Urdu News

سالانہ امرتاتھ یاترا کے پر امن انعقاد کیلئے تمام تر سیکورٹی انتظامات کئے جائےں گے

Gazi Khursheed

سالانہ امرتاتھ یاترا کے پر امن انعقاد کیلئے تمام تر سیکورٹی انتظامات کئے جائےں گے
وادی کشمیر میں امن کی صورتحال بگاڑنے کی اجازت نہیں دی جائےگی ،فورسز ہر وقت متحرک اور چوکس / راجناتھ سنگھ
سرینگر/09جون/سی این آئی// لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ سیکورٹی فورسز جنگجوو ¿ں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تےار ہیں ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے شروع ہونی والی امرناتھ یاترا کے پر امن انعقاد کیلئے تمام تر سیکورٹی انتظامات کئے جائےں گے اور اس کیلئے رےاست کو مناسب تعداد میں سیکورٹی فورسز فراہم کی جائے گی ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دہلی حال ہی میں نو منتخب ہو ئے مرکزی وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے لائن آف کنٹرول پر راندازی کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دراندازی کا مقصد یہ ہے کہ وادی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال کو درہم برہم کیا جائے لیکن سیکورٹی فورسز حالات کو بنائے رکھنے کیلئے پوری طرح تےار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں رےاست جموں وکشمیر میں چوکسی برتی جارہی ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں سے بھی کہا گےا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک اور چوکس رہیں جبکہ جنگجوو ¿ں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے بھی سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح الرٹ پر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ وادی کشمیر امن کی صورتحال قائم ہورہی ہے لیکن سرحد پار کے عناصر سے خوش نہیں ہیں اور وہ لگاتار اس کو شش میں ہیں کہ حالات خراب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو بھارتی علاقے میں داخل کرنے کیلئے سرحد پار سے ہی ہر طرح کی مدد مل رہی ہے ۔راجناتھ نے واضح کیا کہ سرحد پار عناصر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں سرگرم جنگجوو ¿ں کو حالات خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائےگی۔ ماہ جولائی سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کے بارے میں سنگھ نے کہا کہ ےاترا میں رخنہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پرامن ےاترا کیلئے تمام تر حفاظتی انتظامات کئے جائےں گے اور اس کیلئے کشمیر میں معقول تعداد میں اضافی سیکورٹی فورسز تعےنات کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ےاترا اور یاترےوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائےں گے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائےں گے۔سنگھ نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمالی مشرقی ریاستوں میں جنگجویانہ سرگرمیوں کے بڑھتے واقعات پر مرکزی حکومت سنجیدگی کے ساتھ قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔
پاکستان جموں وکشمیرتنازع میں اہم فریق / شاہ محمود قریشی
حق خودارادیت کشمیریوں کابنیادی حق مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود
سرینگر/09جون/سی این آئی// حق خودارادیت کشمیریوں کابنیادی حق ہے، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے کی بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کشمیرمیں زمینی حقائق تبدیل کرنےکی کوشش کررہا ہے اور وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گیا ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کی ایک نجی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیرمیں کشمیریوں کے خلاف زیادتیاں جاری ہے جس کے باعث وہاں وہاں کے لوگ خوفزدہ ہیں،انہوںنے کہا کہ ہمارا عالمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے۔پاکستان کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی کے دونوں اطراف معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، وہ کیوں پوری کشمیری نسل کو قتل اور کشمیرمیں زمینی حقائق تبدیل کرنےکی کوشش کررہا ہے جب کہ اس نے ایسے علاقے پرقبضہ کرکھا ہے جو اس سے تعلق ہی نہیں رکھتا، سب سے بڑے جمہوریت کے دعویدار بھارت نے کیوں سینسرشپ لگائی ہوئی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حق خودارادیت کشمیریوں کابنیادی حق ہے، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے، سول سوسائٹی کشمیرکی صورتحال پر آواز بلند کرے اور بھارتی مظالم پرعالمی برادری کی بھی خاموشی ختم ہونی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان جموں وکشمیرتنازع میں ایک فریق ہے، لاکھوں کشمیریوں کی جانیں رائیگاں نہیں جائےگی اور ہمیں یقین ہے کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت کا دن قریب ہے۔(سی این آئی)
پاکستان، بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت کریں
کشیدگی، بگڑتے حالات دونوں کو بڑے بحران میں دھکیل سکتے ہیں/امریکی خارجہ ترجمان
سرینگر/09جون/سی این آئی// امریکا نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے پاکستان اوربھارت پر دوطرفہ بات چیت کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حامی ہیں تاہم اس ڈائیلاگ کی رفتار اور دائرہ کار کا تعین دونوں ملک خود کریں گے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق امریکی خارجہ ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمہ کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت اورپاکستان کے درمیان تعلقات کوآگے بڑھانے کے ہرمثبت اقدام کی حمایت کریگا، بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی میں کمی کے لیے دونوں ملکوں کوبراہ رست بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ دونوں ملکوں کو عملی تعاون سے ہی فائدہ پہنچے گا، کشیدگی اوربگڑتے ہوئے حالات دونوں ملکوںکوایک بڑے بحران کی سمت دھکیل سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ خطے میں قریبی معاشی تعلقات کی سمت پیش رفت سے روزگارکے مواقع پیدا، افراطِ زر میں کمی آئے گی جبکہ توانائی کی فراہمی میں اضافہ ہو گا، بھارت اورپاکستان کے درمیان مستحکم تعلقات، دونوں ملکوں اورخطے کی ترقی اورخوشحالی کے لیے ضروری ہیں۔(سی این آئی)
پنجرن پلوامہ اور ویری ناگ جنگلات میں مقامی جیش جنگجو ﺅں کی ہلاکت
مہلوک جنگجوﺅں کے آبائی علاقوں میں تعزیتی ڑتال جاری ، انٹر نیٹ خدمات بحال
سرینگر/09جون/سی این آئی// پنجرن پلوامہ اور ویری ناگ جنگلات میں خونین معرکہ آرائیوں میں دو ایس پی اوز سمیت پانچ مقامی جیش جنگجو ﺅں کی ہلاکت کے خلاف مہلوک جنگجوﺅں کے آبائی علاقوں میں اتوار کو بھی تعزیتی ہڑتال رہی جس کے باعث تجارتی و کارو باری ادارے بند رہی ۔ تاہم انٹر نیٹ خدمات بحال کی گئی ۔ سی این آئی نمائندے کے مطابق پنجرن پلوامہ اور وریری ناگ جنگلات میںفورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان خونین معرکہ آرائیوں میں حال ہی میں جنگجو صفوں میں شامل ہونے والے دو ایس پی اوز اور تین مقامی جیش جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ جن میں سے تین کا تعلق ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں،چوتھا ضلع شوپیان اور ایک اننت ناگ سے تعلق رکھتا تھا ۔ پانچ جنگجوﺅں کی یاد میں اتوار کو مسلسل دوسرے تیسرے مہلوک جنگجوﺅں کے آبائی علاقوں میں ہڑتا ل جاری رہی۔ نمائندے کے مطابق مکمل ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ تعلیمی اداروںمیں بھی تدریسی عمل متاثر رہا۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جس کے نتیجے میں یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھاجبکہ پُر تشدد مظاہروں کے پیش نظر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ادھر جاں بحق جنگجو ﺅں کے آبائی علاقے میں رقعت آمیز مناظر کے بیچ تعزیتی مجالس منعقد ہوئی۔ اسی دوران ضلع پلوامہ اور اننت ناگ میں دو دنوں بعد موبائیل انٹر نیٹ خدمات بحال کی گئی۔(سی این آئی)
مغل روڑ کے ذریعے کشمیر سے جموں جانے والی گاڑیوں سے بھاری انٹری فیس وصول
ٹرانسپورٹروں نے کیا سخت برہمی کااظہار ، متعلقہ ایس ایس پی اور آئی جی ٹریفک سے مداخلت کی اپیل
سرینگر/09جون/سی این آئی// مغل روڑ کے ذریعے کشمیر سے جموں اور راجوری جانے والی مسافر اور مال بردار گاڑیوں سے تھنہ منڈی کے مقام پر انٹری کے نام پر ہزاروں روپے اینٹھ لئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مغل روڑ سے جموں اور راجوری جانے والے ٹرانسپورٹر سخت پریشان ہے جنہوںنے اس معاملے کی چھان بین کرنے اور قصوروار ٹریفک عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایک طرف سرینگر جموں شاہراہ پر ٹرانسپورٹروںپر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا ہے دوسری طرف مغل روڑ پر کشمیر سے جموں اور راجوری جانے والی گاڑیوں سے انٹری کے نام پر ہزاروں روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق تھنہ منڈی راجوری کے مقام پر کشمیر سے آنے والی مسافر اور مال برداری گاڑیوں کو ٹریفک عملہ کے اے ایس آئی ذاکر حسین اور اس کا ساتھی مشتاق احمد کشمیر سے جانے والی مسافر گاڑیوں سے 500روپے انٹری کے نام پر وصول کرتے ہیں جبکہ مقامی گاڑیوں سے چار سو روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار ڈرائیورں سے کہتے ہیں کہ اگر انٹری فیس نہیں دو گے تو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیوں کہ اس فیس کا حصہ اُوپر کے افسران تک پہنچانا ہوتا ہے ۔ اس صورتحال پر روٹ پر چلنے والے ٹرانسپورٹروں نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ جگہ پر تعینات عملہ سے اس حوالے سے باز پُرس کی جائے اور معاملے کی تحقیقات عمل میں لائی جائے کیوں کہ یہ لوگ بغیر کسی رسید کے ہی انٹری فیس وصول کرتے ہیں اور محکمہ کے اعلیٰ افسران کے نام پر ڈرائیوروں سے روپے اینٹھ لیتے ہیں ۔ ٹرانسپورٹروںنے متعلقہ ایس ایس پی ٹریفک اور آئی جی ٹریفک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرکے قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں ۔ (سی این آئی)
سرینگر جموں شاہراہ پر مسافرگاڑیوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے خلاف
12جون کو وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی مکمل پہیہ جام کا اعلان
سرینگر/09جون/سی این آئی// پبلک ٹرانسپورٹ پر ٹیکس عائد کرنے اور گاڑیوں میں مہنگے آلات نصب کرنے کے سرکاری حکمنامے کے خلاف ٹرانسپورٹروںنے 12جون کو پہیہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی ٹرانسپورٹر ہڑتال کررہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پر مسافروں گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی 12جون کو ٹرانسپورٹر وںنے مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ٹرانسپورٹروں کے مطابق سرکار نے مسافر گاڑیوں میں ہائی ٹیک لوکیشن ٹریکنگ سسٹم نصب کرنے کا فرمان جاری کیا ہے جو خستہ حال ٹرانسپورٹ صنعت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے ۔ ٹرانسپورٹروں نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے پر 285روپے کا بھاری ٹیکس عائد کرنے خلاف وادی کے ساتھ ساتھ جموں کے ٹرانسپورٹر بھی 12جون کو مکمل ہڑتال کررہے ہیں ۔ ٹرانسپورٹروں کے مطابق ہائی ٹیک آلات قریب 20,000روپے کا ہے اور اس وقت ٹرانسپورٹر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ یہ مہنگا ڈیوائس گاڑیوں میں نصب کرسکیں ۔ اسلئے وادی کشمیر میں 12جون کو مکمل چکہ جام ہوگا اور اس روز کسی بھی طرح کی کوئی گاڑی نہیں چلے گی اس کے ساتھ ساتھ آٹو رکھشاءاور سومو بھی بند رہیں گی ۔ (سی این آئی)
مانسبل میں ایک فوجی اہلکار بندوق کی صفائی دوران ہلاک
پولیس نے معاملے کے حوالے سے کیس درج کرلیا ہے
سرینگر/09جون/سی این آئی// وسطی کشمیر کے مانسبل صفاپورہ میں ایک فوجی اہلکار بندوق کی صفائی کے دوران اچانک گولی چلنے سے ہلاک ہوگیا ہے ۔ پولیس نے اس حوالے سے کیس درج کرکے مزید کارروائی شروع کی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وسطی ضلع گاندربل کے مانسبل علاقے میں تعینات 3rdسیکٹر ہیڈ کوارٹر مانسبل میں 31پارا سے وابستہ فوجی اہلکار ترن کمار ساکنہ کٹھوعہ جموں اتوار کے روز معمول کے مطابق اپنی سروس رائفل کی صفائی کررہا ہے جس دوران اس کی اپنی ہی بندوق سے اچانک گولی چلی جس کی وجہ سے مذکورہ اہلکار شدید زخمی ہوااگرچہ اہلکار کو شدید زخمی حالت میں نزدیکی فوجی ہیلتھ فسلٹی سنٹر پہنچایا گیا جہاں سے اس کو بادامی باغ سرینگر کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ اس ضمن میں مقامی پولیس نے کیس درج کرکے مزید کارروائی شروع کی ہے ۔ (سی این آئی)
سوپور میں آوارہ کتوں کی یلغار، سات افراد زخمی
علاقے میں خوف و دہشت ، کتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
سرینگر/09جون/سی این آئی// شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں اتوار کے روز آوارہ کتوں کے ایک بے لگام جھنڈ نے قریب ہی جارہے کئی افراد پر اچانک حملہ کرکے سات افراد کو دیکھتے ہی دیکھتے کاٹ کھایا جن کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال علاج و معالجہ کےلئے پہنچایاگیا ۔ لوگوں پر آوارہ کتوں کے حملوں کی خبریں پھیلتے ہی قصبہ میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگوںنے آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کا زور دار مطالبہ کیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا وادی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے عام لوگوں کا جینا دوبھر بن گیا ہے۔ آئے روز آوارہ کتوں کے حملوں میں لوگ زخمی ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آوارہ کتے مرغوں کو بھی اپنا نوالہ بنارہے ہیں جبکہ کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے مویشی بھی ازجان ہوتے جارہے ہیں ۔ اس بیچ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ قصبہ سوپور میں اتوار کے روز آوارہ کتوں کے ایک جھنڈ نے راہ چلتے لوگوں پر اچانک حملہ کرکے کئی افراد کو زخمی کردیا ہے ۔سی این آئی کے مطابق سوپور کے ہاتھی شاہ علاقے میں کتوں کے جھنڈ نے لوگوں پر حملہ کرکے سات افراد کو یک بعد دیگر کاٹ کر زخمی کردیا جن کو فوری طور پر علاج و معالجہ کےلئے نزدیکی ہسپتال پہنچایا گیا ۔ اس واقع کی خبر پھیلتے ہی قصبہ میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جبکہ لوگوں نے آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ اس واقع کی تصدیق کرتے ہوئے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ زخمیوں میں سے علی محمد دھوبی ساکنہ ہاتھی شاہ کو مزید علاج و معالجہ کےلئے ایس ایم ایچ ایس سرینگر منتقل کیا گیا ہے ۔ (سی این آئی)
فضائیہ کے لڑاکا طیارے کو حادثہ
گوا ایئرپورٹ عارضی طور پر بند
سرینگر/09جون/سی این آئی// گوا ایئرپورٹ پر فضائیہ کے لڑاکا طیارے ’مگ-29 کے ‘ کا آئل ٹینکر پھٹ جانے کے باعث طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی جس کے باعث ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارہ MiG-29K کے آئل ٹینکر سے تیل خارج ہونے لگا جس کی وجہ سے فائٹر جیٹ طیارے کی گوا ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی فضائیہ کا یہ طیارہ انڈین نیوی کے زیر استعمال تھا۔ہنگامی لینڈنگ کے دوران رن وے پر تیل بکھر گیا جب کہ طیارے اور رن وے کو معمولی نقصان بھی پہنچا، رن وے کو صاف کرنے اور فائٹر طیارے کو ہٹانے میں 3 گھنٹے لگ گئے۔ حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کے ساتھ لمبی پرواز کے لیے اضافی ’فیول ٹینک‘ منسلک کردیا جاتا ہے، MiG-29K میں یہی ٹینک پھٹ گیا جس کے باعث ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ادھر 3 گھنٹے سے زائد ایئرپورٹ بند ہونے کے باعث ہوائی اڈے پر مسافروں کی قطاریں لگ گئیں اور پروازوں کی آمد و رفت کا نظام چوپٹ ہوکر رہ گیا، مسافروں نے شدید پریشانی کے عالم میں ایئرپورٹ انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کی۔(سی این آئی)
سب ڈسٹرک اسپتال پٹن کو منتقل کرنے کی خبریں بے بنیاد
افوا بازوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی /بی ایم او پٹن
سرینگر/09جون/سی این آئی// شمالی ضلع بارہمولہ کے پٹن علاقے میں ایک بے بنیاد خبر سب ڈسٹرک اسپتال پٹن کو ٹراما اسپتال منتقل کرنے کی افواہ پورے علاقے میں پھیل گئی۔جس کی وجہ سے لوگوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق علاقے میں سب ڈسٹرکٹ اسپتال پٹن کو ٹروما اسپتال میں منتقل کرنے کی جھوٹی خبر پھیلتے ہی لوگوں میں تشویش کی لہر دوڈ گئی جبکہ بنا کسی ثبوت کے پٹن ٹریڈارس یونین نے ایک خط پولیس اسٹیشن پٹن روانا کیا۔اس ضمن میں جب نمائندے نے بی ایم او پٹن سے بات کی تو انہوں نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ یا نوٹس جاری نہیں کی گئی اور یہ خبر بے بنیاد ہے جبکہ سب ڈسٹرک اسپتال اپنی جگہ ہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایسی بے بنیاد خبر پھیلانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہوگی انہوں نے پٹن علاقہ کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افواہ بازوں سے خبردار رہے۔بی ایم او پٹن ڈاکٹر مسرت اقبال نے علاقے کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوے کہا کہ ایسی جھوٹی خبر پر یقین نہ کرے اور آیندہ سخت احتیات برتےں۔(سی این آئی)
اسکول میں بچوں کی فیس، پلاسٹک کا کچرا
مضر ماحولیات سے نجات حاصل کرنے کےلئے حکمت عملی
سرینگر/09جون/سی این آئی// مدھیہ پردیش میں پالتھین لفافوں سے نجات حاصل کرنے اورماحولیات کو صاف رکھنے کےلئے کئی سکولوں کے منتظمین آگے آرہے ہیں۔ ایک سکول نے سکول فیس کے بدلے بچوں کو اپنے گھروں سے پالتھین کا کچرا لانے کو کہا ہے جس کے بعد علاقے سے پالتھین لفافیں مانو غائب ہی ہوگئے ہیںاور ماحول صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش میں ایک انوکھا اسکول کھولا گیا ہے جہاں بچے اسکول فیس کی مد میں سڑک سے اکٹھا کیا گیا پلاسٹک جمع کراتے ہیں۔اکشرنامی ایک سرکاری سکول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ پالتھین لفافوں کی وجہ سے ماحول کافی حد تک آلودہ ہوچکا ہے اور اب کئی سکولوں کے متنظمین آگے آرہے ہیں جو اس مضر صحت اور مضر ماحولیات پالتھین سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے طرح طرح کی حکمت عملیاں اپنارہے ہیں ۔ اکشر نامی اسکول کی انتظامیہ ری سائیکلنگ ’بازیافت‘ عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہےاور اسی مناسبت سے ’پلاسٹک اسکول فیس‘ کا تصور پیدا کیا گیا ہے۔ اسی لیے 2016 میں اکشر فورم کی بنیاد رکھی گئی اور ایک نہایت پسماندہ علاقے میں اسکول کھولا گیا۔پہلے پہل والدین نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے میں ہچکچاہٹ دکھائی لیکن اسکول فیس کی جگہ گھر سےخشک پلاسٹک کا کوڑا لانے کا کہا گیا تو دھیرے دھیرے کچھ بچے اسکول آنے لگے۔ اس علاقے کے لوگ اس سے قبل بڑی تعداد میں پلاسٹک اور کوڑا کرکٹ جلایا کرتے تھے اور خود کو گرم رکھتے تھے۔ اس سے قبل یہاں آنے والے بچے اطراف میں کام کرتے تھے یا قریبی کارخانے میں پتھر توڑنے کا کام کرتے تھے جس کے عوض روزانہ ڈھائی ڈالر کی رقم ملتی تھی۔اسکول میں بڑے بچے چھوٹے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور انہیں علامتی رقم دی جاتی ہے۔ پھر اس رقم سے اسکول انتظامیہ بچوں کو آن لائن اشیا خرید کر دیتی ہے جس میں کتابیں اور کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔سی این آئی کے مطابق اسکول میں تدریس کے علاوہ بچوں کو ماحولیات اور پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ بچے گھر جاکر اپنے والدین کو بتاتے ہیں کہ صرف سردی سے بچنے کے لیے پلاسٹک جلانا کس قدر نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بچے دن کا کافی وقت اسکول میں گزارتے ہیں اور بڑے بچے ان کو پڑھاتے ہیں۔بچے اس وقت تک اسکول میں پڑھتے رہتے ہیں جب تک ان کے لیے کوئی انٹرنشپ، کالج میں داخلے یا پھر نوکری کا انتظام نہیں ہوجاتا۔ اسکول میں ریاضی، انگریزی، سائنس کے ساتھ ساتھ کڑاہی، فوٹوگرافی، بڑھئی کا کام اور دیگر امور بھی سکھائے جاتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’اسکول سے روزگار‘ اس اسکول کا مرکزی نعرہ بھی ہے۔ پہلے یہاں 20 اسکول تھے اور اب 110 سے بھی زائد بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ہر بچے کو ہفتے میں پلاسٹک کچرے کے 25 ٹکڑے لانا ہوتے ہیں۔ اس کچرے کو ماحول دوست اینٹوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔مزین اور پرمتا دونوں اسکول کے بانیان میں شامل ہیں اور اب وہ پورے بھارت میں مزید 100 اسکول قائم کریں گے۔(سی این آئی)
وادی میں نقلی زعفران کاکارورباربڑے پیمانے پر ہونے کا انکشاف
اصل کے نام پر سیاحوں کو نقلی زعفران فروخت کیا جاتا ہے ۔ متعلقہ ادارے تماشائی
سرینگر/09جون/سی این آئی// وادی میں نقلی زعفران کاکاروبار بڑے پیمانے پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ وادی کی سیر پر آنے والے سیاحوں اور دیگر ریاستوں میں بھیجا جانے والا زعفران نقلی ہونے کی وجہ سے کشمیری زعفران سے جڑے افراد کو کافی نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے کیوں کہ نقلی زعفران کا کروبار کرنے والے اس کو کم قیمت پر فروخت کررہے ہیں جبکہ اصلی زعفران کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ادھر پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ نقلی زعفران فروخت کرنے والوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو مطلع کریں تاکہ ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں نقلی زعفران کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ نقلی زعفران کرنے والے وادی کی سیر پرآنے والے سیاحوں کو اصل کے نام پر نقلی زعفران فراخت کررہے ہیں ۔ اس کا کاروبار خاص طو رپر جھیل ڈل ، نشاط اور شالیمار کے علاوہ دیگر سیاحتی مقامات پر انجام دیا جاتا ہے ۔ نقلی زعفران کا کاروبار کرنے والے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کے خواب کو لیکر سیاحوں کو ٹھگ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ نقلی زعفران کا دھندہ کرنے والے افراد بیرون ریاست بھی اصل زعفران کے نام پر نقل بھیج دیتے ہیں ۔ نقلی زعفران کا کوروبار کرنے والے مکے سے نکلنے والی گھاس کے علاوہ اس میں پلاسٹک کا استعمال کرکے اس کو زعفرانی رنگ دیتے ہیں اور خریداروں کو ایک پیالی میں پانی ڈالکر نقلی زعفران کے چند تنکے ڈالکر زعفرانی رنگ نکالتے ہیں اور اپنے گراہکوںکو یقین دلاتے ہیں کہ یہ اصلی زعفران نے ۔ سی این آئی کوذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جھیل ڈل میں شکاروں اور چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر نقلی زعفران سیاحوں کو فروخت کیا جاتا ہے جبکہ نشاط گارڈن اور شالیمان گاڑن کے باہر چند دکانداروں کے ایجنٹ گراہکوں کو زعفران کے نام پر زہر فروخت کرکے سادہ لوح سیاحوں کو لوٹتے ہیں ۔ اگرچہ ٹورسٹ پولیس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہاس معاملے کی تہہ تک جائیں تاہم ان کی جانب سے اس معاملے میں خاموشی قابل افسوس ہے ۔(سی این آئی)
وادی میں آئے روز سڑک حادثات میں انسانی جانوں کا زیاں
ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے اور تیز رفتاری سب سے بڑی وجہ
سرینگر/09جون/سی این آئی// وادی میں سڑک حادثات میں انسانی جانوں کے زیاں پر آئے روز اضافہ کی وجہ سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ ٹریفک قوانیں پر عمل نہ کرنے اور تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانا حادثات کی بڑی وجہ ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق آئے روز ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوتاجا رہاہے جن کے دوران روزانہ قیمتی انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں ۔پہلے ایام میں سرینگر، جموں قومی شاہراہ یا سرینگر لداخ قومی سڑک یاپھر کبھی ڈوڑہ بھدرواہ کے دشوار گذار پہاڑی راستوں پر سڑک حادثات رونما ہوتے تھے،اوران حادثات سے پوری ریاست لرز جاتی تھی ۔لیکن آج کل روزانہ درجنوں لوگ شہروں اورقصبوں میں سفرکے دوران سڑک حادثات میں جاںبحق ہو رہے ہیں ۔انتظامیہ اور عام لوگ بھی ان حادثات کو سرسری طور لیتے ہیں ۔اگر شہر سرینگر کا ہی جائزہ لیا جائے تو قریب 2لاکھ چھوٹی بڑی گاڑیاں روزانہ سڑکوں پر چلتی پھرتی نظر آرہی ہیں ۔اکثر سڑکوں پر گھنٹوں تک ٹریفک جام ہوتا ہے کیونکہ نئی سڑکیں بنانے سے سرکار قاصر نظر آرہی ہے یہاں تک کہ سرکار پرانی سڑکوں کی مرمت بھی برائے نام کراتی ہے ۔سڑکوںپرروزانہ درجنوں لوگ موت کے نوالے بن جاتے ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی ،ڈرائیوروں کی تیز رفتاری،ٹریفک رولز کی خلاف ورزی ان حادثات کی بنیادی وجہ ہے ۔مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر جگہوں پر زیادہ تر حادثات موٹر سائیکل سواروں کے ہوتے ہیں کیونکہ موٹر سائیکل سوار بڑی تیز رفتاری سے سڑکوں پر فضول گھومتے نظر آتے ہیں اوروہ کسی بھی طورٹریفک قوانین کی پاسداری نہیں کرتے۔ اکثر موٹر سائیکل سوار آسودہ حال گھرانوں کے بگڑے بچے ہیں جو موٹر سائیکل پر صرف آوارہ گردی کرتے ہیں، کہیں ٹیوشن کے نام پرکہیں کالج جانے کے نام پر اور کہیں کسی اور نام پر یہ لڑکے والدین کو موٹر سائیکل خریدنے کیلئے مجبور کرتے ہیں لیکن بعد میں یہی سواری ان کے موت اور جسمانی طور ناخیز ہونے کا باعث بن جاتی ہے ۔ سرینگر ٹریفک پولیس نے ایک زور دار مہم ان موٹر سائیکل سواروں کےخلاف شروع کی تھی جس دوران سینکڑوں موٹر سائیکل ضبط کئے گئے، درجنوں کےخلاف عدالتوں میں چالان پیش کئے گئے تھے ۔ٹریفک پولیس کی اس مہم کو عوامی حلقوں میں سراہا گیا تھا لیکن چند دن بعد ہی یہ مہم ٹھنڈی پڑ گئی اور نتیجے کے طور آج پھر سڑکوں پر موت کا رقص ہو رہا ہے ۔ٹریفک یاسڑک حادثات پر عوامی حلقوں میں زبردست تشویش پائی جا رہی ہے ۔ٹریفک دباﺅ کو کم کرنے اور ٹریفک حادثات کو کم کرنے کیلئے سرکاری ایجنسیوں کو ایک دُور رس پالیسی اختیار کرنی ہو گی ۔سڑکوں کی کشادگی کرنی ہو گی ،تیز رفتاری کو روکنے کیلئے مختلف جگہوں پر خصوصی کیمرے نصب کرنے ہونگے تاکہ تیز رفتاری کے مرتکب پائے جانے والے لوگوں کی گاڑیاں یا تو ضبط کرلی جائےں یا ان کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کئے جائیں، تب جا کر یہ ممکن ہے کہ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر روک لگ سکتی ہے۔ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کو اس سنجیدہ مسئلے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے ،اوراسکے ساتھ ساتھ والدین پر ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موٹر سائیکل عیاشی کیلئے فراہم نہ کریں کیونکہ یہ سواری ان کی موت کا باعث بن رہی ہے ۔ٹریفک قوانین کے حوالے سے جانکاری اوربیداری مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے اوراس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کواہم رول اداکرناپڑے گاجبکہ سماجی سطح پربھی ایک بیداری کی ضرورت ہے اوراس سلسلے میں علمائے دین ،ایمہ مساجداورمدرسین کاہم بھی اہم رول بنتاہے۔(سی این آئی)
درجہ حر ارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی وادی کے کئی علاقوںمیں پینے کے پانی کی ہا ہا کار
اریگشن محکمہ کی جانب سے کسانوں کو بھی کھیت سیراب کرنے کیلئے پانی فراہم نہیں ہو رہا ہے
سرینگر/09جون/سی این آئی// درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی وادی کے اطراف واکناف میں پینے کے پانی کی شدید قلت نے سنگین رخ اختیار کیا ہے جنوبی ، وسطی ، شمالی کشمیر کے کئی علاقوںمیں لوگوں نے پی ایچ ای محکمہ پر الزام لگایا کہ وہ پینے کا پانی لوگوں کو فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے جبکہ کئی علاقوںمیں اریگشن محکمہ بھی کسانوں کو کھیت سیراب کرنے کیلئے پانی فراہم نہیں کر رہا ہے جس کی وجہ سے کسانوںمیں فکر وتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے نے اس حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی ہے ان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی اگر چہ ندی نالوںمیں پانی کی سطح کافی بلند ہو گئی ہے تاہم وادی کے اطراف واکناف میں پینے کے پانی کی ہا ہاکار مچی ہوئی ہے اور اکثر و بیشتر علاقوںمیں لوگوںکو پینے کا پانی حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ نمائندے کے مطابق بجبہاڑہ کے کئی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیم بیکارپڑی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو تین کلومیٹر کی مسافت طے کرکے نالہ لدر سے پینے کا پانی حاصل کرنے کیلئے مجبور ہوناپڑرہا ہے متعلقہ علاقے کے لوگو نے پی ایچ ای محکمہ کو بار بار اس بات سے آگاہ کیا کہ انہیں پانی کی ایک ایک بوندھ کیلئے ترسنا پڑ رہا ہے ۔ واٹر سپلائی کی مرمت ختم ہونے تک علاقے کے لوگوں کو ٹینکروں کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے تاہم متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے ۔ نمائندے کے مطابق قاضی گنڈ کے مضافات میں لفٹ واٹر سپلائی اسکیم کی تعمیر پانچ سال سے نا مکمل ہیں اور محکمہ کی طرف سے اس کا کام مکمل کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں جس کی وجہ سے کو ناصاف اور مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوناپڑرہا ہے۔ ادھر وادی میں دھان کی پنیری کھیتوں میں لگانے کا سلسلہ عروج پر ہے تاہم وشمالی و جنوبی کشمیر کے علاقوںمیں اریگیشن محکمہ کی جانب سے کسانوں کو کھیت سیراب کرنے کیلئے پانی دستیاب نہیں رکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کسان ذہنی پریشانیوںمیں مبتلا ہو گئے ہیں ندی نالوں کی وقت پر مرمت نہ کرنے کے باعث کسان پانی سے محروم ہو گئے ہیں اور ان کے کھیت لہلہانے کے بجائے ریگستان میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ (سی این آئی)

CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply