڈران اور عہدیداران بھی موجو دتھے۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی اور اُن کے ساجھیدار پی ڈی پی والوں نے ریاست کے حالات کو خراب کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ ”2014میں ہم نے کن حالات میں ریاست کو نریندر مودی کے حوالے کیا اور آج ریاست میں کیا حالات ہیں اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ 2014میں کتنے لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا اور 2019میں کتنی کمی آئی ہے یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ 2014میں ملی ٹنسی کی کیا حالت تھی اور آج ملی ٹنسی کو کس طرح نئی شروعات دی گئی ہے، اس کا خلاصہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔“انہوں نے کہا کہ ”اعداد و شمار اور حقائق بولتے ہیں آپ دیکھئے میری حکومت کے دوران کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے اور پی ڈی پی بھاجپا حکومت میں کتنے نوجوانوں نے بندوق اُٹھائی،آپ کو خود بہ خود پتہ چل جائیگا کہ مودی جی کے 5سال اس ریاست کیلئے کتنے بھاری اور کتنے مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے مودی صاحب کو ایک اچھے ماحول میں ریاست سونپی لیکن انہوں نے اس ماحول کو تہس نہس کر کے رکھ دیا، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مودی صاحب آج یہاں اسمبلی کا الیکشن نہیں کر پارہے ہیں۔ 1996کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ ریاست کے اسمبلی الیکشن وقت پر نہیں ہو پارہے ہیں۔ اس کیلئے قصوروار کوئی اور نہیں بلکہ مودی صاحب اور اُن کے حکومت کے ساجھیدار پی ڈی پی والے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہر محاذ پر ناکامی کے بعد بھاجپا والوں نے جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کیخلاف آگ اُگلنا شروع کردیا۔ وزیر اعظم ہو، بھاجپا صدر یا کوئی اور لیڈر، یہ لوگ ہر تقریر میں آئے روز جموں وکشمیر اور یہاں کے باشندوں کو دھمکی دے رہیں کہ دفعہ370اور 35اے کو ختم کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ان دفعات کی بدولت نہ صرف ہماری پہنچان زندہ ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں اور بچوں کا مستقبل بھی منسلک ہے، انہی دفعات کی بدولت یہاں غریبی کسی حد تک قابو میں ہے۔ ان دفعات کیخلاف ہورہی سازشوںکا ہم سڑکوں ، عدالت اور اسمبلی میں بھی مقابلہ کررہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی اس کا مقابلہ کرنا بھی لازمی ہے۔ اس دفعہ کا دفاع کرنے کیلئے جسٹس حسنین مسعودی سے بہتر اُمیدوار کوئی اور نہیں اور انہیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ”اپنا ووٹ ڈالنے سے پہلے بہترین اُمیدوار کا چناﺅ کرنا جتنا ضروری ہے اور اُتنا ہی ضروری ہے کہ ہم پچھلے 5سال پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ جن لوگوں کو ہم نے 2014میں چُنا اور منڈیٹ دیا اُن لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا؟جب ہم پیچھے نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس ریاست کیساتھ کتنے ظلم ہوئے، کتنی پریشانیاں اُٹھانی پڑیں، کتنی سختیاں جھیلنی پڑیں، کتنا خون خرابہ دیکھنے کو ملا۔ جو لوگ آج مگرمچھ کے آنسو بہا کر خود کو عوام کا ہمدردجتلانے کی کوشش کرتے ہیں، پھر چاہئے وہ قلم دوات نشان والے ہوں یا سیب کے نشان والے، اُن سے پوچھا جانا چاہئے کہ پچھلے 5سال میںاُن کی ہمدردی کہاں تھی؟جب معصوم بچیوں کی آنکھوں کی بینائی پیلٹ گن کے ذریعے چھینی جارہی تھی،جب ہمارے بچوں کو بے تحاشہ گرفتار کیا جارہا تھا،جب ہمارے نئی نسل کو گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا تھا،تب یہ ہمدردیاں کہاں تھیں۔تب تو آپ لوگوں کو ڈرا ، دھمکا اور دبا نے کی ہر مذموم کوشش کرتے تھے۔تب یہ ہمدردی کیوں نہیں۔ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں پہلگام میں آنسو بہائے، وزیر اعلیٰ کی کرسی پر یہ آنسو کیوںنہیں بہے“۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جب گوجر بکروالوں کے جنگلات کے حقوق چھینے جارہے تھے تب محبوبہ مفتی کی ہمدردیاں کہاں تھیں؟ جب پہاڑی اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق سلب کئے جارہے تھے تب محبوبہ مفتی کا احساس کہاں تھا؟ پی ڈی پی کی حکومت نے ظلم و تشدد کے علاوہ کچھ کیا تو وہ عوام کو ٹیکسوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبانا تھا۔ پی ڈی پی حکومت نے عوام کو کے سی سی لون دے کر انہیں اس کے تلے دبانے کی کوشش کی لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو اس کے سی سی لون کا بھی اعلاج کیا جائے گا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ ”پی ڈی پی حکومت نے خود کو زمینی حقائق سے دور رکھا اور گرفتاریوں کی بنیاد پر حکومت چلائی۔ نوجوانوں پر پی ایس اے کے اطلاق کے ریکارڈ قائم کئے۔ میں نے پہلے بھی یہ وعدہ کیا ہے اور میں شوپیان میں یہ بات دہرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ انشاءنیشنل کانفرنس کی حکومت آئیگی تو ہم PSAقانون کی کتاب سے مٹا دیں گے،تاکہ کوئی نوجوان پی ایس اے کے تحت گرفتار نہ ہو۔“ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مہربانی کرکے بائیکاٹ کی طرف مت جایئے، بائیکاٹ سے اس ریاست کو نقصان ہوگا۔بائیکاٹ سے ہمارے دشمن ہم پر حاوی ہوجائیں گے ۔اس موقعے پر پارٹی کے لیڈران ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، ڈاکٹر محمد شفیع، شوکت حسین گنائی، شیخ محمد رفیع، شبیر احمدکلے، سلام الدین بجاڑ، نثار احمد نثار، سید رفیق احمد شاہ، ایڈوکیٹ احسان الحق اوررفیق احمد خان بھی موجو دتھے۔(سی این آئی )
کشمیر سے متعلق چین کی پالیسی بااصول اور صاف،کوئی تبدیلی نہیں آئی
ہند پاک تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں پہل کر یں ، چین ثالث بننے کیلئے تیار /ترجمان
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات حل کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر چین نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پرزوردیا ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق چین کے وزرات خارجہ کی ترجمان لوکانگ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان تیز رفتار ی کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا پڑوسی ہونے کے ناطے چین دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد کیلئے تیار ہے کیونکہ علاقائی امن اور سلامتی کیلئے پاک بھارت صحت مندانہ تعلقات ناگزیر ہیں۔چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پرزوردیا ہے۔بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف واضح ہے اور اسے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے متعلق چین کی پالیسی بااصول اور صاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تاریخی مسئلہ ہے، جسے مناسب طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ سی پیک منصوبے سے چین کی کشمیر سے متعلق پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاع صنعت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون برقرار ہے۔پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دینے کے منصوبے پر بھارتی اعتراض سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ ان ہی علاقوں کے ذریعے دونوں ممالک کو منسلک کرے گا۔(سی این آئی )
سرینگر جموں شاہراہ پر بانہال کے مقام پر کار بم حملے کامعاملے حل
پی ایچ ڈی اسکالر سمیت چار افراد گرفتار ،کیس این آئی اے کے حوالے / آئی جی پی جموں
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  سرینگر جموں شاہراہ پر بانہال کے مقام پر کار بم حملے کے معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے جموں پولیس نے اس میں ملوث پی ایچ ڈی اسکالر سمیت چھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے سرینگر جموں شاہراہ پر بانہال کے مقام پر سی آر پی ایف کانوانی کو کار بم دھماکے سے اڑانے کے معاملے کو حل کیا گیا جس دوران پی ایچ ڈی اسکالر سمیت چار افراد کی گرفتار ی عمل میں لائی گئی ہے ۔ آئی جی پی جموں ایم کے سنہا نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ عسکری تنظیم حزب المجاہدین اور جیش محمد نے مشترکہ طور پر سرینگر جموں شاہراہ پر بانہال کے مقام پر سی آر پی ایف کانوانی کو کار بم دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی جس کو ناکام بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں پولیس نے تحقیقات کے دوران پی ایچ ڈی اسکالر جو کہ جمیعت طلبہ کا سرگرم رکن تھا کے علاوہ پانچ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جو جنگجوﺅں کیلئے کام کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ گروپ نوجوانوں کو عسکری صفوں کی طرف مائل کرنے کیلئے کوشاں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی مزید تحقیقات کیلئے کیس کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔ (سی این آئی )
ہندوپاک جاری کشیدگی کو کرکٹ کے سہارے ختم کیا جاسکتا ہے
کرکٹ ورلڈ کپ، پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  ہندوستان اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کو ختم کرنے کےلئے کرکٹ ہی ایک سہارا بچا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ورلڈ کپ کے میچوں کے دوران ہندوستان اور پاکستانی وزرائے اعظم ایک دوسرے کے ساتھ رسمی ملاقات کرسکتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت اور پاکستان کے مابین جاری شدید کشیدگی کو ختم کرنے کےلئے اب کرکٹ کا سہارا لیا جارہا ہے اس سلسلے میں برطانیہ اس کوشش میں لگا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ورلڈ کپ کے دوران ہندوپاک میچ دیکھنے کےلئے ایک جگہ موجود ہوں ۔خلیجی اخبار گلف نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزرا اعظم کی ملاقات ہو سکتی ہے۔اخبار کے مطابق برطانوی حکام بھی اس ملاقات کے لئے کوشاں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی ختم ہو سکے۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان جون میں برطانیہ جائیں گے جہاں وہ پاکستان ٹیم کے دو میچ دیکھیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہاں موجود ہوں گے۔ یا کانگریس کے راہل گاندھی اگر وزیر اعظم بنے تو ان سے عمران خان کی ملاقات کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارت میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو گا اور اگر بی جے پی کامیاب ہوئی تو نریندر مودی وزارت اعظمی کا حلف بھی اٹھا چکے ہوں گے۔یاکانگریس کے راہل گاندھی اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کی حلف برداری کی تقریب بھی ختم ہوچکی ہوگی۔پاکستان اور بھارت نے سرکاری سطح پر متوقع ملاقات سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔گلف نیوز کے مطابق برطانیہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔برطانوی حکام کے مطابق وہ دونوں ممالک کے وزرا اعظم کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو قریب لانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔برطانوی حکام کے مطابق انہیں خوشی ہو گی کہ اگر ان کی کاوشوں سے خطے میں حالات معمول پر آ جائیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ کپ کرکٹ میچ 16 جون کو اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں شیڈول ہے۔1987ءمیں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے تنازعے پر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے۔اس دوران پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت میں سیریز کھیلنے کے لئے موجود تھی کہ اچانک پاکستانی صدر میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے تھے۔ اس عمل سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ گئی تھی۔سی این آئی کے مطابق 2011ءکے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی بھارت کے شہر موہالی گئے تھے۔واضح رہے کہ 14 فروری کووادی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فوجی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔بھارت نے اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائی کر کے جنگجوﺅںکے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔جواب میں پاکستانی فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے درانداز بھارتی طیاروں کو نشانہ بنا کر دو بھارتی طیارے مار گرائے ہیں۔ان واقعات کے باعث دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے تھے تاہم عالمی مداخلت کے باعث یہ خطرہ ٹل گیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔(سی این آئی )
مہلوک حزب کمانڈر سمیر ٹائیگر کی پہلی برسی
دربگام پلوامہ میں ہڑتال ، تعزیتی مجالس کا اہتمام
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  جنوبی ضلع پلوامہ کے دربگام علاقے سے تعلق رکھنے والے مہلوک حزب کمانڈر سمیر ٹائیگر کی پہلی برسی کے موقعہ پر دربگام علاقے میں منگل کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک معطل رہنے کی وجہ سے سڑکیں سنسان نظر آئی ۔ اسی دوران علاقے میں تعزیتی مجلس کا بھی اہتمام ہوا ۔سی این آئی کے مطابق گزشتہ سال آج ہی کے دن یعنی 30اپریل کو جنوبی ضلع پلوامہ کے دربگام علاقے میں جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان خونین تصادم آرائی میں معروف حزب کمانڈر اور پولیس و فورسز کا انتہائی مطلوب سمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا تھا جبکہ طرفین کے مابین گولی باری کے نتیجے میں فوجی میجر سمیت نصف درجن اہلکار زخمی ہوگئے ۔ مہلوک حزب کمانڈر سمیرٹائیگر کی پہلی برس کے موقعہ پر دربگام اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس کے باعث علاقے میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ تمام کاروباری ادارے دکانات بند رہے جبکہ سڑکوں سے مسافر گاڑیاں بھی غائب رہیں سڑکوں سے ٹریفک غائب رہنے اور دکانات بند ہونے کی وجہ سے علاقہ سنسان نظر آیا ۔ اسی دوران علاقے میں مکمل ہڑتال کے بیچ تعزیتی مجالس کا اہتمام ہوا جس دوران مقامی لوگوں نے سمیر ٹائیگر اورا س کے ساتھیوں کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور لواحقین کی ڈھارس بندھائی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ2108میں 30اپریل کو جنوبی ضلع پلوامہ کے دربگام علاقے میں جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان خونین تصادم آرائی میں معروف حزب کمانڈر اور پولیس و فورسز کا انتہائی مطلوب سمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا تھا ۔(سی این آئی )
دو ماہ بعد سرینگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی کے بیچ کشیدگی برقرار
کشمےر وارد ہونے والی دو خواتےن سمےت تےن مسافروں کو کنٹرول لائن عبور کرنے سے روک دےا گیا
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  دو ماہ بعد سرینگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی کے بیچ پاکستانی زیر انتظام کشمےر سے کشمےر جانے والی دو خواتےن سمےت تےن مسافروں کو بھارتی حکام نے لائن آف کنٹرول کراس کرنے سے روک دےا ۔سی این آئی کو ملی تفصےلات کے مطابق تقرےبا دو ماہ بعد بھارتی حکام نے سرےنگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد بھارتی کشمےر گئے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمےر کے تےن شہرےوں کو وآپس مظفرآباد روانہ کےا جبکہ پاکستانی کشمےر کے تےن شہری جب وادی کشمےر جانے کے لےے لائن آف کنٹرول کو ملانے والے امن برج پر پہنچے تو بھارتی حکام نے انھےںلائن آف کنٹرول کراس کرنے سے روک دےا بس سروس کے مسافروں کی کراسنگ کے موقعہ پر پاکستانی زےر انتظام کشمےر کے ڈائرےکٹر ٹرےول اےنڈ ٹرےڈ اتھارٹی شاہد احمد نے جب بھارتی حکام سے پاکستانی کشمےر سے جانے والے مسافروں کو روکنے کی وجہ پوچھی تو موقعہ پر موجودجموں و کشمےر کی تحصےل اوڑی کے اےس ڈی اےم ملک رےاض احمدکا کہنا تھا کہ اعلی حکام کی طرف سے کسی بھی نئے مسافر کے لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی اجازت نہےں ہے جس پر ڈائرےکٹر ٹرےول اےنڈ ٹرےڈ اتھارٹی مظفرآباد شاہد احمدنے اےس ڈی اےم اوڑی کو تحرےری طور پر لکھ کر دےنے کو کہا جو انھوں نے لکھ کر دےنے سے انکار کر دےا ڈائرےکٹر شاہد احمد کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے آئندہ ہفتے چھ مئی کے روز بھی سرےنگر مظفرآباد بس سروس کی مکمل بحالی کے بارہ مےں تاحال تصدےق نہےں کی ہے جمعہ کے روز تک چھ مئی کے روز بس سروس معمول کے مطابق روانہ ہونے ےا نہ ہونے اور نئے مسافروں کو لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی اجازت کی تصدےق ہو گی پاکستانی زیر انتظام کشمےر سے کشمےر جانے والے مظفرآباد کے رہائشی سےد ضمےر گےلانی انکی اہلےہ اور کزن کو لائن آف کنٹرول کو ملانے والے امن برج سے بھارتی حکام کی طرف سے وآپس کرنے اور وادی کشمےر جانے سے روکے جانے پر ان کا کہناتھا کہ مھجے اپنی حقےقی بےٹی اور دےگر رشتہ داروں سے ملنے کے لےے بانڈی پورہ جانا تھا لےکن بھارتی حکام نے ہمےں جانے سے روک دےا ہے سرحد کے اس پار مےری بےٹی اور دےگر رشتہ دار ہم سے ملنے اور ہم ان سے ملنے کے لےے تڑپ رہے ہےں جبکہ سرحد کے اس پار مےری بےٹی اور دےگر رشتہ دار ہمارے آنے کا انتظار کرتے رہے لےکن بد قسمتی سے ہمےں جانے سے روک دےا گےا ہے جس کے بعد مےری بےٹی اور دےگر رشتہ دار ماےوس ہو کر سلام آباد اوڑی بس ٹرمےنل سے وآپس اپنے گھر روانہ ہو گئے ۔(سی این آئی )
یکم رمضان منگل 7 مئی کو ہونے کا امکان
5 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 16 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  پاکستان کے رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کا کہنا ہے کہ یکم رمضان منگل 7 مئی کو ہونے کا امکان ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کے رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل مفتی خالد اعجاز کا کہنا ہے کہ نیا چاند ا ±س وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ ا ±س کی عمر غروبِ آفتاب کے وقت کم از کم 19گھنٹے اور غروبِ شمس و غروبِ قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40منٹ ہوجائے، اس کے علاوہ چاند کا زمین سے زاویائی فاصلہ کم از کم 6 ڈگری اور چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے۔مفتی خالد اعجاز نے کہا کہ رمضان المبارک کا چاند ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 3 بج کر 46 منٹ پر پیدا ہوگا، اتوار 5 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 16 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔ غروبِ شمس اور غروبِ قمر کا درمیانی فرق پاکستان بھر میں کہیں بھی 29 منٹ سے زائد نہیں ہوگا لہٰذا 29 شعبان المعظم اتوار کی شام چاند دکھائی دینے کی شہادتوں کا اگر کہیں سے بھی اعلان کیا جائے گا تو وہ تمام شہادتیں جھوٹی، غیر شرعی اور سائنسی لحاظ سے ناقابلِ یقین ہوں گی۔ (سی این آئی )
سنگھ پورہ پٹن میں محکمہ پی ایچ ای کی غفلت شعاری ، لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور
فلٹریشن پلانٹ قابل کار نہیں ، صاف پانی فراہم نہیںہوئی تو فلٹریشن پلانٹ کو مہندم کیا جائے گا / مقامی لوگ
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  سنگھ پورہ پٹن میں محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے لوگوں کو پینے کیلئے گندہ پانی فراہم کرنے پر مقامی لوگوں نے محکمہ کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں قائم فلٹریشن پلانٹ کو محض دھوکہ کیلئے رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کو خبر دار کیا کہ آنے والے دنوں میں لوگوں کو صاف پانی فراہم نہیں کیا گیا تو فلٹریشن پلانٹ کو مہندم کیا جائے گا ۔ سی این آئی کو نمائندے نے پٹن سے اطلاع دی ہے کہ سنگھ پورہ علاقے میں لوگوں کو پانی کے صاف پینے کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔نمائندے نے مقامی لوگوں آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ہار ٹرٹھ کول نامی نالے سے لوگوں کو پانی سپلائی فراہم کی جاتی ہے تاہم اس میں کافی گندگی اور غلاظت کے ڈھیر جمع ہے جس کے باعث مقامی لوگوں کو پینے کیلئے گندہ پانی سپلائی کیا جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں لوگ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ علاقے میں محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے ایک فلٹریشن پلانٹ بھی نصب کیا گیا ہے تاہم وہ محض لوگوں کیلئے ایک دھوکہ ہے اور قابل کار نہ ہونے کے باعث لوگوں کو گندہ پانی ہی سپلائی کیا جاتا ہے ۔ نمائندے کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ نالے میں کافی گندگی جمع ہونے کے باعث پانی تمام گندہ ہو گیا ہے جس کو مقامی آبادی میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی طرف سے نہ ہی نالے کی صفائی اور نہ ہی فلٹریشن پلانٹ کو صاف کیا جاتا ہے جس کے باعث لوگ گندہ پانی پینے کیلئے مجبور ہو رہے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق مقامی لوگ اب پینے کیلئے صاف پانی یا تو بازار سے خرید نے پر مجبور ہو رہے ۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا یا تو علاقے میں فلٹریشن پلانٹ کو قابل کار بنا کر لوگوں کو صاف پانی سپلائی کیا جائے یا پھر فلٹریشن پلانٹ کو بند کی ہی کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ دونوں میں علاقے کو صاف پانی پینے کیلئے فراہم نہیں کیا گیا تو مقامی لوگ فلٹریشن پلانٹ کو مہندم کرینگے ۔ اسی دوران جونہی نمائندے نے ایس ڈی ایم پٹن سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو محکمہ پی ایچ ای کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ لوگوں کو جلد از جلد صاف پانی فراہم کیا جا سکے ۔ (سی این آئی )
ہمالیہ میں نظر آئے ییتی کے نشان ؟ فوج نے جاری کی تصویریں
فوج نے اس عجیب مخلوق کے ہونے کی تصاویر کے ذریعے تصدیق کی
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  ہندوستانی فوج نے اپنے آفیشیل ٹویٹر ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کی ہیں ، جس میں برف کے درمیان بڑے بڑے پاوں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔کرنٹ نیوزآف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق ہمالیہ کی برف سے ڈھکی چوٹیوں پر ییتی کے رہنے کی بات آپ نے بھی سنی ہوگی ، کئی ایسے لوگ ہیں جو ییتی کو دیکھنے کا دعوی کرتے ہیں ، حالانکہ اس بارے میں کوئی ثبوت آج تک نہیں مل پایا ہے ، لیکن اس مرتبہ ہندوستانی فوج نے ییتی کی موجوگی کا دعوی کیا اور وہ بھی تصویروں کے ساتھ۔ہندوستانی فوج نے اپنے آفیشیل ٹویٹر ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کی ہیں ، جس میں برف کے درمیان بڑے بڑے پاوں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان نشانوں کو ییتی کا مانا جارہا ہے۔فوج کی طرف سے جاری ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہندوستانی فوج کی ماونٹینرنگ ٹیم نے 9 اپریل 2019 کو مکالو بیس کیمپ کے نزدیک 32 ضرب 15 انچ والے ییتی کے پراسرار پاوں کے نشان دیکھے ہیں۔ یہ پراسرار ییتی اس سے پہلے صرف مکالو – برون نیشنل پارک میں دیکھا گیا تھا۔بتادیں کہ ییتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پورے جسم میں بال ہوتے ہیں اور وہ انسانوں کی طرح چلتا ہے۔ ییتی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ہمالیہ اور تبتی علاقوں میں رہتا ہے۔ حالانکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ییتی ایک بڑی مخلوق ہے ، جو بندرکی طرح نظر آتی ہے ، لیکن انسانوں کی طرح دو پاووں پر چل سکتی ہے۔(سی این آئی )
سیر ہمدان علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ، لوگ پریشان
پینے کیلئے صاف پانی نہیں ، پل کی عدم دستیابی سے رابطہ کٹ، اسپتال میں بہتر طبی سہولیات کا فقدا ن
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  جنوبی ضلع اننت ناگ کے سیر ہمدان علاقے میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ پینے کے صاف پانی ، دہائیوں سے پل کی تعمیر اور سب ضلع اسپتال میں مریضوں کو بہم رکھی جا رہی غیر تسلی بخش سہولیات لوگوں کیلئے درد سر بن گئی ہے ۔ سی این آئی کو علاقے کے ایک وفد نے بتایا کہ سیر ہمدان علاقے میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو ندی نالوں سے گندہ پانی لاکر اسکو پینے کیلئے استعمال کرنا پڑ تا ہے ۔ وفد جس میں اشتیاق احمد کے علاوہ دیگر شہری شامل تھے نے بتایا کہ محکمہ پی ایچ ای علاقے کو صاف پانی سپلائی کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہو چکا ہے جس کا خمیازہ مقامی لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے اگرچہ کئی بار محکمہ کو آگاہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی توجہ فراہم نہیں کی ۔ وفد نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں ایک پل بھی دہائیوں سے زیر تعمیر ہے جو ہنوز تشنہ تکمیل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آر اینڈ بی نے اگرچہ رقومات بھی نکالی ہے تاہم ابھی تک پل کا تعمیر ی کام مکمل نہیں ہوا ہے ۔ جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاقہ علاقے میں قائم سب ضلع اسپتال میں بھی بہتر طبی سہولیات بہم نہ ہونے کے باعث مریضوں کا کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طبی سنیٹر میں خاطر خواہ انتظامات موجود نہ ہونے کے باعث مریضوں کو سرینگر یا دوسرے اضلاع کا رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کے باعث ان کی زندگیوں کا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے اس معاملے میں مداخؒت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی دستیابی کو جلدا ز جلد یقینی بنایا جائے ۔ (سی این آئی )
رفیع آباد میں آوارہ کتوں نے اودھم مچادی
لوگوںکا گھروں سے باہر نکلنا محال، متعلقہ محکمہ تماشائی
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  رفیع آباد کے درجنوں علاقوں میں آورہ کتوں نے اودھم مچادی ہے جس کی وجہ سے لوگ خوف زدہ ہوگئے ہیں جبکہ میونسپلٹی کمیٹی اس جانب کوئی موثر اقدام اُٹھانے سے قاصر دکھائی دے رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق آوارہ کتوں کی وجہ سے باشندگانہ راوچھہ گذشتہ دو سالوں سے پریشان ہے۔لوگوں کی شکایت ہے کہ میونسپل کمیٹی وترگام کے عہدےداراں رات کے وقت کتوں کو گاڑیوں میں بھر کے راوچھہ رفیع آباد جو کہ میونسپل کمیٹی کے حدود میں بھی نہیں آتا ہے یہاں آکر چھوڑتے ہیں۔راوچھہ رفیع آباد میں میں لوگوں نے سی این آئی سے بات کرتے ہوے کہا کہ ہر گلی میں کتے ہے اور کتوں کی یہ نسلیں پہلے یہاں موجود بھی نہیں تھی اور لوگوں نے میونسپل کمیٹی وترگام کو ذمہ دار ٹھرایا۔لوگوںنے کہا کہ متعلقہ ادارے کی اس جانب خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ لوگوںنے کہا کہ سکولی بچے صبح سکول جانے سے خوف محسوس کررہے ہیں جبکہ بزرگ و خواتین بھی اپنے گھروں سے باہر نکلنے میں ڈر محسوس کررہے ہیں۔علاوہ ازیں لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ مونسپل کمیٹی وترگام کے عہدہ دار رات کو یہاں کوڑہ کرکٹ بھی ڈالتے ہے جس کی وجہ سے راوچھہ رفیع آباد کی ندیاں آلودہ ہو گی ہے۔۔اس ضمن میں تحصیلدار ڈنگی وچھہ نے کہا کہ وہ اس معاملہ کو جلد از جلد حل کروائیں گے اور راوچھہ کے گاوں میں صفائی کی مہم چلائےں گے۔(سی این آئی )
 پاکستان میں 23 لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم
پولیو کے قطروں سے متعلق منفی پروپگنڈا بڑی وجہ قرارددی جارہی ہے
سرینگر /30اپریل / سی این آئی  پاکستان میں انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم کے باوجود تقریباً 23 لاکھ بچے پولیو سے بچاو ¿ کے قطرے نہیں پی سکے ہیں۔ حکام کے مطابق پولیو ویکسین کے بارے میں منفی پراییگنڈے سے پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان میں انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم کے باوجود تقریباً 23 لاکھ بچے پولیو سے بچاو ¿ کے قطرے نہیں پی سکے ہیں۔ حکام کے مطابق پولیو ویکسین کے بارے میں منفی پراییگنڈے سے پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔انسدادِ پولیو پروگرام سے منسلک ایک اعلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حالیہ مہم کے پہلے چار دنوں میں ملک بھر میں 23 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاو ¿ کے قطرے نہیں پلوائے جا سکے جو اب تک کسی بھی مہم میں پولیو ویکسین نہ پینے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔مہم کے آغاز پر پشاور میں پولیو ویکسین پینے کے بعد بچوں کی حالت خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آنے سے والدین پریشان ہو گئے تھے۔ لیکن بعد میں یہ خبریں غلط ثابت ہوئیں اور حکومت نے اسے پولیو مہم کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔پولیو ویکسین کے بارے میں جعلی خبروں اور افواہوں سے والدین میں تشویش بڑھی ہے اور پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔اس پانچ روزہ مہم کے دوران صرف اسلام آباد میں سات ہزار سے زائد بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کیا اور پولیو رضاکاروں نے والدین کو قائل کیا جس کے بعد پانچ ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے دیے گئے۔اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے بھی گذشتہ روز تصدیق کی تھی کہ 14402 بچے قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔یونیسیف کے ایک اہلکار نے نام نہ طاہر کرنے پربتایا کہ پشاور میں مہم کے خلاف منفی پراپوگنڈے کے بعد صرف خیبر پختونخوا میں تیرہ لاکھ بچے پولیو ویکسین نہیں پی سکے۔نیشنل پولیو پروگرام کی سابق سربراہ سنیٹر عائشہ رضا فاروق کہتی ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے نہ پلوانا تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں صرف ایک سے دو فیصد والدین پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کیا کرتے تھے۔عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ بچوں کو قطرے نہ پلوانے والے والدین کے خلاف حکومتی اقدامات نے اس مہم کے بارے میں خدشات کو تقویت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرے جس میں مخصوص علاقوں کے مسائل کے حل کے لئے مقامی سطح پر مہم چلائی جائے۔اس سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں پولیو کے کارکنوں پر حملوں اور سوشل میڈیا پر اس مہم کے خلاف پراپوگنڈے کے بعد پاکستان میں انسداد پولیو کے ادارے نے پولیو کے خلاف مہم کے بعض مراحل معطل کر دیے تھے جس میں کسی وجہ سے قطرے نہ پینے والے بچوں کی نشاندہی کر کے انھیں قطرے پلائے جاتے ہیں۔پاکستان میں رواں سال اب تک آٹھ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے چھ پولیو کیسز خیبر پختوانخوا میں سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کے سبب عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔(سی این آئی )
CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply