Urdu News

نت ناگ حملے میں پانچ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت افسوسناک 

Gazi Khursheed

ننت ناگ حملے میں پانچ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت افسوسناک
جنگجوﺅں کیخلاف کامیاب کارروائیاں کے بعد سرحد پار سے جنگجوﺅں کو فدائی حملہ کرنے کی ہدایت ملتی ہے /گورنر
سرینگر/13جون/سی این آئی// جنوبی ضلع اننت ناگ میں جنگجوﺅں کے حملوں میں پانچ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ اننت ناگ میں ہوئے حملے میں پاکستان براہ راست ذمہ دار ہے اور یہ حملہ بھی پاکستان کے کہنے پر ہوا ۔ سی این آئی کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے اننت ناگ میں جنگجوﺅں کے ایک حملے میں پانچ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے ہلاک شدگان کے گھروالوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔گورنر نے اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا” جب بھی فورسز کی مدد سے الیکشن کامیابی سے انجام دئے جاتے ہیں یا جنگجوﺅں کیخلاف کامیاب کارروائیاں کی جاتی ہیں تو سرحد کے دوسری طرف سے جنگجوﺅں کو آرڈر ملتے ہیں کہ وہ کوئی فدائی حملہ کریں۔ شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر ستیہ پال ملک نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘جب یہاں فورسزکے ہاتھ بھاری پڑجاتے ہیں تو پار سے فدائین حملے کی ہدایات آتی ہیں، یہ فدائین حملہ تھا، یہ کوئی معمولی حملہ نہیں تھا، لیکن میں اس حملے میں ملوثین کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ارادوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، ہم ان کو ختم کرکے ہی دم لیں گے’۔انہوں نے کہا کہ جب بھی یہاں حالات سدھرتے ہیں تو ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں۔گورنر موصوف نے اننت ناگ حملے کو پاکستان کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا: ‘یہ پاکستان کی سازش ہے یہاں پاکستان کے حکم سے فدائین حملے ہوتے ہیں، فدائین حملے یہاں کی کسی تنظیم کے نہیں ہوتے ہیں’۔امرناتھ یاترا کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘یہ حملہ یاترا کے روڑ پر ہوا ہے لیکن یاترا کے لئے فول پروف سیکورٹی ہوگی اور اس کے نزدیک کسی کو جانے نہیں دیں گے۔ (سی این آئی )
NETامتحان میں شامل ہو رہے کشمیری امیداروں کی پریشانیوں میں پھر اضافہ
امتحانی مرکز بیرون ریاستو ں میں قائم ، امید وار پریشان ، ریاستی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل
سرینگر/13جون/سی این آئی// قومی سطح پر منعقد ہونے والے مسبتی امتحانات میں شمولیت کرنے والے کشمیری امید واروں کی پریشانیوں میں ایک مرتبہ پھر اس وقت اضافہ ہو گیا جب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے NETامتحان میں شامل ہونے والے کشمیری امیدواروں کے امتحانی مراکز ریاست سے باہر قائم کئے گئے ۔ ادھر ڈی جی این ٹی اے کا کہنا ہے کہ جموں کشمیرکے امیدواروں کے امتحانی مراکز ریاست میں ہی قائم کرنے کیلئے وہ حکومت جموں کشمیر کے رابطہ میں ہے ۔ سی این آئی کے مطابق قومی سطح کے امتحان میں شامل ہونے والے جموں کشمیر کے طالب علموں کی بڑھتی پریشانیوں میں جمعرات کو اس وقت پھر اضافہ ہو گیا جب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی( این ٹی اے ) نے NETامتحان میں شامل ہونے والے سینکڑوںکشمیری امیدواروں کے امتحانی مراکز جموں کشمیر سے باہر قائم کئے گئے ہیں ۔ NETامتحان میں شامل ہونے والے ایک امیدوار نے سی این آئی کو بتایا کہ ان کا امتحان 20اور 28کے درمیان منعقد ہونے جا رہے ہیں تاہم ان کے امتحانی مراکز ریاست جموں کشمیر سے باہر رکھے گئے ہیں اور وہاں آنے جانے کیلئے خرچہ برداشت کرنا ان کی بس کی بات نہیں ہے ۔ امیدواروں کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے درخواستیں بھرتے ہوئے سنیٹرس کو کشمیر میں ہی رکھنے کو ترجیح دی تھی تاہم اس کے باوجود بھی ان کے امتحانی مراکز جموں کشمیر سے باہر رکھے گئے ہیں جو کہ ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ امید واروں نے مطالبہ کیا کہ ان کے امتحانی مراکز کشمیر میں قائم کئے جائیں تاکہ ان کو کسی بھی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ادھر اس حوالے سے جب ایک مقامی انگریزی روزنامہ نے ڈائریکٹر جنرل این ٹی اے سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ ہم ریاست جموں کشمیر کے مختلف محکموں سے رابطہ میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جموں کشمیر میں ہی مزید سنیٹروں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ امیدواروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ (سی این آئی )
موسم میں بہتری ، وادی کا بیرون ریاستوں سے زمینی رابطہ بحال
مغل روڑ اور سرینگر لہہ شاہراہ پر بھی درماندہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی
سرینگر/13جون/سی این آئی// وادی کشمیرکے موسم میں بہتری آنے اور دریا جہلم میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد سرینگر جموں شاہراہ ، مغل روڑ اور سرینگر لہہ شاہراہ پر ٹریفک کے لئے بحال کر دیا گیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ دریا جہلم میں پانی کی سطح کم ہونے کے ساتھ ہی مغل روڑ اور سرینگر لہہ شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بحال کر دیا گیاجس کے ساتھ ہی دونوں اطراف سے چھوٹی بڑی مسافر و مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ۔ٹریفک حکام کے مطابق شاہراہ کھولنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا گیا تھا تاہم مسلسل بارشوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر بھاری پسیاں گر آنے کے بعد شاہراہ کو صاف کر دیا گیا اور بدھ کی شام شاہراہ پر ٹریفک کی آمد رفت کی گئی ۔اسی دوران شاہراہ ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بحال ہونے کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں مسافر و مال براد گاڑی سرینگر پہنچ گئی جن میں ضروری ساز و سامان اور اشیائے خوردنی کے چیزیں بھی موجود تھی ۔ادھرگذشتہ روز بند کئے جانے کے بعدسرینگر۔لیہہ شاہراہ کو جمعرات کے روز دونوں طرف کی گاڑیوں کیلئے کھول دیا گیا۔حکام کے مطابق مذکورہ شاہراہ کو بدھ کے روز سونہ مرگ۔دراس علاقے میں تازہ برفباری اور پھسلین کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ زوجیلا علاقے میں تودے گر آنے اور پتھر کھسکنے کے خدشات کی وجہ سے بھی شاہراہ کو بند کیا گیا تھا۔تاہم آج موسم میں سدھارآنے اور شاہراہ کو قابل ٹریفک بنانے کے بعد اس کو گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے کھولدیا گیا۔ (سی این آئی )
کشمیر سیاحوں کےلئے بلکل محفوظ جگہ ، گورنر کے بیان کو ٹوراز م سے جڑے افراد نے صحیح قراردیا
وادی کی سیاحتی صنعت کو نیشنل میڈیا کے ذریعے تباہ کرنے میں منالی اور کٹرہ کے تاجر ذمہ دار
سرینگر/13جون/سی این آئی// سیاحت سے جڑے افراد نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی اُس بیان کو صحیح قراردیا جس میں گورنر نے کہا کہ نیشنل میڈیا کشمیر کے حوالے سے منفی پرپگنڈا کررہا ہے جس کی وجہ سے وادی میں سیاحتی صنعت کو کافی دھچکہ لگ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل میڈیا منالی، کٹرہ اوردیگر سیاحتی جگہوں میں کام کررہے تاجرون کی شہہ پر کشمیر سے متعلق منفی اور بے بنیاد خبریں شائع کررہے ہیں جس کی وجہ سے کشمیر میں ٹورازم ختم ہوچکا ہے انہوں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائیں تاکہ یہاں کی فوت شدہ ساحتی صنعت کو پھر سے زندہ کیا جاسکے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سیاحت سے جڑے افراد جن میں ہوٹل مالکان، رستوران مالکان، شکارے اور ہاوس بوٹ مالکان کے علاوہ ٹرانسپورٹروں ، کشمیر آرٹ سے جڑے افراد، ڈرائی فروٹ تاجر اور دیگر متعلقین نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اُس بیان کو صحیح قراردیا ہے جس میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے نیشنل میڈیا کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل میڈیا کے کشمیر کے حوالے سے منفی پروپگنڈا کی وجہ سے سیاحتی سیزن کو بڑا دھچکہ لگ چکا ہے اور یہاں کی ٹورازم انڈسٹری کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا تھا کہ گورنر موصوف نے یہاں رہ کر یہاں کے حالات کو از خود دیکھ لیا ہے اس لئے انہوں نے کشمیر کو سیاحوں کےلئے باالکل محفوظ جگہ قراردیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ وادی کشمیر سیاحوں کےلئے نہ صرف محفوظ جگہ ہے بلکہ یہاں کا آب و ہوا بھی سیاحوں کےلئے مفید ہے کیوں کہ ان دنوں بیرون ریاست مختلف شہروںخاص کر دلی، ممبئی ، گجرات، کولکتہ چنئی اور دیگر اہم شہروں میں گرمی سے لوگوں کا بُرا حال ہے اور تپتی دھوپ میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں تاہم وادی کشمیر میں قدرت اس قدر مہر بان ہے کہ یہاں پر دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت محض 22ڈگری ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر ٹورازم کو نئے سرے سے زندہ کرنے کےلئے زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز گورنر ستیہ پال ملک نے نیشنل میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کیا۔ سی این آئی کے مطابق گورنر نے بتایا کہ قومی میڈیا بیرون ریاست کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا کی چینلیں بیرون ریاست کشمیر کو منفی انداز میں پیش کررہی ہے جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ گورنر کے بقول اگر کشمیر میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو قومی میڈیا پر اس سے متعلق دو دو ہفتوں تک خبر نشر کی جاتی ہے اور یوں کشمیر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے تاہم میرے ضلع میں ہر روز 5افراد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن ان کی کسی بھی بھنک تک نہیں لگتی۔ ان سے متعلق کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جاتی۔ گورنرکے مطابق کشمیر میں کسی بھی سیاح پر پتھر نہیں پھینکا جاتا لیکن میرے ضلع مظفر نگر سہارانپور کی ہائے وے پر سیاحوں کو روزانہ لوٹا جاتا ہے مگر وہاں کا ذکر قومی میڈیا میں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کو بیرون ریاست منفی انداز میں پیش کرنے کا خالص مقصد کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔ (سی این آئی )
جے کے بینک کےلئے نئے چیرمین کی تقرری پر نئی دلی میں صلاح و مشورہ جاری
فہرست میں سابق نائب پریذیڈنٹ تفضل حسین اور رﺅف احمد بٹ بھی شامل
سرینگر/13جون/سی این آئی// جموں و کشمیر بینک کےلئے نئے چیرمین کے حوالے سے نئی دلی میں ریزروبینک آف انڈیا ، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقین کے مابین صلاح و مشورہ جاری ہے اس بین معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے بینک چیرمین کی فہرست میں تفضل حسین سابقہ وائس پریذیڈنٹ جموں کشمیر بینک اور سابقہ وائس پریذیڈنٹ (ایچ آر) جے کے بینک رﺅف احمد بٹ کے نام بھی فہرست میں ہیں اور خاصا امکان ہے کہ تفضل حسین کوچیرمین کے عہدے پر فائز کیا جائے گا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق رواں ماہ کی 8تاریخ کو جموں و کشمیر بینک کے سابقہ چیرمین پرویز احمد کو برطرف کرنے کے بعد آر کے چھبر کو عبوری چیرمین نامزد کیا گیا ہے تاہم بینک کےلئے مستقل چیرمین کے عہدے کےلئے کئی اہم شخصیات فہرست میں ہیں جن میں تفضل حسین سابقہ وائس پریذیڈنٹ جے کے بینک اور رﺅف احمدبٹ سابقہ وائس پریذیڈنٹ (ایچ آر) جے کے بینک شامل ہیں ۔ ان دونوں کی مالی ادارے میں اپنی بہترین خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی دلی میں اس سلسلے میں صلاح و مشورہ جاری ہے ۔ تفضل حسین سابقہ وائس پریذیڈنٹ مالی نظم و نسق سنبھالنے میں اپنا لوہا منواچکے ہیںاور انہوںنے بینک میں مختلف عہدے پر اپنے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائے ہیں ۔ تفضل حسین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ موصوف ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں ماہر بھی مانے جاتے ہیں اور اپنی محنت ولگن سے بینک بورڈ کے وائس پریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچ گئے جبکہ سماج میں بھی ان کو عزت و اکرام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ موصوف کو جے کے بینک کے چیرمین کے بطور نامزد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ رﺅف احمد کا نام بھی فہرست میں شامل ہیں جن کی بینک کے تئیں خدمات کو مد نظر رکھ کر انہیں بھی بینک کے چیرمین کے بطور لیا جاسکتا ہے ۔ رﺅف احمد نے بھی جموں و کشمیر بینک میں مختلف عہدے پر اپنے فرائض انجام دیئے ۔ سی این آئی کو معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئی دلی میں جاری مشاورت میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کو بھی نئے بینک چیرمین کے عہدے پر نئے چرمین کو نامزد کرنے سے پہلے اعتماد میں لیا جائے گا ۔یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ کی 8تاریخ کو ریاست کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے جموں کشمیر بنک کے چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹر کو عہدے سے برطرف کیا گیا۔ریاستی حکومت نے بنک کے ایگزیکٹو صدر آر کے چھبر کو بورڈ کا منیجنگ ڈائریکٹراور بنک کا عبوری چیئرمین نامزد کیا ۔محکمہ خزانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی طرف سے گذشتہ سنیچر کو ایک حکم نامہ زیر نمبر FD/BKG/21/2019محرر8جون2016جاری کیا گیا،جس میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر بنک چیئرمین پرویز احمد کو بنک کی ڈائریکٹر شپ کے عہدے سے معذول کیا جاتا ہے۔سی این آئی کے مطابقآر ڈر میں کہا گیاتھا”ریاستی حکومت نے ایسو سی ایشن آف جموں کشمیر بنک لمیٹیڈ دفعہ 69شق 3کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال میں لا کر جموں و کشمیر بنک کے چیئر مین و منیجنگ ڈائریکٹر پر ویز احمد کوچیئرمین کے عہدے اور بورڈ آف ڈائریکٹرس کی رکنیت سے فارغ کردیا ہے“۔حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ اس فیصلے کی رﺅ سے پرویز احمد ننگرو جموں کشمیر بنک کے نہ ہی چیئرمین ہوںگے اور نہ ہی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔مذکورہ آرڈر میں واضح کیا گیا ہے ” بنک کے ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آر کے چھبر کو بنک کے عبوری چیئرمین اوربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کیا جاتا ہے“۔آرڈر کے مطابق مذکورہ حکم نامے کا اطلاق فوری طور پر لاگو ہوگا۔ پرویز احمد ننگرو کو اکتوبر 2016میںتین سالہ مدت کیلئے جموں وکشمیر بنک چیئرمین کے عہدے پر تعینات کیا گیاتھا۔سابقہ چیرمین پرویز احمد کو برطرف کرنے کے بعد اگرچہ آر کے چبھرکو عبوری چیرمین نامزد کیا گیا ہے اور فی الحال وہی مالی ادارے کا کام کاج سنبھال رہے ہیں تاہم مرکزی وزارت خزانہ ریزرو بینک اور دیگر متعلقین بینک کے لئے نئے چیرمین کو مستقل طور پر نامزد کرنے کے حوالے سے آپسی صلاح و مشور کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اس ضمن میں اہم اعلان متوقع ہے ۔ بینک کے نئے چیرمین کےلئے فہرست میں بینک کے ہی کئی سابقہ عہد دار بھی شامل ہیں جنہوںنے بینک میں بہترین کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے ۔ (سی این آئی )
سوپورمیں منشیات سمگلر گرفتار کرنے کا پولیس کا دعویٰ
جموں میں ہیروئن ضبط، ریاستی و غیر ریاستی سمگلروں کی گرفتاری
سرینگر/13جون/سی این آئی// سوپور میں پولیس نے ایک شخص کو منشیات سمیت گرفتار کرلای ہے جبکہ جموں جمعرات کو پولیس نے مبینہ بین ریاستی منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کرکے ا ±ن کی تحویل سے ہیروئن بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا۔کرنٹ نیوزآف انڈیا کے مطابق پولیس نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ سوپور پولیس نے منشیات فروش غلام محی الدین ولد عبدالاحد ڈار ساکنہ لڈورا کی گرفتاری عمل میں لا کر اس کے قبضے سے کچھ مقدار میں براﺅن شوگر اور نقدی، 8ہزار 250روپیہ کی رقم برآمد کرکے ضبط کی۔بیان کے مطابق پولیس نے معاملے کی نسبت ایف آئی آر زیر نمبر 100/2019کے تحت ڈھنگی وچھی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔ادھر سرمائی دارلحکومت جموں میں جمعرات کو پولیس نے مبینہ بین ریاستی منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کرکے ا ±ن کی تحویل سے ہیروئن بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ایک گاڑی کو کانجیوانی علاقے میں روک کر ا ±س کی تلاشی کے دوران175گرام ہیروئن بر آمد کیا گیا۔انہوں نے گرفتار شدگان کی شناخت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں نثار احمد ساکنہ شوپیان کشمیر، سندیپ کمار ساکنہ جالندھر پنجاب،سندیپ کمار (دوم)ساکنہ بلاسپور ہماچل پردیش اور رگھبیر سنگھ ساکنہ جالندھر کے طور ہوئی ہے۔گرفتار شدگان کیخلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ (سی این آئی )
گلمرگ کے ایک مقامی ہوٹل میں ہولناک آگ کی واردات
اوپری منزل تباہ ، لاکھوں روپے مالیت کا نقصان ، سیاح محفوظ
سرینگر/13جون/سی این آئی// مشہور سیاحتی مرکز گلمرگ میں اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب ہوٹل گرین پارک میں پُر اسرار طور آگ رونما ہوئی ۔ آگ لگنے کے نتیجے سے ہوٹل کی اوپری عمار ت جل کر خاکستر ہو گئی جس کے باعث لاکھوں روپے مالیت کا نقصان ہوگیا ۔ سی این آئی کو نمائندے نے اس ضمن میں اطلاع دی ہے کہ شہر آفاق گلمرگ میں جمعرات کی صبح اس وقت افر اتفری کا ماحول پھیل گیا جب پر اسر ار طور ہوٹل گرین پارک میں ہولناک آگ نمودار ہوئی ۔ عین شاہدین کے مطابق ہوٹل کی اوپری عمارت سے آگ نمودار ہوئی جن نے دیکھتے ہی دیکھتے ہولناک رخ اختیار کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ آگ لگنے کے ساتھ ہی مقامی لوگوں نے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی اور ایس ایچ او اطہر پرویز کی قیادت میں پولیس کے ٹیم کے ہمراہ آگ پر قابو پانے کیلئے کارروائی شروع کی ۔ تاہم جب تک آگ پر قابو پالیا گیا تب تک ہوٹل کی اوپری منزل خاکستر ہو گئی تھی ۔ نمائندے کے مطابق آگ لگنے سے ہوٹل میں لاکھوں روپے کا نقصان ہو گیا ۔ جبکہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ بجلی شارٹ سرکٹ ہونے سے لگی ہے ۔ ایس ایچ او اطہر پرویز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گی ہے جبکہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے ۔ (سی این آئی )
اجتماعی عصمت دری معاملے میں گیارہ لوگوں کو عمر قید
6نابالغوں کا معاملہ خصوصی عدالت میں زیر غور
سرینگر/13جون/سی این آئی// جھارکھنڈمیں دمکا ضلع کی سیشن عدالت نے ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں آج گیارہ لوگوں کوتاعمر قید بامشقت کی سزا سنائی۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق جھارکھنڈمیں دمکا ضلع کی سیشن عدالت نے ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں آج گیارہ لوگوں کوتاعمر قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ضلع اور ایڈیشنل سیشن جج ( دوئم) پون کمار کی عدالت نے خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں سماعت کے بعد گیارہ لوگ جان مرمو، الوینوس ہیمبرم ، جے پرکاش ہیمبرم ، سبھاش ہنس داس ، سورج سورین ، مارشیل مرمو ، دانیل کسکو، سمن سورین ، انیل رانا ، شیلندر مرانڈی اور صدام انصاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376( ڈی) کے تحت قید بامشقت کے ساتھ 20-20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ جرمانے کی رقم ادا نہیں کرنے پر ملزمین کو ایک سال مزید جیل کی سزا بھگتنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کے ذریعہ 341/34,342/34,323/34 سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت بھی سزا سنائی گئی ہے۔غور طلب ہے کہ اجتماعی عصمت دری کی شکار متاثرہ کی شکایت پر17 لوگوں کے خلاف 07دسمبر 2017 کو دمکا مفصل تھانہ میں نامزد ایف آئی درج کی گئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق سات دسمبر کی شام کو متاثرہ گھومنے گئی تھی۔ اسی درمیان ملزمین نے زبردستی اسلحہ کا خوف دکھا کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کو انجام دیا تھا۔ درج ایف آئی آر پر فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے 36 گھنٹے کے اندر سولہ نامزد ملزمین کو گرفتار کر لیا تھا۔اس معاملے سے متعلق دیگر چھ نابالغوں کا معاملہ خصوصی عدالت ( چائلڈ کورٹ ) میں زیر غور ہے۔ (سی این آئی )
بازاروں میں کھانے پینے کی چیزیں گردوغبار میں رکھی جارہی ہے
جوتے ، ملبوسات اور دیگر چیزوںکو شیشے کی الماریوں میں رکھ دیتے ہیں
سرینگر/13جون/سی این آئی// بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاءکھلے میں فروخت کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں گردوغبار میں لپٹی استعمال کرنے والے لوگ کئی طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ہم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ دکاندار جوتے ،ملبوسات اور دیگر ایسی چیزیں شیشے کی المیاریوں میں رکھتے ہیں تاکہ ان کو دھول نہ پکڑے تاہم گوشت، دودھ ، پنیر اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءکو کھلے میں دھول چاٹنے کےلئے رکھا جارہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ماہرین صحت نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا ہے کہ وادی کشمیر میں محکمہ فوڈ سیفٹی کی کارکردگی زمینی سطح پر صفر ہونے کے نتیجے میں لوگ بازاروں سے خود ہی بیماریاں خرید رہے ہیں ۔ سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی ڈاکٹر صاحبان نے بتایا کہ آج کے جدید دور میں جب سب لوگ اس بات سے بخوفی واقف ہے کہ کھانے پینے کی اشیاءکو جتنی صاف وصفائی سے رکھا جائے گا بیماریاں اتنی ہی کم ہوں گی ۔ انہوںنے کہا کہ لوگ گوشت ، دودھ اور پنیر جیسی مقوی غذا اسلئے خریدتے ہیں تاکہ ان کے جسم کو توانائی ملے اور وہ صحت مند رہیں تاہم صحت کے برعکس وہ ان چیزوں کے استعمال سے کئی طرح کی بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں کیوں کہ ان چیزوں کو گردغبار سے بچانے کےلئے دکانداروں کوئی قدم نہیں اُٹھاتا ہے بلکہ ان کو دکانوں سے باہر یا کھلا رکھ دیتے ہیں تاکہ گراہکوں کی نظر ان اشیاءپر پڑے جس کے نتیجے میں بازاروں میں چلنے والی گاڑیوں کا دھواں ، سڑکوں سے اُٹھنے والی دھول اور ہوا میں پھیلے جراثوم ان چیزوں کو آلودہ کردیتے ہیں اس کے علاوہ ان چیزوں پر ایسے مکھیاں بھی منڈلاتی رہتی ہیں جو ناپاک چیزوں پر بھی بیٹھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ اشیاءکھانے کے لائق نہیںٰ رہتی ۔ ڈاکٹر صاحبان کا کہتا تھا کہ ہم اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ دکانوں میں جوتے ، ملبوسات، اور دیگر قسم کی ایسی ایشاءجس کو ہم کھانے پینے کےلئے استعمال نہیں کرتے اور جن کے اوپر اگر دھول بیٹھے گی تو ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کو شیشوں کی الماریوں میں گردوغبار سے محفوظ رکھتے ہیں اور گوشت، دودھ، پنیر، سبزیاں اور میوہ جات کو دھول چاٹنے کےلئے باہر سڑکوں پر رکھ دیتے ہیں تاکہ گراہکوں نظر اس پر پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ گراہکوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کس دکان میںکون سی چیز ملتی ہے تو ان کھانے پینے کی چیزوںکو کھلا رکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس کےلئے جو محکمہ قائم کیا گیا وہ بھی نظریں چراتا ہے جس کے نتیجے میں ایشاءخوردنی کو دھول و آلودگی سے محفوظ رکھنے کےلئے دکاندار کوئی طریقہ کار اختیار نہیں کرتا ۔ (سی این آئی )
شہر سری نگر کے نواحی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے اندرونی سڑکیں زیر آب
لوگوں کو عبور و مرور میں دشواریوں کا سامنا ،راحت کاری کےلئے انتظامات اُٹھانے کی ضرورت
سرینگر/13جون/سی این آئی// شہر سری نگر کے نواحی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے اندرونی سڑکیں زیر آب آچکی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو عبور و مرور میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، شہر کے نواحی علاقوں میں حالات زیادہ ہی خراب ہے اور ان علاقوں میں ڈرنیج کی عدم موجودگی کے باعث لوگوں کو ذبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر کے جن علاقوں میں لوگوں کے لئے اندرونی لنک روڈ نا قابل عبور و مرور بن چکے ہیں ان غالب آباد شالہ ٹینگ سیکٹرایک سے تا پانچ سیکٹر عثما ن آباد شالہ ٹینگ ،ھمدان ریذیڈنسی دومیل چوک لاوے پورہ،بمنہ ھمدانیہ کالونی ، شمس آباد سیکٹر ۳ ، بوٹ مین کالونی ، کرسو راج باگ ، اندرونی کرسو شامل ہیں ان علاقوں کے مکین سڑکیں زیر آب آنے کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی سڑکیں زیر آب آچکی ہیں جن سے پانی کے نکاس کے لئے سرکار کی طرف سے اقدامات اُٹھےائے جا رہے ہیں لیکن متذکرہ نواحی علاقوں کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ، ان علاقوں کے لوگوں نے اعلیٰ حکام سے مانگ کی ہے کہ ان علاقوں سے پانی کا نکاس کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ آبادک کے ایک بڑے حصہ کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے ۔ (سی این آئی )
وادی میں ٹرانسپورٹ کا بدترین نظام دہائیوں سے ایک ہی نہج پر
مسافر گاڑیوں کےلئے کوئی بھی بس سٹینڈ نہیں ، مسافر پریشان
سرینگر/13جون/سی این آئی// وادی میں ٹرانسپورٹ کا ابتر نظام عام لوگوں کو پریشانی کا سامناجبکہ مسافر گاڑیوں اور سومو والوں کی من مانیاں جاری ہے جبکہ متعلقہ محکمہ ہفتہ وصولی میں مشغول ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے ٹرانسپورٹ نظام میں جو خلل پڑی تھی وہ 2019میںبھی پوری نہیں ہو پارہی ہے ٹرانسپورٹ نظام کی ابتر صورتحال سے عام لوگ کئی طرح کی پریشانیوں میں مبتلاءہو چکے ہیں ، مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کہیں کسی گاڑی کا مستقل بس سٹینڈ نہیں ہے جہاں سے مسافر گاڑیاں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں مختلف روٹوں سے چلنے والی گاڑیاں لولچوک کے گردونواح میںآوارہ گھوم پھر رہی ہیں ان آوارہ گاڑیوں کےلئے لالچوک یا بٹہ مالو میں کہیں بھی مستقل بس سٹینڈ نہیں بنا ہے جہاں سے گاڑیاں اپنے اپنے روٹوں پر چلتی تاہم جہانگیر چوک، بڈشاہ برج ، مائسمہ، ایکسچینج روڑ مہاراجہ بازار اور دیگر جگہوں سے گاڑیاں مختلف روٹی کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے لالچوک میں ہر طرف مسافر گاڑیاں نظر آرہی ہے اوربدترین ٹریفک جام کے مناظر روز روز دیکھنے کو ملتے ہیں اگر مسافر گاڑیوں کے لئے بس سٹینڈ تعمیر کئے جاتے جہاں سے گاڑیاں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتی تو لالچوک اور گردونواح میں ٹریفک نظام کافی حد تک بہتر بن جاتا اس کے علاہ ٹریفک جام بھی زیادہ نہیں ہوتا ۔ سی این آئی کے مطابق صورہ، لالبازار حضرتبل، رعناواری حضرتبل، نور باغ قمر واری کے روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کےلئے ایک بس سٹینڈ ہونا چاہئے ، اور حیدر پورہ، بائی پاس، نٹی پورہ، چھانہ پورہ، باغ مہتاب، کرالپورہ ، گوپال پورہ وغیرہ روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کےلئے ایک الگ بس سٹینڈ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اس طرح سے قمر واری، بمنہ، لاوے پورہ و دیگر علاقوں کےلئے الگ بس سٹینڈ ہونا چاہئے اس طرح مختلف روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کےلئے علیحدہ علیحدہ بس اسٹینڈقائم ہونے سے مسافروں کو بھی اپنے منزل کی طرف جانے والی گاڑیاں آسانی سے دستیاب ہو سکتی ہے اور مسافروں کو در در کی ٹھوکریں کھانے سے نجات مل جاتی دوسری بات ٹرانپورٹروں اور مسافروں دونوں کا وقت بچ جاتا اور گاڑی والوں کا زیادہ تیل خرچ بھی نہیں ہوگا ۔ اس طرح ایک منظم طریقہ کار اپنا نے سے نظام ٹرانسپورٹ میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔ وادی میں مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی من مانیوں کی وجہ سے مسافر کئی طرح کے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ڈرئیور حضرات من چاہی جگہوں پر گاڑیاں روک کر اپنے پسند سے بس سٹینڈ بناتے ہیں ، جہاں چاہتے ہیں مسافروں کو چھوڑ تے ہیں اور جہاں انہیں مسافر رکنے کا اشارہ کرتے ہیں وہیں سے مسافروں کو گاڑی میں چڑھاتے ہیں ۔ اسی طرح سومو ڈرائیور بھی من چاہی قیمت مسافروں سے طلب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ 30برسوں سے متعلقہ محکمہ جات ٹرانسپورٹ کی اس ابتر صورتحال پر قانو پانے میں ناکام ہو چُکا ہے اور ٹرانسپورٹروں سے ہفتہ وصولی میں مگن ہیں ٹریفک پولیس اہلکار محض اسی لئے سڑکوں پر ڈیوٹی دیتے ہیں تاکہ مسافر گاڑیوں کے مالکان سے پیسہ بٹور سکیں اس کے علاوہ جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہے اس جانب وہ اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ (سی این آئی )
ٹنگمرگ اور پٹن کے مختلف علاقوں میں موسم کی قہرسامانیوں
شبیر میر کا اظہار تشویش ، متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے اقدامات اٹھانے کی مانگ
سرینگر/13جون/سی این آئی// ٹنگمرگ اور پٹن کے مختلف علاقوں میں موسم کی قہرسامانیوں کے نتیجے میں ہوئے جانی اور مالی نقصان پر دکھ اور صدمے کا اظہارکرتے ہوئے پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر شبیر احمد میر نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرین کی فوری بازآبادکاری اور امدادکاری کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پی ڈی پی لیڈر شبیر احمد میر نے حالیہ بارشوںکے باعث ٹنگمرگ اور پٹن کے کئی علاقوں میں بھاری نقصان ہو گیا ہے جبکہ فروز پور نالہ پر پل ڈہہ جانے سے درجنوں دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے ۔شبیر میر نے ڈویژنل انتظامیہ سے اپیل کی کہ فوری طور پر ٹیمیں تشکیل دیکر نقصانات کا تخمینہ لگاکر متاثرین کی امداد کی جائے اور ساتھ ہی جن لوگوں کے میوہ باغات ،دیگر فصلوں اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے اُن کی مالی معاونت کی جائے۔انہوں نے پٹن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے لوگوں کو درپیش مسائل سے راحت پہنچانے کی بھی تاکید کی۔جبکہ انتظامیہ سے متاثرین کی راحت رسانی کا مطالبہ کرتے ہوئے لقمہ اجل بنے افراد کے لواحقین کیساتھ ہمدردی کی ۔ (سی این آئی )

CNI News Desk
the authorCNI News Desk
Current News of India (CNI) is the first news agency of Jammu & Kashmir. The agency's news reports have a massive reach as they are carried by national as well as local newspapers.

Leave a Reply